شادیوں میں سنت کو پس پشت ڈالنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین، گستاخی و بے ادبی

0 36

ناندیڑ:انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل ڈاکٹر عبدالعلیم خان فلکی کا خطاب

ناندیڑ:9؍نومبر ( شیخ اکرم) ڈاکٹر عبدالعلیم خان صاحب فلکی (صدر سوشل ریفارمز سوسائٹی، حیدرآباد)نے انوارالمساجد میں خطاب کرتے ہوئے غیر اسلامی طریقے سے شادی کے مضمرات پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ جب تک مسلمان سنت کے مطابق غیر ضروری رسم و رواج اور بیجا اخراجات سے پاک شادی کرنے کو ترجیح نہیں دیں گے تب تک مسلم معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ شادیوں میں غیر اسلامی اخراجات و رسومات کے سبب معاشرتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بے شمار مسلم گھرانوں کے افراد کی زندگی، بھاگ دوڑ، تگ وودو صرف اور صرف شادی کے اخراجات کی تکمیل کا انتظام کرنے میں صرف ہورہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ مثبت سرگرمیوں کی طرف پوری طرح راغب نہیں ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ سادی سے نکاح کرنے کی صرف ایک سنت کو نظر انداز کرنے کے سبب آج مسلم معاشرہ انتہائی بھیانک نتائج و عواقب کا سامنا کررہا ہے۔ مسلم لڑکیاں غیر مسلموں سے شادی کرنے پر مجبور ہیں اور تعلیم و معیشت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر اسلامی رسم ہے اور رشوت و بھیک ہے۔ علاوہ ازیں شادی کے موقع پر ضیافت و تناول طعام کا نظم لڑکی کے اہل خانہ پر ظلم ہے اور ایک قسم کا سوشل بلیک میل ہے اور لڑکے والوں کا یہ جملہ ’’ خوشی سے جو دینا ہے دے دیجئے ‘‘ ایک عیاری و مکاری اور دھوکہ بازی ہے۔ آج جو لوگ جہیز اور گھوڑے جوڑے کے نام پر پیسے لے رہے ہیں کل جب ان کی بیٹیوں یا بہنوں کی باری آئے گی تو احساس ہوگا کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے جو ہم ایک دوسرے پر کررہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ہمیں بحیثیت مسلمان آسان اور سادگی سے انجام دی جانے والی شادیوں کی ستائش و ہمت افزائی کرنی چاہئے اور رسم و رواج کے ساتھ انجام دی جانے والی مشکل شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم حاجی نمازی، علامہ مولانا، مفکر و دانشور، عابد و زاہد کا لقب پانے کے بعد بھی عملی طور پر ایسی شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنے سے قاصر ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ جب لوگ شادی کا دعوت نامہ لائیں تو ان سے کہا جائے کہ ہم ہر گز ایسی شادی میں شرکت نہیں کریں گے جس میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی خلاف ورزی ہورہی ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ (مفہوم) اے ایمان والوں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے حاصل مت کرو اگر تم اللہ و رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ جہیز و گھوڑے جوڑے کے نام پر پیسوں کا مطالبہ کرنا بالکل حرام ہے اور حرام کا ایک دانہ بھی پیٹ میں چلا جائے تو چالیس دن تک کوئی دعا قبول نہیں ہوتی اگرچہ کعبہ و بیت اللہ میں بیٹھ کر کی گئی ہو۔ آج مسجدوں میں جزوی و فروعی، مسلکی و اضافی مسئلوں کی بحث و تکرار اور دھوم ہے بلکہ ان مسائل کو اپنی شخصیت کے اظہار و ناموری کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ لیکن شادی جیسے اہم معاشرتی مسئلہ پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ طلاق کے موضوع پر جس طرح پورے ملک کے مسلمان حرکت میں آئے اُسی طرح شادیوں کے مسئلہ پر بھی مسلمانوں کو کوششیں کرنی چاہئیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ عموماً جہیز کی خرابیوں اور سادگی سے شادی کرنے کی سنت پر تقریریں ہوتی ہیں لیکن جب تک اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی تب تک تبدیلی نہیں آسکتی۔ اس کا حل حدیث کی روشنی میں یہ ہے کہ اگر تم برائی کو دیکھو تو اُسے ہاتھ سے روک دو، اگر ہاتھ سے نہ روک سکتے ہو تو زبان سے روک دو، اور اگر زبان سے بھی نہ روک سکتے ہو تو پھر کم از کم دل سے برا جانو۔‘‘ یہ مسئلہ کا حل ہے۔ لیکن آج کسے پڑی کہ وہ یہ سب کرسکے۔ بلکہ عافیت اسی میں سمجھی جاتی ہے کہ لوگ ناراض نہ ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے مقابلہ میں ’’ لوگ کیا کہیں گے‘‘ والی سوچ ایک قسم کا شرک ہے اور شادیوں میں سنت کو پس پشت ڈالنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین گستاخی و بے ادبی ہے۔ ( ایک اللہ والے کا قول ہے کہ شادی میں غیر شرعی رسوم کو انجام دینا ایسا ہی ہے جیسے نماز میں بیڑی پینا)۔اپنا خطاب کے آخری لمحات میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ شادی کے موقع پر ہونے والی رسومات و حرام کاموں کے سبب بے حسی کا مرض بڑھ رہا ہے اور بے حسی کسی بھی قوم کے لئے موت کی علامت ہے۔ اس موقع پر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے سادگی سے شادی انجام دینے کا عہد کیا۔