ممبئی 28 دسمبر
یوپی کے سیتا پور شہر سے لوجہاد قانون کے تحت گرفتا دس ملزمین جس میں دو خاتون بھی شامل ہیں کے مقدمات لڑنے کا بیڑا جمعیۃ علماء ہند نے اٹھایا ہے۔گرفتار شدہ مسلم ملزمین کی عبوری ضمانت اور مبینہ مفرور ملزمین کے تحفظ(ضمانت قبل از گرفتاری) کے لیئے لکھنؤ ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس ضمن میں ملزمین کے اہل خانہ نے مولانا وکیل احمد قاسمی(ضلع جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء سیتا پور، یوپی) کے توسط سے صدرجمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی سے قانونی امداد طلب کی جسے صدر جمعیۃ نے منظور کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کو ہدایت دی کہ گرفتار شدگان کی جیل سے رہائی کے لیئے کوشش کی جائے جس کے بعد گلزار اعظمی نے وکلاء کو مقدمہ لڑنے کے لیئے احکامات جاری کیئے۔
اس تعلق سے آج گلزار اعظمی نے ممبئی میں کہا کہ گرفتار شدگان کے لواحقین نے صدر جمعیۃ علماء ہند سے درخواست کرنے کے ساتھ ساتھ ایڈوکیٹ شاہد ندیم (لیگل ایڈائزر جمعیۃ علما) سے بھی رابطہ قائم کیا اور انہیں مقدمہ کے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے انہیں اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گذارش کی جس کے بعد ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے ا یڈوکیٹ فرقان خان کو لکھنؤ سے سیتاپور بھیجا تاکہ وہ معاملے کے تعلق سے مزید تفصیلات حاصل کرسکیں۔ایڈوکیٹ فرقان خان نے سیتار میں ملزمین کے لواحقین سے ملاقات کرکے معلوما ت حاصل کی جس کے مطابق پولس نے دس لوگوں کوگرفتار کیا ہے جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں، ملزمین پر ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی کا اغواء کرنے کا الزام ہے جبکہ پولس نے بعد میں ملزمین پر لو جہاد قانون(غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس) بھی نافذ کردیا۔
اس معاملے میں 29 نومبر کو پہلی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس کے بعد پولس نے مزید دس ملزمین کو گرفتار کیا ہے جبکہ کئی ایک کو مفرور قرار دیا ہے۔ گرفتار شدگان میں شمشاد احمد، رفیق اسماعیل، جنید شاکر علی،محمد عقیل منصوری، اسرائیل ابراہیم، معین الدین ابراہیم، میکائیل ابراہیم، جنت الا براہیم، افسری بانو اسرائیل عثمان بقرعیدی شامل ہیں۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کے لواحقین کے مطابق واقعہ ہونے کے بعد سے ہی علاقے میں خوف و حراس کا ماحول ہے اور ابتک ملزمین کی مدد کرنے کے لیئے کوئی بھی آگے نہیں آیا ہے نیز ملزمین کی معاشی حالت ایسی نہیں ہیکہ وہ عدالت جاسکیں لہذا انسانیت کا تقاضا ہیکہ اس مشکل وقت میں ملزمین کی ہر طریقے سے مدد کی جائے کیوں کہ انہیں مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔
گلزار اعظمی نے بتایاکہ 26 نومبر کو لڑکی کے والد نے سات لوگوں پر اس کی لڑکی کو اغواء کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور پولس میں فریاد درج کرائی تھی، بعد میں لڑکی کے والد نے مذہب اسلام قبول کرنے کی بھی شکایت پولس میں کرائی جس کے بعد لو جہاد قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ یو پی پولس نے معاشی طور پر کمزور مسلمانوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا ہے اور مزید لوگوں کو پولس حراساں کررہی ہے جس کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ میں ملزمین کی عبوری ضمانت اور مقدمہ ختم کرنے کی درخواست داخل کرنے کے تعلق سے ایڈوکیٹ عارف علی،ایڈوکیٹ مجاہد احمداور ایڈوکیٹ فرقان کو ہدایت دی گئی ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ لکھنؤ ہائی کورٹ میں بحث کرنے کے لیئے سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائے گی کیونکہ حال ہی میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہیکہ بالغ لڑکے لڑکی کو اپنی پسند کی شادی اور مذہب اختیار کرنے کا آئینی حق ہے اس کے باوجود لو جہادکے نام پر یوپی سرکار مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنا کر حراساں کررہی ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں