شام میں کرد ٹھکانوں پر ترک فضائیہ کی بمباری، کم از کم 12 ہلاک

139

ترکیہ کی فضائیہ نے شمالی شام کے مختلف علاقوں میں بمباری کر کے کرد شامی ڈیمو کریٹک فورسز کے کم از کم چھ ممبران سمیت بارہ حکومتی حامیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ نے رپورٹ کیا ہے۔ترکیہ کی طرف سے یہ حملہ کردوں کی جماعت پی کے کے پر استنبول میں دھماکے کرنے کے الزام کے بعد کیا گیا ہے۔

وزیر دفاع ترکیہ نے اس حملے سے پہلے کہا تھا کہ ‘سب کچھ ملبہ بنانے کی گھڑی آچکی ہے۔ ‘ وزیر دفاع کا یہ بیان ترک وزارت دفاع نے اتوار کی صبح ٹویٹ کیا تھا۔ اس ٹویٹ کیے گئے بیان کے ساتھ ایک جہاز کے ٹیک آف کرنے کی تصویر بھی ٹویٹ کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ کسی گروہ کا نام لیے بغیر انتہائی سخت انداز میں گالی کی زبان استعمال کرتے ہو ئے کہا گیا تھا کہ ‘ ۔۔۔۔ کو اپنے حملوں کے لیے احتساب کا سامنا کرنا ہو گا۔’وزارت دفاع کی طرف سے ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھیک ٹھیک نشانے لے کر ان کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک ویڈیو بھی ٹویٹ کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہدف کو تلاش کی جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی دھماکے کی آواز آتی ہے۔

تاہم انقرہ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔ کردش فورسز کا بتانا ہے کہ ترکیہ کے حملے کا ہدف شمال مشرقی شام میں کوبین کا علاقہ تھا۔ واضح رہے اس کوبین شہر کو ہی داعش نے قبضے میں لیا تھا۔

امریکی اتحادی فوج ایس ڈی ایف کے چیف کمانڈر مظلوم عابدی نے اپنے ایک ٹویٹ ‘ کہ ترکیہ کی بمبار ی سے ہمارے محفوظ علاقوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ‘ ٹویٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ‘ بمباری میں حلب، حسکیہ میں بمباری کی گئی ہے۔ ‘

شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ گنجان آباد علاقے کو ہدف بنایا گیا ہے، نیز ان علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں شامی رجیم کی فورسز تعینات ہیں۔

ترکیہ کے وزیر دفاع خلوصی اکار نے اتوار کے روز اپنے بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عراق اور شام میں عسکریت پسندوں کے خلاف ہونے والے ‘آپریشن شمشیر بدست’ کا آغاز وسطی استنبول میں ہونے والے دھماکے کے تقریباً ایک ہفتے بعد کیا گیا۔

ترک وزیر دفاع کے ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ فضائیہ کے آپریشن سنٹر سے حملے کی ہدایت کی تھی۔ مزید کہا کہ ترک مسلح افواج کے پنجے ایک بار پھر دہشت گردوں کے سر پر ہیں۔