اُس میں بچپن ہی سے کچھ ایسی صلاحیتیں تھیں کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا تھا کہ وہ تاریخ میں ایک غیر معمولی شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔صرف 12 برس کی عمر میں اس نے ایک جنگلی اور بدمست گھوڑے کو قابو میں کر کے سدھا لیا۔ بیوسیفیلس نامی یہ ایک دیو قامت اور وحشی گھوڑا تھا جو بعد میں تقریباً ساری زندگی اس بچے کا ساتھی رہا۔یہ بچہ بڑا ہو کر الیگزینڈر دی گریٹ یا سکندرِ اعظم کہلایا اور عہدِ قدیم کی مشہور ترین شخصیات میں شامل ہوا۔ مقدونیہ (میسیڈونیا) سے تعلق رکھنے والے سکندرِ اعظم 356 قبل مسیح میں پیدا ہوئے۔ میسیڈونیا شمالی یونان سے جزیرہ نما بالکان تک پھیلا ہوا علاقہ تھا۔ان کے والد کو ان کے اپنے ہی ایک محافظ نے قتل کر دیا اور جس کے بعد نئے بادشاہ کی کشمکش شروع ہوئی جس میں انھوں نے اپنے تمام حریفوں کا صفایا کر دیا اور 20 برس کی عمر میں بادشاہ بنے۔اس کے بعد سکندرِ اعظم 12 برس تک اقتدار میں رہے۔ انھوں نے اپنی فوجوں کے ساتھ 12 ہزار میل کا فاتحانہ سفر کیا۔ اس وقت کی سلطنتِ فارس کے بادشاہ داریوش (ڈاریئس) سوئم کو شکست دی اور وسطی ایشیا تک یونانی کلچر کو پھیلا دیا۔اپنے عروج کے زمانے میں سکندرِ اعظم کی سلطنت مغرب میں یونان سے لے کر مشرق میں آج کے پاکستان، افغانستان، ایران، عراق اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔سکندرِ اعظم کا شمار تاریخ کے انتہائی متاثر کن اور ماہر رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں میں کیا جاتا ہے۔،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES،تصویر کا کیپشنراجہ پورس جہلم کی جنگ کے بعد سکندرِ اعظم کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئےسکندرِ اعظم سے پہلے مقدونیہ صرف ایک جغرافیائی وحدت کا نام تھا لیکن یہ علاقہ مضبوطی سے جڑی ہوئی سلطنت نہیں تھا۔ تاہم سکندرِ اعظم کے والد فلپ دوئم نے اس علاقے کو ایک مربوط ریاست کی شکل دی۔سکندرِ اعظم کی والدہ اولمپیئس ان کے والد فلپ دوئم کی تیسری یا چوتھی بیوی تھیں اور اس لیے اہم تھیں کہ انھوں نے اس خاندان میں پہلے لڑکے کو جنم دیا تھا، یعنی سکندرِ اعظم کی صورت میں سلطنت کو ایک جانشین سے نوازا تھا۔برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی میں کلاسکس کی لیکچرر ریچل مائیرس کہتی ہیں کہ سکندرِ اعظم کو اس زمانے کے لحاظ سے بہترین تعلیم دی گئی۔ جب وہ 13 برس کے تھے تو ان کے اساتذہ میں ارسطو جیسا عظیم فلسفی شامل تھا۔’سکندرِ اعظم نے ارسطو سے جو تعلیم حاصل کی اس کی بنیادیں یونانی کلچر میں تھیں۔ اسی لیے انھیں فلسفے کی تعلیم دی گئی اور تمام پڑھے لکھے یونانیوں کی طرح انھیں بھی الیاڈ اور اوڈیسی جیسی شہکار نظموں کے خالق یونان کے قدیم شاعر ہومر پر عبور حاصل تھا۔ ہومر کی نظم الیاڈ سکندرِ اعظم کے لیے بہت اہم تھی۔ وہ جنگوں کے دوران اس نظم کے حصوں کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سوتے تھے۔‘الیاڈ ایک طویل رزمیہ نظم ہے جس میں ٹرائے شہر اور یونانیوں کے درمیان جنگ کے آخری سال کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ سکندرِ اعظم اور اس کہانی کے ہیرو ایکلیس کے درمیان ایک مضبوط ذہنی تعلق قائم ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ یونانی دیومالائی کردار ہرکولیس سے بھی وہ بہت متاثر تھے اور جنگ کے دوران یہ کردار اُن کے ذہن میں ہوتے تھے۔ارسطو کی شاگردی کے سکندرِ اعظم کی شخصیت پر تاحیات اثرات رہے۔ ریچل مائیرس کہتی ہیں کہ ’آپ شاید یہ سوچیں کہ ارسطو کے پاس یہ ایک بڑا موقع تھا کہ وہ یونانی اشرافیہ کے ایک اجڈ لڑکے کو ایک بے مثال حکمران میں تبدیل کر سکتے تھے۔ پوری طرح سے ایسا تو نہیں ہوا لیکن سکندرِ اعظم جس طرح سے یونانی ریاستوں سے معاملات کرتے تھے، اس میں ارسطو کی دی ہوئی تعلیم کا بڑا اثر تھا۔‘ایک واقعہ اسی تعلیم کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ یونان کے شہر کورنتھ میں مشہور فلسفی ڈیوجنیز سے ملنے گئے تاکہ انھیں ان کے کام پر خراجِ تحسین پیش کرے۔ جب سکندر اعظم وہاں پہنچے تو ڈیوجنیز بیٹھا ہوا تھا۔ سکندرِ اعظم نے ڈیوجنیز سے کہا کہ وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں تو جواب میں ڈیوجنیز نے کہا ’سامنے سے ہٹ جاؤ کیونکہ تمھاری وجہ سے سورج کی روشنی مجھ تک نہیں آ رہی۔‘ سکندرِ اعظم کا اس جواب کو برداشت کرنا ارسطو کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ تھا۔،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES،تصویر کا کیپشنسکندرِ اعظم کی فوجی مہمات کا نقشہسکندرِ اعظم کے اقتدار میں آنے کے بارے میں بتاتے ہوئے برمنگھم یونیورسٹی میں پروفیسر آف کلاسکس ڈیانا سپینسر کہتی ہیں ’جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سکندرِ اعظم کے والد فلپ دوئم کی کئی بیویاں تھیں جن میں سے ایک قلوپطرہ (کلوپیٹرا) نامی خاتون تھیں جنھوں نے سکندرِ اعظم اور ان کی والدہ کے لیے کافی مشکلات پیدا کر دی تھیں۔‘’دونوں ماں بیٹا کو غالباً یہ احساس تھا کہ وہ مکمل طور پر مقدونیہ کا خون نہیں ہیں۔ یہ حقیقت ان کے احساس فخر کو بھی کچوکے لگاتی تھی اور سیاسی طور پر بھی نقصان دہ تھی۔ تخت تک پہنچنے کی لڑائی میں یہ سکندرِ اعظم کی کمزوریاں تھیں۔‘ڈیانا سپینسر کہتی ہیں کہ فلپ دوئم کی نئی بیوی قلوپطرہ نئی ملکہ بن سکتی تھیں اور ان ناراض امراء کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی تھی جو فلپ کے بعد بادشاہ بننے کی دوڑ میں شامل ہوتے۔ اس وجہ سے قلوپطرہ سکندرِ اعظم کے بادشاہ بننے کی راہ میں ایک رکاوٹ بن سکتی تھیں۔

یہ ایک سیاسی حقیقت تھی کہ مکمل طور پر مقدونیہ سے تعلق رکھنے والے ایک نئے مرد جانشین امیدوار کے سامنے آتے ہی سکندر کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں۔ کئی مؤرخین نے اس صورتحال کا نفسیاتی تناظر بھی پیش کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

سکندرِ اعظم اپنے استاد ارسطو کے ساتھ

ڈیانا سپینسر کے مطابق سکندرِ اعظم نے چھ مہینے کے لیے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی اور اُن کی والدہ بھی کچھ مہینوں کے لیے دربار سے دور ہو گئیں۔ کچھ عرصے بعد باپ اور بیٹے کے درمیان تلخی تو کم ہو گئی اور سکندرِ اعظم واپس آ گئے لیکن تعلقات میں آنے والی سرد مہری سکندر کے جانشین بننے کی راہ میں رکاوٹ بن چکی تھی۔

’اس صورتحال میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سکندرِ اعظم کو تخت کی جانب گامزن کر دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب انھوں نے شاید ایسی صورتحال کو جنم لینے سے روک دیا کہ کوئی خالص مقدونیائی خون ان کی جانشینی کو چیلنج کرے۔‘ڈیانا سپینسر بتاتی ہیں کہ سکندر کی سوتیلی بہن یعنی قلوپطرہ کی بیٹی کی شادی میں بادشاہ فلپ دوئم کو ایک محافظ نے قتل کر دیا۔ اس محافظ کو بھی فرار ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا گیا اس لیے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس قتل کے محرکات کیا تھے۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس قتل میں سکندر اور اس کی والدہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔‘سکندرِ اعظم کا ہاتھ اس قتل کے بعد رکا نہیں۔ اُنھوں نے ایک ایک کر کے ایسے تمام افراد کو قتل کر دیا جو اُن کی جانشینی کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ اپنے ایک سوتیلے بھائی فلپ ایریڈائس کے سوا اُنھوں نے اپنے تمام بھائیوں اور رشتے دار بھائیوں سمیت ایسے تمام افراد کو قتل کر دیا جو اُن کے اقتدار کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ کو تو بہت ظالمانہ انداز سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ بلاخر سکندرِ اعظم تخت نشین ہوئے اور اب اُن کی نگاہیں سلطنتِ فارس کی جانب تھیں۔سلطنتِ فارس نے 200 سال سے زیادہ عرصے تک بحیرہ روم سے منسلک علاقوں پر حکومت کی۔ یہ سلطنت تاریخ کی اصل اور ابتدائی سپر پاوروں میں سے ایک تھی جس کی سرحدیں انڈیا سے لے کر مصر اور شمالی یونان کی سرحدوں کو چھوتی تھیں۔ لیکن اس عظیم سلطنت کا زوال سکندرِ اعظم کے ہاتھوں ہوا۔ اُن کی نسبتاً ایک چھوٹی مگر مؤثر فوج کے ہاتھوں سلطنتِ فارس کے بادشاہ داریوش سوئم کی شکست کو تاریخ کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔اس جنگ کے نتیجے میں زمانۂ قدیم کی ایک سپر پاور زمیں بوس ہوئی اور اور ایک نئی اور وسیع سلطنت کے ذریعے یونانی ثقافت اور تہذیب کا پھیلاؤ ہوا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ سکندرِ اعظم کی فتوحات کا سہرا اُن کے والد کے سر بھی جاتا ہے جنھوں نے اپنے پیچھے ایک بہترین فوج چھوڑی تھی جس کی قیادت بہت تجربہ کار اور وفادار جرنیلوں کے ہاتھ میں تھی۔ تاہم ایک زیرک اور ماہر دشمن کو اسی کے علاقے میں جا کر شکست دینا خود سکندرِ اعظم کی ایک قائد کی حیثیت سے ذہانت اور جنگی حکمت عملی کی مہارت کا کمال تھا۔،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES،تصویر کا کیپشنسکندرِ اعظم اور فارس کی فوجوں کے درمیان لڑائیمقدونیہ کے لوگ ہمیشہ سے ایک جنگی قوت نہیں تھے۔ یونان میں ایتھنز، سپارٹا اور تھیبز کی ریاستیں تاریخی طور پر طاقت کا سرچشمہ تھیں۔ ان ریاستوں کے رہنما مقدونیہ کے لوگوں کو وحشی یا باربیریئن کہتے تھے۔ سکندرِ اعظم کے والد فلپ دوئم نے تنِ تنہا مقدونیہ کی فوج کو ایک ایسی مؤثر فوج بنا دیا جس کا خوف اُس قدیم دنیا میں دور دور تک پھیل گیا۔فلپ نے مقدونیہ کے پورے معاشرے کو ایک پیشہ ور فوج کے ساتھ دوبارہ منظم کیا۔ اعلیٰ درجے کے پیادے، گھڑ سوار دستے، نیزے باز اور تیر انداز اس فوج کا حصہ تھے۔ فلپ کے مرنے کے بعد سکندر کو یہی فوج ورثے میں ملی۔سکندرِ اعظم ہمیشہ سے ایک ذہین حکمتِ عملی ساز تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یونان پر خوف اور طاقت سے حکمرانی نہیں کی جا سکتی۔ اُنھوں نے ایک صدی قبل سلطنتِ فارس کی جانب سے یونان پر حملے کے واقعے کو سیاسی طور پر استعمال کیا اور فارس پر اپنے حملے کا جواز حب الوطنی سے جوڑ کر پیش کیا۔سکندرِ اعظم نے ایک پروپیگنڈا مہم کا آغاز کیا جس میں کہا گیا کہ مقدونیہ کے لوگ پورے یونان کی طرف سے فارس پر حملہ کر رہے ہیں، حالانکہ سلطنتِ فارس اور یونان کے درمیان ایک صدی قبل ہونے والی جنگ میں مقدونیہ شامل ہی نہیں تھا۔سنہ 334 قبل مسیح میں سکندر کی فوج سلطنتِ فارس میں داخل ہوئی۔ سکندرِ اعظم کی 50 ہزار کی فوج کو اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی اور تربیت یافتہ فوج کا سامنا تھا۔ایک اندازے کے مطابق بادشا داریوش سوئم کے ماتحت فوج کی تعداد 25 لاکھ تھی جو اس کی پوری سلطنت میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس فوج کا دل سمجھے جانے والے دستے کو ’لافانی دستہ‘ کہا جاتا تھا۔ یہ 10 ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک ایلیٹ رجمنٹ تھی جس کی تعداد 10 ہزار سے کم نہیں ہونے دی جاتی تھی۔ جنگ کے دوران اس دستے کا جب ایک سپاہی ہلاک ہوتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا اور کُل تعداد پوری رہتی تھی۔لیکن اس زبردست فوجی قوت کے باوجود سلطنتِ فارس سکندرِ اعظم کی انتہائی مؤثر اور ذہین حکمت عملی کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئی۔مؤرخین کے مطابق سلطنتِ فارس کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ پہلے ہی زوال کی شکار ہو چکی تھی اور پانچویں صدی قبلِ مسیح میں یونان میں پے در پے شکستوں کے بعد سے اس کا پھیلاؤ رک چکا تھا۔سنہ 324 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم فارس کے شہر سوسا پہنچے۔ وہ فارس اور مقدونیہ کے لوگوں کو متحد اور ایک ایسی نسل پیدا کرنا چاہتے تھے جو صرف اُن کی وفادار ہو۔ سکندر نے اپنے کئی جرنیلوں اور اہلکاروں کو حکم دیا کہ وہ فارس کی شہزادیوں سے شادیاں کریں۔ اس موقع پر اجتماعی شادیوں کی ایک تقریب کروائی گئی۔ سکندرِ اعظم نے خود اپنے لیے بھی مزید دو بیویوں کا انتخاب کیا۔،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES،تصویر کا کیپشنسکندرِ اعظم داریوش سوئم کی لاش پرسکندرِ اعظم کا اقتدار میں آنا، زبردست فتوحات حاصل کرنا اور پھر زوال، یہ سب مختصر عرصے میں ہوا۔ڈیانا سپینسر بتاتی ہیں کہ کئی رومی مؤرخین کے مطابق سکندرِ اعظم کبھی کبھی شراب کے نشے میں دھت ہو جاتے تھے اور ایک مرتبہ اُنھوں نے رات کے کھانے کے موقع پر نشے کی حالت میں اپنے ایک قریبی دوست کو قتل کر دیا تھا۔ شراب کے نشے میں غصے میں آ جانے اور سنکی رویے کے کئی واقعات رومن مؤرخین نے رقم کیے ہیں جن کی سچائی پر بھی سوال ہیں۔’سکندر کے ہاتھوں قتل ہونا والا ان کا دوست کلیٹیس تھا جو سکندر اور اُن کے خاندان کے بہت قریب تھا۔ وہ اکثر پوری سچائی سے سکندر کو مشورے دیتا تھا اور ہر جنگ میں اُن کا بازو تھا۔ اس روز سکندر نے بہت شراب پی ہوئی تھی اور جب کلیٹیس نے کہا کہ تمہاری شخصیت تبدیل ہوتی جا رہی ہے، تمہیں خود کو قابو میں کرنے کی ضرورت ہے، تم فارس کے لوگوں جیسے ہوتے جا رہے ہو اور ایسا لگتا ہے کہ تم ہم میں سے نہیں رہے، تو کلیٹیس نے یہ سب کہنے کے لیے غلط موقع کا انتخاب کیا تھا۔ سکندر اسی وقت اپنی جگہ سے اٹھے اور کلیٹیئس کے سینے میں نیزہ گھونپ دیا۔‘

سکندرِ اعظم کی فتوحات اور شخصیت کے سحر کی وجہ سے قدیم یونانی انہیں ایک عام انسان نہیں بلکہ دیوتا سمجھنے لگے تھے جبکہ خود سکندرِ اعظم کو بھی یقین ہو گیا تھا کہ وہ دیوتا ہیں۔

سلطنتِ فارس پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کے بعد اُن کی فوج نے مشرق کی طرف پیش قدمی شروع کی اور انڈیا تک جا پہنچی۔ اس کے بعد سکندرِ اعظم نے مقدونیہ واپسی کا سفر شروع کیا لیکن وطن واپسی اُن کی قسمت میں نہیں تھی۔

سنہ 323 قبل مسیح میں 32 برس کی عمر میں اپنے واپسی کے سفر میں بابل و نینوا (موجودہ عراق) کے علاقے میں پہنچنے کے بعد اچانک ایک پراسرار بیماری اُن کی موت کا سبب بن گئی۔

بعض مؤرخین کے خیال میں موت کی وجہ اُن کے زخموں میں ہونے والا انفیکشن تھا اور بعض کے خیال میں وہ ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

سلطنتِ فارس کو فتح کرنے کے بعد آخر سکندرِ اعظم کو انڈیا جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یونانی کلچر کے پروفیسر پال کارٹیلیج کہتے ہیں کہ اس کی دفاعی اور رومانوی وجوہات تھیں۔ سکندر یہ بتانا چاہتے تھے کہ اُن کی سلطنت کی سرحدیں وہاں تک جا پہنچی ہیں جہاں تک اُن کے والد فلپ دوئم نہیں جا سکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES،تصویر کا کیپشنسکندرِ اعظم بسترِ مرگ پر

’سلطنتوں کے لیے سرحدیں لازمی ہوتی ہیں۔ اور سلطنتوں کو مستقل یہ فکر بھی ہر وقت لاحق ہوتی ہے کہ ان کی سرحدوں سے آگے کیا ہے۔ اس کی ایک مثال سلطنتِ روم کی ہے جب قیصرِ روم (سیزر) نے برطانیہ پر حملہ کیا تھا۔ تو سکندرِ اعظم بھی اپنی سرحدوں کو پھیلا کر مستقل سرحدیں قائم کرنے کے کام کو نمٹا رہے تھے۔ یہ تو دفاعی تشریح ہو گئی جبکہ رومانوی تشریح یہ ہے کہ سکندرِ اعظم کہ ذہن میں یہ خیال تھا کہ دیومالائی کردار ہرکولیس اور ڈائناسس وہاں تک جا چکے ہیں اس لیے میں بھی جاؤں گا۔‘

سکندرِ اعظم کی پے در پے فتوحات نے اُنھیں یہ اعتماد دے دیا تھا کہ وہ جہاں تک کوشش کرے، جا سکتا ہے۔ ریڈنگ یونیورسٹی میں کلاسکس کی لیکچرر ریچل مائیرس کہتی ہیں کہ اہم سوال یہ ہے کہ اپنی زندگی کے اس مرحلے میں کیا سکندرِ اعظم زمینی حقائق سے دور ہو گئے تھے؟

’انڈیا فتح کرنے میں اُنھیں وہاں کے مقامی لوگوں کی مزاحمت کا سامنا تو تھا ہی لیکن اُنھیں اپنی فوج کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا تھا کہ بس بہت ہو گیا۔ وسطی ایشیا میں جہاں اُنھوں نے تین برس کا طویل عرصہ گزارا، اُن کے اپنے فوجیوں کو وہاں رہنا سخت ناگوار لگ رہا تھا۔ انڈیا میں لڑائی کے دوران جب یہ افواہ پھیلی کہ سکندر ہلاک ہو گئے ہیں تو وسطی ایشیا میں موجود اُن کی فوج میں ایک طرح کی بغاوت شروع ہو گئی اور انھوں نے واپس جانے کی کوشش شروع کر دی۔ لیکن سکندر صرف زخمی ہوئے تھے۔‘

ریچل میئرس کہتی ہیں کہ سکندر کی مسلسل فوجی مہمات کے ختم ہونے اور واپس لوٹنے کی تین بڑی وجوہات تھیں، اپنی فوج کے اندر سے مخالفت، سامان رسد کی سپلائی میں مشکلات اور علاقے کی سختیاں اور موسم۔

بعض مؤرخین کے خیال میں سکندر کا اگلا ہدف خطہ عرب تھا لیکن وقت اور حالات نے مہلت نہ دی۔

حسین عسکری

بی بی سی اردو، لندن