سویڈن میں قرآن نذرآتش: ’نیٹو رکنیت پر ترکی کی حمایت بھول جائیں، ہم سے رحم کی توقع نہ رکھیں‘

1,005

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سویڈن سے کہا کہ اس کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں قرآن کے ایک نسخے کو نذر آتش کیے جانے کے بعد وہ نیٹو میں شمولیت کی اپنی کوشش میں ترکی سے حمایت کی توقع نہ رکھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال یوکرین اور روس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سویڈن اور فن لینڈ امریکہ اور یورپی ممالک کی فوجی تنظیم نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان دونوں یورپی ممالک نے نیٹو کی رکنیت کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے رکھی ہے۔

لیکن ترکی نے نیٹو کے رکن کے طور پر اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے اُن کی درخواست کو روک دیا تھا۔ ترکی کے اس اقدام کے بعد سے سویڈن میں ترکی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان مظاہروں کے دوران سٹاک ہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے باہر مذہب اسلام کی مقدس ترین کتاب قرآن مجید کا نسخہ بھی نذر آتش کیا گیا جس کے بعد سعودی عرب اور پاکستان سمیت مختلف مسلم ممالک نے اس عمل کی سخت مذمت کی ہے۔اس سے چند روز قبل سویڈن میں کچھ کرد مظاہرین نے ترک صدر اردوغان کا پتلا الٹا لٹکا دیا تھا

اردوغان نے کیا کہا؟
دنیا کے کئی ممالک نے سٹاک ہوم میں قرآن پاک کے نسخے کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی ہے۔ ان ممالک میں ترکی بھی شامل ہے۔

ترک صدر اردوغان نے کہا کہ ’سویڈن کو اب ہم سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ترکی نیٹو میں شمولیت کی اس کی کوششوں میں تعاون کرے گا۔ جن لوگوں نے سفارت خانے کے سامنے ہمارے ملک کی توہین کی ہے، وہ اپنی درخواست کے حوالے سے ہم سے کسی رحم کی توقع نہیں کر سکتے۔‘

واضح رہے کہ سویڈش حکومت نے گذشتہ اتوار کو ہونے والے احتجاج کی اجازت پہلے ہی دے رکھی تھی۔ تاہم مظاہرین کی جانب سے اس بات کو کوئی عندیہ نہیں دیا گیا تھا کہ ان کا منصوبہ بطور احتجاج قرآن کے نسخے کو جلانا تھا۔اسے مذہب کی توہین قرار دیتے ہوئے اردوغان نے کہا ہے کہ آزادی اظہار کی آڑ میں اس عمل کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔