جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مقصد سے عرضی داخل کرنا کہ قرآن کی آیتوں پر پابندی عائد کی جائے جو اس کی نظر میں ہندستان کے آئین سے ٹکراٹی ہیں، یہ مستقل فتنہ اور بذات خود مفاد عامہ کے لیے سخت نقصان دہ ہے،جس سے ملک کے امن و امان کو زبردست خطرہ لاحق ہوگا۔انھوں نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کو خود اپنے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قرآن مقدس کے سلسلے میں کسی طرح کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، ملک کے آئین نے سبھی مذاہب کے عقائد و نظریات کے احترام اور ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار دیا ہے۔قرآن مقدس، مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور عقیدے کی اولین کتاب ہے اور پورے مذہب اسلام کی اساس اس پر قائم ہے، اس کے بغیر مذہب اسلام کا کوئی تصور نہیں ہے۔اس لیے ہم بحیثیت ذمہ دار شہری سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس عرضی کو پہلی شنوائی میں خارج کردے اور اس فتنے کا سدباب کرے۔ نیز ہم تمام ملت اسلامیہ ہند کی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ قرآن پاک کی عظمت کے پیش نظر عدالتوں میں اسے ز یر بحث لانے کی کوئی شکل اختیار نہ کریں اور اپنے اس موقف پر مضبوطی سے قائم رہیں کہ کسی بھی عدالت بشمول سپریم کورٹ اور دستور ہند کے دائرہ اختیار سے قرآن پا ک اور تمام مذہبی مقد س کتابیں باہر ہیں اور دستور ہند نے جو مذہب کے سلسلے میں عدالتوں کے دائرہ اختیار کی حد مقرر کی ہے وہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے، ہمیں اپنی طرف سے ایسی کوئی راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے جس سے عدالتوں کے لیے گنجائش نکلتی ہوکہ وہ ان معاملات میں جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں مداخلت کرسکیں۔جمعیۃ علماء ہند، سبھی مذاہب کے پیشواؤں کو متوجہ کرتی ہے کہ اسے محض قرآن مجید پر حملہ نہ سمجھا جائے بلکہ اس طریقہ سے تمام مذاہب کی مقدس کتابوں پر حملے کی راہ ہموار ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اہل مذاہب بلاتفریق، مذہب دشمن عناصر کے خلاف متحدہوں اور ان کے عزائم کو ناکام بنائیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں