سیالکوٹ واقعے نے مسلمانوں کی منفی تصویر دکھا کر ملک کو بدنام کیا ہے، مفتی تقی عثمانی

3

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے فیکٹری کے ملازمین کے بہیمانہ تشدد سے سری لنکن منیجر کی ہلاکت کے واقعے کو وحشیانہ اور حرام طریقہ کار قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز سیالکوٹ کی فیکٹری کے ملازمین کی جانب سے تشدد کے نتیجے میں منیجر کی ہلاکت پر مفتی تقی عثمانی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ ’توہين رسالت انتہائی سنگین جرم ہے لیکن اس کے ارتکاب کا ثبوت ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی پر یہ سنگین الزام لگا کر خود ہی اسے وحشیانہ اور حرام طریقے سے سزا دینے کا کوئی جواز نہیں، سیالکوٹ کے واقعے نے مسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھا کر ملک و ملت کو بدنام کیا ہے

دوسری جانب رویت ہلال کمیٹی کے سابق سربراہ مفتی منیب الرحمٰن نے بھی واقعے کو ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ملک میں قانونی نظام موجود ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا جواز نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے دنیا میں پاکستان کے منفی تاثر نے جنم لیا ہے، ویسے ہی کئی برسوں سے پاکستان پر ’ایف اے ٹی ایف‘ کی تلوار لٹک رہی ہے۔