شاتم رسولﷺ سلمان رشدی وینٹی لیٹر پر، آنکھوں، ہاتھ اور جگر پر ضربات : حالت تشویشناک، بولنے سے سے قاصر : ایجنٹ

2,081
کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے ایک بیان میں کہا کہ ’مصنف سلمان رشدی پر سٹیج پر تقریب کے دوران حملہ کیا گیا، اور اب وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور بولنے سے قاصر ہیں۔ ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو جانے کا امکان ہے۔‘

متنازع برطانوی مصنف سلمان رشدی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پرمبنی کتاب’شیطانی آیات‘ لکھنے پر ایرانی لیڈر آیت اللہ علی خمینی نے واجب القتل قرار دیا تھا پر امریکا میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ مغربی نیویارک میں لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔متنازع ناول نگار کے وکیل نے کہا کہ رشدی کو زخمی ہونے کے بعد وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے اور وہ بات نہیں کر سکتے ہیں۔سلمان رشدی کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ہستال منتقل کیا گیاانہوں نے کہا کہ "خبر اچھی نہیں ہے اور رشدی اپنی ایک آنکھ کھو چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی رگیں کٹ گئی ہیں اور ان کے جگر کو چاقو حملے میں نقصان پہنچا ہے‘‘۔

نیویارک پولیس نے تصدیق کی کہ رشدی کی گردن میں چھرا گھونپا گیا تھا۔ انہیں سر پر معمولی چوٹ بھی آئی ہے۔مصنف پر حملہ کرنے کے بعد اسے علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

رشدی کے سیکرٹری نے اطلاع دی کہ مصنف کی سرجری ہوئی ہے، جب کہ نیویارک اسٹیٹ کے گورنر کا کہنا ہے کہ ایک پولیس اہلکار نے رشدی پر حملے کے وقت اس کی جان بچائی۔

نیویارک پولیس نے بتایا ہے کہ حملہ آور نیو جرسی سے تعلق رکھنے والا ہے جس کی شناخت 24 سالہ ہادی مطر کے نام سے کی گئی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس کے پیچھے کسی قوت کا ہاتھ ہے یا قاتلانہ حملہ اس کا انفرادی اقدام ہے۔

واقعے کے کئی گھنٹے بعد پولیس نے بتایا کہ رشدی کی ابھی بھی ہنگامی سرجری ہو رہی ہے۔ وہاں موجود لوگ حملہ آور کو نیچے لانے اور اسے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

ایران نے برطانوی مصنف رشدی کو قتل کرنے والے کو تقریباً 3 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کی ہے۔

ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای نے رشدی کے قتل کا ایک فتوی یا فرمان جاری کیا تھا۔ بھارت میں اس طرح کے توہین رسالت کے واقعات گاہے گاہے ہوتے رہتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا ہوتا ہے۔

حملے کے بعد لوگ رشدی کی مدد کو لپکے

ایرانی روحانی لیڈر آیت اللہ خمینی نے رشدی کے سر کی قیمت تین ملین یا تیس لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔ جس طرح آج کل اپنے دشمنوں کے سروں کی قیمت لگائی جاتی ہے۔