دیوبند: چار سال قبل گورکھپور کے بی آری ڈی ہسپتال میں پیش آئے بچوں کی اموات کے سانحہ کے بعد سرخیوں میں آئے ڈاکٹر کفیل احمد خان نے کہا ہے کہ 70 بچوں کی موت کے لئے یوگی حکومت کے اس وقت کے وزیر صحت ذمہ دار ہیں، جن کے 10 فیصد کمیشن کی وجہ سے معصوم بچوں کی جان گئی۔ انہوں نے یوگی حکومت پر فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے انہیں کلین چٹ دے دی ہے لیکن یوگی حکومت انہیں مجرم ثابت کرنے پر آمادہ ہے۔

 

ڈاکٹر کفیل خان نے ہفتہ کی صبح دیوبند پہنچ کر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ مقامی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت ایک طبقہ کو نشانہ بنا کر سیاسی فوائد حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے۔ تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کا بے بنیاد الزام اسی سوچ اور سازش کا ایک معمولی حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں تیزی کے ساتھ کورونا کی دوسری لہر اپنا اثر دکھا رہی ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی ریلیوں میں خوب بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔

 

گورکھپور سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کفیل نے کہا ’’ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ساتھ تمام رپورٹوں میں بھی مجھے بے گناہ بتایا گیا ہے لیکن یوگی حکومت خاص دشمنی کے سبب مجھے نشانہ بنا رہی ہے۔ یوگی حکومت نے مجھے ہسٹری شیٹر بنا دیا، اترپردیش کے ٹاپ ٹین کریمنل میں میرا نام چوتھے نمبر پر ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یوگی شمشان، قبرستان، علی اور بجرنگ بلی پر اپنی پوری توجہ دیتے ہیں، چار سال میں چار ایسے اچھے کام نہیں ہیں جو اس حکومت نے کئے ہوں۔

ڈاکٹر کفیل خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے ہر طبقہ کا مکمل پیار و محبت ملا ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے نازک وقت میں میرا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کا سخت ترین مرحلہ آگے آنے والا ہے اور شاید 2025ء تک ہمیں اسی گائیڈ لائن کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین کو لے کر حکومت کی آدھی ادھوری تیاری ہے، جلدی ہی ویکسین کی کمی ظاہر ہو جائے گی۔