سپریم کورٹ نے ای ڈی کو گرفتاری کا اختیار برقراررکھا

182

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قانون میں کی گئی ترمیم کو موزوں قرار دیا۔ عدالت میں دائر عرضیوں میں پی ایم ایل اے (پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ) کی کئی دفعات کو قانون اور آئین کے خلاف قرار دیا تھا۔ عرضی میں پی ایم ایل اے کے تحت ای ڈی کی گرفتاری، ضبطی اور تحقیقات کے عمل کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے پی ایم ایل اے معاملوں میں ای ڈی کے اختیارات کو موزوں قرار دیا۔ نیز سپریم کورٹ نے ای ڈی کے ملزم کو گرفتار کرنے کے اختیار کو بھی برقرار رکھا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گرفتار کرنے کا عمل منمانی کارروائی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش ماہیشوری اور سی ٹی روی کمار کی خصوصی بنچ نے سنایا۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ایل اے کی کئی دفعات خلاف قانون ہیں۔ غلط طریقے سے پیسہ کمانے کا جرم ثابت نہیں بھی ہوتا، تب بھی پی ایم ایل اے کا مقدمہ ادھر ادھر پیسہ بھیجنے کے الزام میں جاری رہتا ہے۔ دلائل میں کہا گیا کہ اس کا استعمال غلط طریقے سے ہوا ہے۔ نیز افسران کو صواب دیدی اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔

وہیں، حکومت کی جانب سے اس قانون کے حق میں کہا گیا ہے کہ کارروائی سے بچنے کے لیے اس طرح کی عرضیاں دائر کی ہیں۔ یہ وہی قانون ہے جس کی مدد سے وجے مالیا، نیرو مودی اور میہول چوکسی جیسے لوگوں سے بینکوں کے 18 ہزار کروڑ روپے واپس لیے گئے ہیں۔ خیال رہے کہ پی ایم ایل اے کے کئی مختلف پہلوؤں پر 100 سے زیادہ عرضیاں دائر کی گئی ہیں، جنہیں سپریم کورٹ نے ایک ساتھ منسلک کر دیا تھا۔