Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

شاہین باغ اورنگ آباد انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے چند وضاحتیں( شہاب مرزا رکن کمیٹی )

اورنگ آباد شاہین باغ گذشتہ ۱۲ دن سے دہلی کے شاہین باغ طرز پر جاری ہے یہ احتجاج کسی بھی سیاسی سماجی یا ملی تنظیم کی جانب سے نہیں ہے بلکہ ایک عوامی تحریک ہے جسے نوجوانان اورنگ آباد نے ایک انتظامیہ کمیٹی بناکر اس زنجیری احتجاج کو شروع کیا۔

اس احتجاج کا مقصد کسی بھی سیاسی سماجی یا ملی تنظیم کو فروغ دینا نہیں ہے بلکہ یہ دہلی میں گذشتہ ایک ماہ سے زائد ٹھٹھرتی سردی میں احتجاج کررہی ہماری دلیر ماﺅں بہنو ںکی ہمت وحوصلہ افزائی اور اظہار یکجہتی کے لئے شروع کیاگیا تھا۔

اس احتجاج میں حکومت کی جانب سے نافذ کردہ کالے قانون کے خلاف جو بھی شخص اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہو وہ انتظامیہ کمیٹی اس شخص کو موقع دے رہی ہے۔ کچھ تقاریر کا انتخاب انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے کیا جاتا ہے جس سے احتجاج میں شریک ہونے والے شرکاءکے سامنے ہماری تاریخی احتجاجی کا مقصد اور کالے قانون کی نوعیت کو واضح کرسکے۔

ہم موجودہ حالات اور فاشسٹ قوتوں کی جانب سے کی جارہی چالاکیوں سے اتنے غافل ہے کہ ان احتجاجوں میں بھی خودنمائی کرنا ہے مٹھی بھر ٹولہ ملک کا شیرازہ بکھیرنے میں ہم ہماری وجود کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ اور اس میں بھی ہماری ذہنیت حد درجے گر چکی ہے ہم ان احتجاج کو فائدے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

پچھلے۰۷ سالوں سے قوم کا معاملہ توست گوشت اور بے ہوش والا تھا سیاست سیکھنے میں ۰۷ سال لگ گئے اور جب سیاست کرنا سیکھے تو احتجاج نظر آئے شاہین باغ کی شروعات خواتین نے کرکے مردوں کی غیرت کو جھنجھوڑا ہے جب جاکر ہم مستقل احتجاج میں شامل ہوئے ورنہ ۵ کا میمورنڈم اس پر۵۱ دستخط ۰۲ روپئے کی فوٹو اور سو روپئے اخبار میں شائع کرنے کرنے کی یہ ہمارا معمول تھا اس کوہم ذمہ داری سمجھ کر کرتے تھے۔ میمورنڈم دے کر ڈویژنل کمشنر آفس سے نکلتے نکلتے ہی سارا قوم کا درد ختم ہوجاتا تھا۔لیکن اب مسلمانوں کو اپنے مستقل مزاجی سے باہر نکل کر حق کی صدا بلند کرنی ہے اور دنیاوی شہرت کو جوتوں کی نوک پر رکھنا ہوگا۔

اگر ہم اس پر عمل کرتے ہیں تو ہی ہم منزل پر پہنچ سکتے ہیں ورنہ خودنمائی اور سستی شہرت کے لئے کئے گئے کام کو اللہ رب العزت بھی قبول نہیں کرتا۔ اس احتجاج میں انتظامیہ کمیٹی نے سبھی تنظیموں جماعتوں اور سیاسی پارٹیو ںکے لے کوئی پابندی نہیں رکھی ہے اس احتجاج کو علمائے کرام سمیت کمیونسٹ پارٹی تحریک اسلامی بام سیف بھیم آرمی جیسی فکری تنظیموں کی تائید حاصل ہے لوگوں کا اعتراض ہے کہ یہ مسلم احتجاج بنتا جارہا ہے جبکہ یہ ملک کی سالمیت کا معاملہ ہے اس لئے اس احتجاج کو سبھی سیکولر تنظیمو ںنے مل کر لڑنا چاہئے لیکن بقول پرکاش امبیڈکر کے مسلمانوں ملک کے ۰۴ فیصد ہندوﺅں کو بچالو اس تحریک کی نمائندگی ہم ہی کرینگے اب بھی لوگ مسلمانوں کو سیکولر ہونے کی بات کررہے ہیں جبکہ اس ملک کو تعمیر کرنے میںساری محنتیں مسلمان کی ہی ہیں اس میں کوئی شک کرنے کی بات نہیں ہے مسلمان سیکولر نہیں ہے یہ بات غلط ہے۔

جولوگ مسلمانو ں کو سیکولرہونے کا مشورہ دے رہے ہیں انہیں ملک کے اکثریتی طبقہ کو سیکولر ہونے کا مشورہ دینا چاہئے کہ ان احتجاجات میں جو طبقات حصہ لے رہے ہیں وہ اپنے نعرے لگارہے ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے تو مسلمانوں پر ان کے نعروں کی پابندی کیوں؟ ہمیں یہ طئے کرنا ہوگا کہ یہ احتجاجی تحریک کس کی ہے اگر یہ مسلمانوں کی برپاکی ہوئی تحریک ہے تو مسلمانوں کو یہ اپنے اقدار پر لڑنی ہوگی جس سے ملک میں ایک مثال قائم ہو ۔