سید علی اشرف کی قیادت میں حاجی ملنگ درگاہ ٹرسٹیان کی کابینی وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ سے ملاقاتاوہاڈ نے وفد کی باتیں سننے کے بعد ہر ممکن مدد کرنے و حالات پر امن رکھنے کی ڈی سی پی کو تقلین کی
تھانہ(آفتاب شیخ)
معروف بزرگ حاجی عبدالرحمان شاہ بابا المعروف حاجی ملنگ بابا درگاہ شریف، کلیان پر انتہا پسندوں کی شر انگیزیوں سلسلہ بڑھ گیا ہے جس کو لیکر ممبرا کے سینئر لیڈر و اقلیتی کمیشن کے سابق رکن قائد نونسل سید علی اشرف کی قیادت میں درگاہ ٹرسٹیان نے تھانے میں جتیندر اوہاڈ کی رہائش گاہ پران سے ملاقات کر حالات سے آگاہ کیا جس پر جتیندر اوہاڈ نے ان کی باتیں سننے کےبعد ڈی سی پی سے بات کر انھیں یہاں حالات پر نظر رکھنے اور امن وامان قائم رکھنے کی تلقین کی۔
درگاہ حاجی ملنگ پر گذشتہ روز یہاں فرقہ پرست تنظیم کی جانب سے شر انگیزی کے بعد حالات پرکشیدہ ہوگئے تھے وہ لوگ اب یہاں آئے دن آرتی کرنے لگے ہیں جس سے زائرین کو پریشانی و درگارہ کی بے حرمتی ہورہی ہے گزشتہ روز کے مسئلہ میں پولیس پر یکطرفہ کاروائی کا بھی الزام ہے جنھوں نے یہاں سے کئی مسلم نوجوانوں کو بےجا گرفتار کر کیس بھی کردیا ہے ۔ اس میں مزید شہ دینے کو مہاراشٹر نو نرمان سینا کے تھانے ضلع صدر اویناش جادھو بھی جارہے تھے جنھیں پولیس نے راستے میں حراست میں لے لیا تھا ان حالات کے باعث ممبرا کے سینئر سماجی کارکن سید علی اشرف کی قیادت میں آج جمعہ کی نماز سے قبل درگاہ کے ٹرسٹیان نے کابینی وزیر ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کر انھیں حالات سے آگاہ کیا اس میٹنگ کے بعد سید علی اشرف نے ذرائع ابلاغ سے بات کی و کہا کہ نوجوانوں کو پولیس نے زیادتی کے ساتھ جبراً گرفتار کر الٹے ان پر ہی کیس بنا دیا ہے۔ اس میٹنگ میں موجود اقلیتی کمیشن کے سابق رکن سید علی اشرف نے بتایا کہ اس گرفتاری و حالات کے سلسلہ میں جتیندر اوہاڈ نے مقامی ڈی سی پی سے تفصیل سے بات کی اور کہا کہ اودھو سرکار کا نام ہی انصاف کی سرکار کسی کے ساتھ نہ تو زیادتی برداشت کی جائے گی اور نہ ہی کسی کو شرانگیزی پھیلانے کا موقع دیا جائے گا۔ سید علی اشرف نے بتایا کہ وزیر موصوف نے ان گرفتار و جن پر کیس چل رہا ہے لڑکوں کے متعلق کہا کہ اگرچہ وہ بے گناہ ہیں تو جلد ہی کیس ختم کردیا جائے اور پولیس کو درگاہ کے علاقہ میں سخت بندوبست رکھنے اور کسی بھی قسم کی ڈھیل نہ دینے کی تنبیہ کیا۔ اس متعلق مزید جانکاری کے لئے اس وفد میں شامل ترسٹیان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی تفصیلی معلومات حاصل نہیں ہوسکی۔