نئی دہلی: قومی راجدھانی کے لٹین زون میں مرکزی حکومت کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر جاری تنازع کے درمیان دہلی وقف بورڈ کی جانب سے قدیمی ضابطہ گنج شاہی جامع مسجد کے امام کو برطرف کیے جانے سے پورے معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کی وجہ سے علاقے میں واقع 5 تاریخی مساجد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس میں 1740 میں تعمیر ضابطہ گنج شاہی جامع مسجد بھی شامل ہے۔ یہ خبریں ابھی چل ہی رہی تھیں کہ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے وزیراعظم اور مرکزی شہری ترقی کے وزیر کو خط لکھ کر 10 روز کے اندر وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر دہلی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات کہی ہے۔ حکومت کی طرف سے ابھی وضاحت بھی نہیں کی گئی تھی کہ دہلی وقف بورڈ نے ضابطہ گنج مسجد کے امام کو یہ کہہ کر برطرف کر دیا کہ وہ غلط بیان بازی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔

امانت اللہ خان کی طرف سے لکھے گئے خط میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے علاقے میں واقع جن پانچ مساجد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے ان میں انڈیا گیٹ کے نزدیک واقع ضابطہ گنج مسجد، ادیوگ بھون کے قریب سنہری باغ روڈ کے چوراہے پر واقع سنہری مسجد، کرشی بھون کے اندر موجود مسجد، نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کے اندر موجود مسجد اور ریڈ کراس روڈ پر پارلیمنٹ مسجد شامل ہیں۔ مذکورہ مساجد تقریباً 100 سال سے زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہیں۔ غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعے دہلی کے وی وی آئی پی علاقے لٹین زون میں سینٹرل وسٹا پروجیکٹ شروع کیے جانے کے بعد سے ہی اس علاقے میں موجود تاریخی عمارتوں کے تعلق سے لوگوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس طرح کی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ 5 مساجد بھی پروجیکٹ کی زد میں آسکتی ہیں۔

دوسری طرف وقف بورڈ کے ماتحت ضابطہ گنج مسجد کی امامت سے برطرف کیے گئے مولانا اسد خان فلاحی نے ’قومی آواز‘ سے ’فون‘ پر بات کرتے ہوئے صاف طور پر کہا کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ سے ضابطہ گنج مسجد کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ مسجد کی ایک میٹر جگہ چھوڑ کر پروجیکٹ کا تعمیری کام کیا جا رہا ہے۔ مولانا فلاحی نے کہا کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے سینئر انجینئروں نے بھی کہا ہے کہ وہ مسجد کو کسی بھی طرح کا نقصان نہیں پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا ودیگر ذرائع ابلاغ میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کی وجہ سے ضابطہ گنج شاہی مسجد کو خطرہ ہے۔ اس وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے تھے، ان کے اندراشتعال پیدا ہو رہا تھا، سبھی لوگ خوف اور دہشت میں تھے اوراس لئے کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا تھا۔

مولانا فلاحی کے مطابق مسجد کی جگہ چھوڑ کر کام کیا جارہا ہے اس لئے مسجد کے ذمہ دار کی حیثیت سے میرا اخلاقی، مذہبی اور سماجی فریضہ ہے کہ میں لوگوں کو سچ بات بتاؤں اور یہی میں نے کیا تو اس میں غلط کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج شاہی امام احمد بخاری اورمولانا مفتی مکرم احمد سے بھی میری بات ہوئی اورانھوں نے بھی میرے بیان کی حمایت کی ہے- ایسی صورت میں وقف بورڈ کی کارروائی پر مولانا فلاحی نے کہا کہ ابھی تک بورڈ کی طرف سے مجھے کوئی آرڈر نہیں ملا ہے۔ مولانا سے جب کہا گیا کہ وقف بورڈ کہہ رہا ہے کہ پہلے بھی غلط بیان بازی کی وجہ سے آپ کو ہٹایا جاچکا ہے، اس پرمولانا فلاحی نے کہا کہ وہ بھی کہیں سے کوئی بات سن کرمجھے ہٹایا گیا تھا مگر ایک ہفتہ کے اندر ہی بحال کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اصول یہ کہتا ہے کہ پہلے آپ شوکاز نوٹس دیں اور پھر جواب سے مطمئن نہ ہونے پر کارروائی کی جائے۔

مولانا فلاحی نے کہا کہ ہم جمہوریت میں رہ رہے ہیں، کوئی ڈکٹیٹر شپ تھوڑی ہے کہ جس کو آپ جب چاہیں ہٹا دیں۔ دہلی وقف بورڈ کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریز کرتے ہوئے مولانا فلاحی نے بورڈ کی کارروائی کو دبی زبان میں ڈکٹیٹر شپ سے تعبیر کیا۔ مولانا کا کہنا ہے کہ انہیں غیر قانونی طریقے سے ہٹایا گیا ہے وہ اعزازی طور پر امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں اور اس کے لئے وہ بورڈ سے کوئی اعزازیہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا موصوف دہلی وقف بورڈ کے پینل پر بھی موجود نہیں ہیں نیز انہیں کارروائی سے قبل نوٹس دے کر ان کا موقف بھی نہیں سنا گیا۔

غور طلب ہے کہ ضابطہ گنج مسجد میں وقف بورڈ کے مقررہ کردہ امام مولانا جلال الدین کے انتقال کے بعد 2004 میں ان کے فرزند مولانا اسد فلاحی کو مسجد کا اعزازی امام مقرر کیا گیا تھا اور تب سے مولانا فلاحی مسجد کی امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ 1740 میں تعمیر شدہ ضابطہ گنج شاہی مسجد 281 سال پرانی ہے اور 100 سال سے پرانی عمارت آثار قدیمہ میں آتی ہے اس لئے سینٹرل وسٹاپروجیکٹ کے لئے 100 سال سے زیادہ پرانی کسی بھی عمارت کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا رہی ہے۔ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ اور مساجد پر انہدامی کارروائی کے اندیشے اور خدشات کو لے کرماحول گرم ہو رہا ہے وہیں دوسری طرف اب تک کسی بھی مسجد کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ہے۔ ضابطہ گنج مسجد کے امام مولانا اسد خان فلاحی کے ساتھ سنہری مسجد کے امام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں اب تک کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ہے۔