• 425
    Shares

واٹس اپ پر ایک آڈیو گشت کررہی ہے جس میں ایک MLA کے ڈاکٹڑ فرزند اپنی ہی پارٹی کے کسی کارکن سے گالی گلوج کررہے ہیں۔ معاملہ کسی کی جائداد کا ہے ۔ کارکن نے دلالی کرکے ڈاکٹرکے نام پر پندرہ لاکھ کا مطالبہ کیا، بارہ لاکھ میں ڈیل ہوئی، ڈاکٹر کو سات لاکھ دیئے گئے، اور مابقی دوسرے بروکرز نے آپس میں تقسیم کرلیئے۔ بروکرز کو یہ یقین تھا کہ جو کچھ وصول ہوا ،اس رشوت میں حصہ داری 50-50 نہیں تو کم سے کم 60-40 تقسیم ہونی چاہئے،۔ ڈاکٹر صاحب آپے سے باہر ہوگئے اور جس زبان میں تقریباً 17 منٹ تک انہوں نے کارکن کو غلظیات سے بھرپور زبان میں نوازا،اور یہ دھمکی دی کہ اگر باقی پیسے فوری ادا نہ کئے گئے تو وہ آکر کارکن کی ماں اور بہن کو بے آبرو کردیں گے۔ اور یہی نہیں بلکہ ابّا سے ACP کو کہلواکر انہیں بند کروادیں گے اور متعلقہ بلڈنگ کو منہدم بھی کروادیں گے۔ یہ آڈیو کسی بھی شریف انسان کے لئے دو منٹ سے زیادہ سننے کے لائق نہیں۔ کارکن بھی اتنا چالاک ہے کہ چونکہ وہ ڈاکٹر کی غلظیات کو ریکارڈ کررہا تھا، اس لئے اس نے ان تمام شرمناک گالیوں کے جواب میں کہیں بھی گالی نہیں بکی، ہر گالی کو اپنا حق سمجھتے ہوئے، "بھائی بھائی گالیاں کیئکو دےرے، گالیاں مت دو بھائی”، کی رٹ لگا تا رہا ۔ یہ ڈرامے نئے نہِیں ہیں۔ ہر آدمی لعنت ضرور بھیجتا ہے لیکن اپنی عزت بچانے کچھ کرنا نہیں چاہتا۔لوگ گونگے، بہرے بلکہ بے حِس ہوچکے ہیں، کیونکہ اتھاریٹی، دولتمند وں اور مذہب یا دھرم کے ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ سسٹم کو تبدیل کرنے کی بات کرنا اپنی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ یہ حالات صرف ایک شہر کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں رائج ہیں۔ بی جے پی بھی یہی کررہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ جئے شری رام کے نام پر کررہے ہیں، اور ہماری پارٹیاں نعرہ تکبیر بلند کرکے کررہی ہیں۔

کیا یہ سسٹم کبھی بدلے گا؟ نہیں ۔ یہ سسٹم اور مضبوط ہوگا۔ حکومت کے بدل جانے سےیا پارٹی یا افرادکے بدل جانے سے یہ نظام کبھی بدلنے والا نہیں اصول یا قانون کے زور پر اب کوئی لیڈر نہیں بن سکتا بلکہ مستقبل کا سیاسی لیڈر وہی ہوگا جس کے پاس دولت ہو، یا پھر کوئی امبانی یا اڈانی اس کے لئے خرچ کرنے تیار ہوں۔ ایک اسمبلی یا پارلیمنٹ کا الیکشن جیتنے کئی کروڑ درکار ہیں، کوئی اتنا بے وقوف نہیں ہوتا کہ گاندھی یا ابوالکلام آزاد بننے کے چکّر میں عوام کی خدمت کے لئے اپنا سرمایہ داو پر لگا دے ۔ اس کودوبارہ الیکشن جیتنے کے لئےکئی گُنا زیادہ نفع کے ساتھ اپنا سرمایہ واپس نکالنا بھی لازم ہے جو لوگ اس سسٹم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں، وہ اچھی طرح جان لیں کہ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب Masses یعنی سمجھدار اور تعلیم یافتہ عوام کی طاقت آپ کے ساتھ ہو۔ لیکن سمجھدار، تعلیم یافتہ لوگ اتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں کہ سوشیل میڈیا یا اخبارات میں پیارے پیارے مضامین لکھ کر یا بیس پچیس لوگوں کوجمع کرکے میٹنگ، سیمینار کرکے ایسے خوش ہوجاتے ہیں جیسے انقلاب آگیا۔ تقریر یں ایسی کرتی ہیں جیسے جتنے کرپٹ لیڈر ہیں وہ سارے شرمندہ ہوکر قوم سے معافی مانگنے پر مجبور ہوجائنگے۔ ایسے تمام خودساختہ مصلحینِ قوم کو ان کی اپنی حیثیت کا علم ہی نہیں۔ اگر ان کو پولیس اٹھا کر لے جائے یا ایسی بدتہذیب پارٹیوں کے غنڈے بیچ سڑک پر ان کی بے عزتی کردیں تو ان کی دفاع میں دس لوگ بھی نہیں پہنچتے۔ پھر معمولی پولیس والے جیسی چاہے FIR پھاڑتے ہیں۔

ان بے شمار متحرک ذہین نوجوانوں پر بھی افسوس ہوتا ہے جو دو دو چار چار مل کر فلاحی کام شروع کردیتے ہیں۔ کئی ایک نوجوان سیاسی جماعتوں میں دلالی اور چمچہ گری کے ذریعے حقیر عہدوں کی تمنّا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ذہین اور متحرک نوجوانوں کی ایک فوج جو مل کر ایک انقلاب لاسکتی تھی، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر ملت کو نہیں بلکہ دشمنوں کو طاقت بخشتی ہے۔ وہ فوج کیا خاک جنگ جیتے گی جو صف آرائی پر مائل نہیں ہوتی بلکہ الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ کر جنگ لڑنا چاہتی ہے۔ طالبان اور آریس یس کے اقتدار میں آنے کے راز کو سمجھئے۔جب تک اپنے آپ کو ایک امیر اور ایک جماعت کے حوالے نہیں کرینگے، آپ کی طاقت کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔ آپ ہر جگہ انقلاب لانا چاہتے ہیں، کوئی مسجدوں ، مدرسوں اور درگاہوں کے نظام کو بدلنا چاہتا ہے، کوئی سیاسی اور سرکاری نظام کو بدلنا چاہتا ہے۔ کوئی اکنامک Empowerment پر کام کرنا چاہتا ہے تو کوئی ایجوکیشنل ریفارمس کی بات کررہا ہے۔ کوئی دعوت و تبلیغ کے ذریعے پورے ہندوستان کو کلمہ گو بنادینے کا خواہشمند ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ تمام شعبے ایک عمارت کے کمرے ہیں۔ ہر کمرہ انتہائی اہم ہے، لیکن عمارت بغیر Pillars کی ہے یعنی اس عمارت کی بنیاد کوئی نہیں ۔ ہر کمرہ کتنے دن تک باقی رہے گا اس کا اندازہ لگالیجئے۔ Mass strength اصل بنیاد ہے۔ اگر کسی ایک جماعت اور ایک امیر کے پیچھے چل کر بنیاد کو پہلے مضبوط کریں گے تو عمارت کا ہر کمرہ محفوظ بھی رہے گا ، اور ہر گروہ اپنے مقاصد کی ضرور تکمیل کرے گا، ورنہ وہ سارے منہدم ہوں گے جو اپنے اپنے کمروں میں بیٹھ کر انقلاب لانا چاہتے تھے۔ عوام ہوں کہ خواص، علما ہوں کہ دانشور، ڈاکٹر ہوں کہ انجینئر، سب کو ایک والنٹئر بن کر میدان میں آنا ہوگا، ہر شخص اپنی اپنی بولی بولنابند کرے، اور ایک آواز ہوجائے، تب آپ کی آواز سن کر پولیس ہو کہ سرکاری محکمے، اسمبلی ہو کہ پارلیمنٹ ، ہر جگہ آپ کی آواز سنی جائے گی، بلکہ آپ کی آواز سے ان کے درودیوار لرزنے لگیں گے۔ ورنہ ہر شخص قائد بننے کی چکّر میں اپنی اپنی بولی بولتا رہے گا تو اس سے شور پکارا ہوگا، کسی کو کان پڑے آواز سنائی نہ دے گی۔ اگر کوئی تبدیلی لانی ہوتو جو بھی جماعت اس وقت حق، انصاف، مساوات اور قانون کی حفاظت کے لئے میدان میں آکر لڑسکتی ہے ایسی جماعت یا گروہ میں فوری شامل ہوجانا ضروری ہے۔

ہوسکتا ہے آپ کو دہشت گرد کہا جائے، غدّار اور ملک دشمن کہا جائے کیونکہ فاشزم اور قانون کے دشمن ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے سامنے آپ کی نسلیں سر اٹھا کر چلیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی نسلیں غنڈہ گردی اور فرقہ پرستی کی غلامی سے آزاد ہوجائیں تو آپ کو قربانیاں دینے اپنی انا کو دفن کرکے ایک جماعت اور ایک امیر کے آگے جھکنا ہوگا اور اپنی Mass strength پیدا کرنی ہوگی۔ ورنہ کل بھی یہی سیاسی لیڈر، کرپٹ اتھاریٹی اوریہی مذہبی قیادت کی Nexusقائم رہے گی، آپ یوں ہی اس کے خلاف دیوان خانوں یا سوشیل میڈیا پر تبصرے کرتے ہوئے مرجائیں گے۔

ڈاکٹر علیم خان فلکی

صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد

+91 9642571721

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔