سپریم کورٹ نے آر ٹی آئ کارکن اکھل گوگوئی کو ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ آسام میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران گوگوئی کو سخت یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ، الزام ہے کہ گوگوئی کی مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے بعد تشدد کے واقعات رونما ہوئے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم اس سطح پر ضمانت دینے پر غور نہیں کریں گے۔سپریم کورٹ سے پہلے گوہاٹی ہائی کورٹ نے کرشک مکتی سنگرام پریشد اور رائجور دل اکھل گوگوئی کی درخواست کی ضمانت مسترد کردی تھی۔ جسٹس کلیان رائے سورانا اور جسٹس اجیت بارٹھاکرکی ہائیکورٹ کی بنچ نے اکھل گوگوئی کی درخواست کی ضمانت مسترد کردی تھی۔ گوگوئی کے خلاف متعدد دفعات لگائی گئی تھیں۔ ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست خارج کرتے ہوئے گوگوئی پر سخت تبصرہ کیاتھا۔ عدالتی بنچ نے کہا کہ سی اے اے کے خلاف اکھل گوگوئی کا احتجاج ستیہ گرہ نہیں بلکہ دہشت گردانہ سرگرمی تھی۔ گوگوئی کو دسمبر 2019 میں شہریت قانون میں ترمیم کے خلاف مبینہ پرتشدد احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ گوہاٹی سنٹرل جیل میں بند ہیں…


اپنی رائے یہاں لکھیں