مدھیہ پردیش میں ایک عجیب و غریب معاملہ سامنے آیا ہے جس کو سن کر سبھی حیران و ششدر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سیدھی ضلع میں ایک ایسی سڑک چوری ہو گئی ہے ایک دن پہلے شام تک موجود تھی۔ دراصل یہ پورا معاملہ بدعنوانی سے جڑا ہوا ہے جس کو لے کر ایک طنز آمیز خط انتظامیہ کے نام لکھا گیا ہے اور اسی میں بتایا گیا ہے کہ بنی ہوئی سڑک چوری ہو گئی ہے۔ اس خط نے نہ صرف بدعنوانی کا انکشاف کیا ہے بلکہ انتظامیہ کو شرم سے پانی پانی بھی کر دیا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق سیدھی ضلع میں نائب سرپنچ رمیش کمار یادو نے ضلع کے چیف ایگزیکٹیو افسر کو ایک ایسا خط لکھا ہے جو پورے علاقے میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ نائب سرپنچ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’’میرے وارڈ نمبر 15 میں ایک سڑک شام تک بنی تھی۔ صبح چوری ہو گئی ہے۔‘‘ شکایتی خط ملنے کے بعد سے ہی چیف ایگزیکٹیو افسر حیرت زدہ ہیں۔ انھوں نے اس معاملے کی جانچ کرنے کی بات کہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ سیدھی ضلع کے مجھولی ڈویژن واقع مینڈھرا گرام پنچایت میں گرام پنچایت کے ذریعہ پنچایت فنڈ سے کاغذ پر ہی ایک کلو میٹر لمبی سڑک 10 لاکھ روپے کی لاگت سے بنائی گئی تھی۔ گویا کہ حقیقت میں سڑک موجود ہی نہیں تھی۔ جب اس بات کی جانکاری مقامی لوگوں کو ہوئی تو انھوں نے نائب سرپنچ سے بات کر کے اس کی جانکاری مجھولی کے چیف ایگزیکٹیو افسر اور تھانہ انچارج مجھولی کو دینے کا فیصلہ کیا۔ پھر نائب سرپنچ نے طنز آمیز خط لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ گرام پنچایت میں شام تک ایک سڑک بنی تھی، لیکن صبح چوری ہو گئی ہے۔

اب یہ پورا معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے اور چیف ایگزیکٹیو افسر کے ساتھ ساتھ تھانہ انچارج نے بھی حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد از جلد اس کی جانچ کی جائے گی۔ مجھولی ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو افسر ایم ایل پرجاپتی کا کہنا ہے کہ ’’7 جون کو میری پوسٹنگ مجھولی ضلع پنچایت میں ہوئی ہے۔ گاؤں والوں کے ذریعہ جو خط دیا گیا ہے، اس کی جانچ کرانے کے بعد قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘‘