نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کی طرف سے یونیورسٹی بنانے کے لئے حاصل کی گئی 471 ایکڑ زمین کو واپس لینے کے اتر پردیش حکومت کے حکم کو برقرار رکھنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر پیر کو عبوری روک لگا دی جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ٹرسٹ کی خصوصی لیو پٹیشن پر سماعت کے بعد ریاستی حکومت کے حکم پر عبوری روک لگانے کا حکم دیا۔

بنچ نے حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔سپریم کورٹ کے اس حکم سے سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور ایم پی اعظم خان کو، جو اس وقت مختلف فوجداری مقدمات میں جیل میں ہیں، کو راحت ملی ہے۔ مسٹر خان اور ان کے خاندان کے کئی افراد ٹرسٹ میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

رام پور ضلع، اتر پردیش کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) نے ایکوائر اراضی کی شرائط کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ سال جنوری میں اسے واپس لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ الزام لگایا گیا تھا کہ ٹرسٹ کو زمین تعلیم کے مقصد کے لیے دی گئی تھی لیکن اس زمین کو مسجد کی تعمیر اور دیگر کاموں کے لیے استعمال کیا گیا جو کہ حصول اراضی کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔ ٹرسٹ نے اے ڈی ایم کے حکم کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لیکن اسے مایوسی ہوئی۔