سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی حد بندی کو درست ٹھہرایا، طریقہ کار کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج

182

جموں و کشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی حد بندی کے طریقہ کار کو چیلنج کرنے والی عرضی آج سپریم کورٹ نے خارج کر دی۔ سپریم کورٹ نے حد بندی کے عمل کو درست ٹھہرایا، اور ساتھ ہی کہا کہ دفعہ 370 کے غیر فعال ہونے کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کی تشکیل نو کا مسئلہ اس کے پاس زیر التوا ہے۔ اس سماعت میں عدالت عظمیٰ نے اس پہلو پر غور نہیں کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے رہنے والے حاجی عبدالغنی خان اور محمد ایوب مٹو نے جموں و کشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی حد بندی پر سوال اٹھایا تھا۔ انھوں نے عدالت عظمیٰ میں داخل اپنی عرضیوں میں کہا تھا کہ حد بندی میں درست طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ مرکزی حکومت، جموں و کشمیر انتظامیہ اور انتخابی کمیشن نے اس دلیل کو غلط بتایا تھا۔ 13 مئی 2022 کو سپریم کورٹ نے اس معاملے پر نوٹس جاری کیا تھا۔ اس وقت بھی عدالت نے واضح کیا تھا کہ سماعت صرف حد بندی معاملے کو لے کر ہوگی۔ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ہٹانے سے جڑے معاملے پر غور نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال یکم دسمبر کو جسٹس سنجے کشن کول اور ابھے ایس اوکا کی بنچ نے حد بندی معاملے پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ سماعت کے دوران عرضی دہندہ نے دلیل دی تھی کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی سیٹوں کی حد بندی کے لیے سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا دیسائی کی صدارت میں کمیشن کی تشکیل آئینی التزامات کے حساب سے درست نہیں ہے۔ عرضی دہندہ نے کہا تھا کہ حد بندی میں اسمبلی حلقوں کی سرحد بدلی گئی ہے۔