نئی دہلی:20. جنوری۔مرکزی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسان گزشتہ 56 دنوں سے دہلی کے بارڈر پر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کسان اور مودی حکومت کے درمیان اب تک کئی دور کی میٹنگیں ہو چکی ہیں، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اس درمیان کسان لیڈروں نے 26 جنوری کے موقع پر دہلی میں ’ٹریکٹر ریلی‘ نکالنے کا عزم ایک بار پھر ظاہر کیا ہے۔ ٹریکٹر ریلی کے تعلق سے آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، لیکن عدالت نے اس تنازعہ میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے انکار کر دیا اور کہا کہ دہلی پولس اس سلسلے میں فیصلہ لے۔
ٹریکٹر ریلی کے تعلق سے ہوئی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کچھ بھی فیصلہ سنانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ انتظام و انصرام کا معاملہ ہے جس پر انتظامیہ کو ہی فیصلہ لینا چاہیے۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم ٹریکٹر ریلی کو لے کر کوئی فیصلہ نہیں سنائیں گے، عدالت کسی ریلی کو روکے یہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ایسے میں دہلی پولس کو ہی اس پر فیصلہ لینا چاہیے۔‘‘ انھوں نے عدالت میں وکیلوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسانوں سے اپیل کریں کہ ٹریکٹر ریلی پرامن انداز میں نکالی جائے۔

دوسری طرف کسان ٹریکٹر ریلی نکالنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ ’’ہمیں دہلی میں ٹریکٹر ریلی نکالنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دہلی بھی کسانوں کی ہے اور یوم جمہوریہ بھی کسانوں کا ہے۔‘‘