اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ تمبور کے لوجہاد معاملے میں گزشتہ چارماہ سے جیل میں مقید 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں، کو آج ستیاپورکی ٹرائل کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ ٹرائل عدالت کے جج بھگوان داس گپتا نے ملزمین جنتن ابراہیم، افسر جہاں اسرائیل، شمشاد، رفیق اسماعیل، جاوید شاکر علی اور محمد عاقب منصوری کی ضمانت منظورکرلی ہے۔ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ رضوان، ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور ایڈوکیٹ فرقان خان نے ملزمین کی ضمانت کے لئے عرضی داخل کی تھی۔وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ لڑکی واپس آگئی ہے اور اس نے پولس کو دیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہےکہ اسے جبراً مذہب تبدیل کرنے کے لئے اکسایا نہیں گیا ہے اور نہ ہی اسے اغوا کیا گیا تھا، لہذا لڑکی کے بیان کی روشنی میں ملزمین کو فو راً جیل سے رہا کیا جانا چاہئے، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمین کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت یہ گرفتاریاں ہوئی تھیں وہ ملک کے آئین کے رہنما اصولوں کے سراسرخلاف ہے، اس لئے ہم ضمانت سے مطمئن نہیں ہیں بلکہ ضمانت کی جگہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ عدالت یہ مقدمہ خارج کردیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔


اپنی رائے یہاں لکھیں