نئی دہلی، 28 مارچ (یو این آئی) مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ جن ریاستوں میں ہندو یا دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی کم آبادی ہے وہاں مذہب اور زبان کی بنیاد پر متعلقہ گروپ کو اقلیتی برادری قرار دیا جا سکتا ہے ۔

مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے مفاد عامہ کی عرضی پر جاری کردہ نوٹس کے جواب میں حلف نامہ داخل کرکے عدالت عظمیٰ کے سامنے اپنی رائے پیش کی ہے۔ درخواست میں کئی ریاستوں میں ہندوؤں اور دیگر کمیونٹیز کی کم آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اقلیتی برادری کا درجہ دینے کی درخواست کی گئی ہے۔

درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ لداخ، میزورم، لکشدیپ، کشمیر، ناگالینڈ، میگھالیہ، پنجاب، منی پور اور اروناچل پردیش وغیرہ میں یہودی، بہائی اور ہندو مت کے پیروکار اقلیت میں ہیں۔