Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

سیرتِ یوسف علیہ السلام

*سیرتِ یوسف علیہ السلام*

*قسط اول________جاری*

رب ذوالجلال نے اس کارگاہ عالم میں بنی آدم کی تخلیق کی، بعدہ ہدف تخلیق کو بڑے نرالے انداز میں قرآن مجید میں بیان کیا، فرمان باری تعالیٰ ہے "اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کیلئے وجود بخشا" (سورہ ذاریات/56) مذکورہ حکم باری تعالیٰ میں لفظ "عبادت" سے صرف نماز، روزہ، حج، زکوة، تسبیح، تحمید اور تہلیل وغیرہ ہی مراد نہیں ہے بلکہ اس مراد میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی غیراللہ کو اللہ کا ہمسر و ہم پلہ نہ سمجھا جائے اور تمام ادیان باطلہ سے تعلق منقطع کر کے صرف معبودِ حقیقی کے سامنے سر بسجدہ ہو جیسا کہ مشہور عالم دین شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ رقم طراز ہیں "یہ آیت کریمہ توحید کے وجوب پر دال ہے"۔ اور یہی وہ مہتم بالشان عمل ہے جسکی نشرو اشاعت کیلئے رب دوجہاں نے عالم رنگ و بو کا سب سے چنندہ، شریف، بااخلاق و با صفات اور اعلی صفت سے متصف انسانوں کی کثیر تعداد کو دنیا میں مبعوث فرمایا اور سب کی آمیختہ یہی پکار تھی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگوں) صرف ایک اللہ کی بندگی کرو اور اسکے سوا تمام معبودوں سے اجتناب کرو"۔ (سورہ نحل/56)
اور جس نے ان میں سے کسی ایک کی دعوت سے اعراض کیا گویا انہوں نے سارے نبیوں کی دعوت سے اعراض کیا دلیل "وقومُ نوحٍ لَمَّا کذَّبُوا الرُّسُلَ أغرقنٰھم وجعلنٰھم للنَّاس آیة" (سوره فرقان/37) اور حب قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلا یا تو ہم نے انھیں غرق کردیا اور لوگوں کیلئے انھیں نشان عبرت بنا دیا۔ اللہ نے اس آیت میں لفظ ٫٫رسل،، کو جمع تکسیر کے ساتھ استعمال کیا ہے حالانکہ نوح علیہ السلام پہلے رسول تھے اس کا واضح مطلب ہے کہ ہر رسول کا ایک ہی پیغام ہے۔ جس نے ان میں سے ایک کی تکذیب کی گویا اس نے سارے رسولوں کی تکذیب کی۔
قارئین کرام: کتنے قابل احترام اور معزز و مکرم ہیں انبیاء علیہم السلام کی دعوت۔ رب کائنات نے ان میں سے کسی ایک کی تکذیب کو سارے نبیوں کی تکذیب قرار دیا۔
انہی خرمن ہستیوں میں سے ایک بہت ہی خوش نصیب اور باتمکین ہستی جنکی نسل مسلسل تین نبیوں سے ملتی ہیں
یعنی یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام
جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں ہے راوئ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما ہیں فرماتے ہیں ((ا لکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام))(صحیح بخاری،کتاب الانبیاء،باب:اذاحضر یعقوب الموت)رقم الحدیث 3382)
یعنی یوسف علیہ السلام خود نبی، نبی کا فرزند، نبی کا نبیرہ، اور ایک چوتھے نبی یعنی حضرت ابرہیم علیہ السلام کا پڑپوتا ہے انکے نام کی قرآن میں ایک مکمل سورت ہے۔ جس میں ایک سوگیارہ آیات ہیں، وہ کل بارہ بھائ تھے ان میں صرف بنیامین ان کے حقیقی بھائی تھے جو ان سے کم عمر تھے اور یہ دونوں فرزند ارجمند یعقوب علیہ السلام کی ٫٫راحیل یا راعیل،، نامی شریک حیات کے بطن سے جلوہ افروز ہوئے تھے باقی ماندہ دس علاتی (ماں کی طرف سے سوتیلا بھائی) بھائی تھے دیکھنے میں وجیہ و جمیل، نرگس و نسترن، آفتاب و مہتاب، خوش وضع و خوبرو اور سڈول جسم والے تھے۔
انسان کی اولاد سے والہانہ محبت فطری تقاضہ ہے اور چھوٹی اولاد سے والدین نسبتاً زیادہ پریم و محبت کرتے ہیں، دوسرا سبب یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کی والدہ دنیا سے رحلت فرما چکی تھی اور تیسرا سبب یہ تھا کہ دوسرے اخوان کے بالمقابل صالح اور نیک سیرت تھے اور حسن وجمال کے بارے میں تو کیا کہنا۔ اسی طرح ایک سبب یہ بھی تھا کہ صغر سنی میں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، شمس و قمر انھیں سجدہ کر رہے ہیں جب جگر پارہ نے یعقوب علیہ السلام کے روبرو خواب کو بیان کیا تو انھیں اپنے لخت جگر، نور نظر کا روشن مستقبل نظر آگیا کیونکہ سپنا بڑا واضح تھا جس میں شک وشںبہ کی گنجائش نہیں تھی۔ چونکہ یعقوب علیہ السلام ایک نبی ہونے کی حیثیت سے جانتے اور سمجھتے تھے کہ گیارہ ستاروں سے مراد گیارہ بھائ، سورج سے مراد یوسف علیہ السلام کے والد محترم اور چاند سے مراد انکی سوتیلی ماں ہیں جو انہیں بیک وقت سجدہ ریز ہیں۔ اِنہیں چیدہ چیدہ وجہوں کے بناپر آپ اپنے والد یعقوب علیہ السلام کے بھرپور لاڈوچاہ کے توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے لیکن قربان جاؤں ایسے نبی پر جنکی حیات مبارکہ دوسرے انبیاء کی طرح ابتلاء و آزمائش، اختبار و امتحان سے پُر تھے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ زندگی کے موسم بہار میں ایسی خزاں آئی کہ خود ان کے اپنے ہی بھائی ان کی جان کے لالے پڑ گئے اور بغض و کینہ اور حسد و رشک کی ایسی نہ بجھنے والی آگ اخوان کے مابین بھڑک اٹھی کہ انہوں نے اپنے پروپیگنڈے کے مطابق اس درخشندہ و تاباں یوسف کو اندھیرا کنواں کے حوالے کر کے مگر مچھ کے آنسوں بہاتے دیر شب جھوٹے مکر کے ساتھ حساس یعقوب علیہ السلام کے سامنے حاضر ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

قلمکار
شوکت عزیز محمدی
خادم: محمدیہ مسجد و مدرسہ راویر مہاراشٹر، ہند