یہ کیسے لوگ ہیں کہ ’قتل‘ کو’فرار‘ اور ’خودکشی‘ میں تبدیل کردیتے ہیں!

خواجہ یونس کو پولس حراست میں ’قتل‘ کیاگیا ، لاش جلائی گئی او رالٹا ’مقتول‘ کو ’فرار‘ ہونےکا مجرم بنادیاگیا! من سکھ ہیرن کو، جیسا کہ الزام ہے ’قتل‘ کیاگیا لیکن اس کے ’قتل‘ کو آسانی کے ساتھ ’خودکشی‘ میں ڈھال دیاگیا، اگر این آئی اے اور اےٹی ایس نے ایماندارانہ تفتیش نہ کی ہوتی (جس پر کہ حیرت ہے، کیوںکہ ملزم ایک پولس افسر تھا اور پولس والے پولس والوں کو ہر حال میں بچانے کےلیے بدنام ہیں) تو من سکھ کے ’قتل‘ کو آج بھی ’خودکشی‘ ہی ماناجاتا۔ اسی طرح اگر ڈاکٹر عبدالمتین نے یہ گواہی نہ دی ہوتی کہ اس نے خواجہ یونس کو چیختے چلاتے سنا تھا، اسے شدید ٹارچر کیاگیا تھا اور اسے خون کی الٹیاں ہورہی تھیں تو آج تک خواجہ یونس ’مفرور‘ قرار پاتا اور اس کا سارا خاندان، اس کا مرحوم باپ سید خواجہ ایوب اور والدہ آسیہ بیگم آج بھی شک وشبہ کے گھیرے میں ہوتے۔۔۔یہ کسی اور نے نہیں ایک پولس افسر، سچن وازے نے کیا تھا، الزام یہی ہے۔۔۔لیکن ایک سچن وازے کا ہی رونا نہیں ہے ملک بھر کے پولس محکموں میں نہ جانے کتنے ہی سچن وازے پائے جاتے ہیں۔ مجھے باندرہ کا نوجوان جاوید یاد آرہا ہے،

جسے جاوید پھائوڑا کہاجاتا تھا۔ ایک روز ایک پولس افسر وسنت ڈھوبلے نے اسے ’انکائونٹر‘ میں مار گرایا بعد میں پتہ چلا کہ یہ ’فرضی انکائونٹر‘ تھا لیکن جاوید پھائوڑا کے اہل خانہ کا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔۔۔جنہوں نے سا تھ دیا وہ بعد میں پیچھے ہٹ گئے اور وسنت ڈھوبلے ’باعزت‘ بری ہوگئے۔ اب وہ ریٹائرڈ ہیں۔ میں نے جاوید پھائوڑا کی ماں کو شہر کے ایک

اسپتال میں کینسر سے جنگ لڑتے ہوئے دیکھا تھا، ایک روز وہ بیٹے کی موت کا غم لے کر خود مالک حقیقی سے جاملی۔ ایک ہنستا کھیلتا گھرانہ تباہ وبرباد ہوگیا۔ خواجہ یونس اور من سکھ ہیرن کے گھرانے کی طرح ۔۔۔۔مجھے آج بھی ممبرا کی عشرت جہاں کا جنازہ یاد ہے، اس کی ماں شمیمہ او ربہنوں او ربھائی کے غمزدہ چہرے بھی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ خالصہ کالج کی طالبہ عشرت جہاں کو ’دہشت گرد‘ قرار دے کر مارا گیاتھا۔۔۔دعویٰ تھا کہ وہ اور اس

کے ساتھی ’انکائونٹر‘ میں مارے گئے ہیںاور وہ اس وقت کے ’ہندو ہردے سمراٹ‘ نریندر مودی کو قتل کرنے کے ارادے سے احمد آباد میں گھسے تھے۔ مگر بعد میں یہ ثابت ہواکہ انکائونٹر کا سارا ڈرامہ رچا گیا تھا۔ مارا کہیں اور گیا اور لاشیں لاکر کہیں اور ڈال دی گئیں۔۔۔گجرات کا بدنام زمانہ پولس افسر ونجارا اس ڈرامے کا بنیادی کردار تھا۔ وہی ونجارا جس کا نام سہراب الدین کے ’فرضی انکائونٹر‘ میں اور اس کی بیوی کوثر بی کی موت میں لیاجارہا تھا۔ اس معاملے سے آج کے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا نام بھی

جڑا ہوا تھا۔ پھر سمیر خان پٹھان اور نہ جانے کتنے ہی نام ہیں جو پولس افسران یا بالفاظ دیگر ملک بھر کے سچن وازوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ کبھی کسی سے پیسے لے کر، کبھی ترقی کےلیے اور کبھی سیاست داں یا سیاسی پارٹی کی ’کرپا‘ کےلیے۔ طمع نے کتنی جانیں لیں ہیں! خبر ابھی ابھی آئی ہے کہ ممبئی کے سابق

پولس کمشنر پرم ویر سنگھ نے ریاست کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سچن وازے سے ہر مہینے سو کروڑ روپئے کا مطالبہ کررہے تھے۔ واللہ اعلم۔ لیکن اگر یہ سچ بھی ہوتو کیا اس کےلیے دوسروں کی جانیں لے لی جائیں، کیا منہ میں زبان نہیں تھی کہ کہہ دیتے ، یہ نہیں ہوسکتا!