کرپشن کے سنگین الزامات پر ہائیکورٹ نے اندرون 15 یوم ابتدائی انکوائری کا حکم دیا

ممبئی : بامبے ہائیکورٹ نے مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف سابق ممبئی پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کے عائد کردہ کرپشن کے سنگین الزامات کی آج سی بی آئی کو اندرون 15 یوم ابتدائی انکوائری کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ کے حکمنامہ کے بعد دیشمکھ نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ چیف جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس جی ایس کلکرنی کی بنچ نے کہا کہ یہ غیر معمولی اور عدیم النظیر کیس ہے جو آزادانہ تحقیقات کا متقاضی ہے۔ بنچ نے 52 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں کہا کہ دیشمکھ کے خلاف پرمبیرکے الزامات نے اسٹیٹ پولیس پر شہریوں کے بھروسہ کو متزلزل کردیا ہے ۔ عدالت نے کہا اکہ کسی برسر خدمت پولیس آفیسر کی جانب سے ریاستی وزیر داخلہ کے خلاف اس طرح کے الزامات کو نظر انداز ن ہیں کیا جاسکتا اور اس کی تحقیقات کرنا ضروری ہے۔ بادی النظر میں اگر کوئی قابل گرفت جرم کا کیس بنتا ہے تو تحقیقات کرانا بالکلیہ واجبی اقدام قرار پاتا ہے۔ دالت نے کہا کہ آزاد ادارہ کی طرف سے اس کیس کی انکوائری ضروری ہے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے اور عوامی اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے ۔ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ مفاد عامہ کی تین عرضیوں اور ایک کریمنل رٹ پٹیشن پر جاری کیا ہے جو گزشتہ ماہ داخل کئے گئے تھے ۔ ان عرضیوں میں درخواست کی گئی تھی کہ معاملہ کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے۔ ان میں سے ایک عرضی خود پرمبیر نے داخل کی اور دیگر دو ایڈوکیٹ گھنشام اپادھیائے اور مقامی ٹیچر موہن بھیڈے نے دائر کئے ۔ فوجداری عرضی شہر کے ایڈوکیٹ جے شری پاٹل نے داخل کی ہے۔ ہائیکورٹ نے پاٹل کی عرضی پر ہی سی بی آئی انکوائری کا حکم جاری ہے ۔ بقیہ عرضیوں کو ختم کردیا گیا۔ پرمبیر نے 25 مارچ کو داخل کردہ اپنی عرضی میں دیشمکھ کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کرانے کی استدعا کی تھی۔ دیشمکھ کے تعلق سے پرمبیر نے کہا ہے کہ انہوں نے معطل پولیس آفیسر سچن واز کے بشمول مختلف پولیس عہدیداروں سے ہر ماہ بارس اور ریسٹورینٹس سے 100 کروڑ روپئے وصول کرنے کیلئے کہا ہے ۔ دیشمکھ نے اس کی تردید کی ہے ۔ دریں اثناء چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے نے سینئر این سی پی لیڈر دلیپ والسے پاٹل کو نیا وزیر داخلہ مقرر کیا ہے۔ وہ سابق میں اسپیکر رہ چکے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں