سپریم کورٹ نے نرسنہانند کی گرفتاری کے مطالبہ والی عرضی کو نااہل ٹھہرایا

407

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس مفاد عامہ عرضی پر غور کرنے سے انکار کر دیا جس میں پیغمبر اسلام اور مذہب اسلام کے خلاف اشتعال انگیز و قابل اعتراض تبصرہ کے لیے یتی نرسنہانند اور وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی بنچ نے کہا کہ ان عرضیوں پر شق 32 کے تحت غور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس یو یو للت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ کی بنچ نے کہا کہ آئین کے شق 32 کے تحت اس طرح کی عرضی پر غور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بنچ نے عرضی دہندہ کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے کہا کہ آپ کسی کو گرفتار کرنے اور شق 32 عرضی کے تحت مجرمانہ مقدمہ چلانے کے لیے کہہ رہے ہیں؟ کیا آپ نے شکایت درج کی ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ وہ گرفتاری کے مطالبہ کو چھوڑ سکتے ہیں اور بنچ عرضی میں دیگر مطالبات پر غور کر سکتی ہے۔ بنچ نے دہرایا کہ ان عرضیوں پر شق 32 کے تحت غور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عرضی کو خارج کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ عرضی دہندہ مناسب طریقہ اختیار کرنے کے لیے آزاد ہے۔

ہندوستانی مسلم شیعہ اثنا عشری جماعت کے ذریعہ داخل عرضی میں جتیندر تیاگی کی کتاب ’محمد‘ پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ اس کے صفحہ اول اور مواد سمیت کتاب نے اسلام مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ہی کتاب ہتک آمیز اور ہندوستان میں مذہبی اتحاد اور خیر سگالی کے تانے بانے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

مفاد عامہ عرضی میں تیاگی اور نرسنہانند کو اسلام، پیغمبر محمد اور مذہب کی علامت کے خلاف قابل اعتراض اور اشتعال انگیز تبصرہ کرنے سے روکنے کی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی وکیل سچن سنمکھن پجاری اور وکیل فاروق خان کے ذریعہ سے داخل کی گئی تھی۔