سی اے اے کو سپریم کورٹ میں ڈی ایم کے نے چیلنج کیا

498

نئی دہلی: تمل ناڈو میں حکمراں جماعت دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ڈی ایم کے نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 من مانی ہے۔

کیونکہ اس کا تعلق صرف 3 ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے ہے۔ ڈی ایم کے کا کہنا ہے کہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 میں صرف 6 مذاہب یعنی ہندو، سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈی ایم کے صدر اسٹالن کی طرف سے ایک میمورنڈم تیارکیا گیا تھا اور ایک کروڑ شہریوں کے دستخط تھے۔ اسے صدر مملکت کو بھیجا گیا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 (سی اے اے) کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر اب 6 دسمبر کو سماعت ہوگی۔ آج چیف جسٹس (سی جے آئی) یو یو للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے آسام اور تریپورہ سے کہا کہ وہ 3 ہفتوں میں اپنا جواب داخل کریں۔

سپریم کورٹ نے درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل پلوی پرتاپ اور مرکز کی جانب سے کنو اگروال کو نوڈل افسر مقرر کیا۔ دونوں مل کر تمام دستاویزات تقسیم کریں گے اور فریقین کو دیں گے۔ تمام فریقین کو تین صفحات کے تحریری دلائل دینابتایا گیا ہے.

آئندہ دو ہفتوں میں درخواست گزاروں کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کل 232 درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔