کووڈ کی عالمی وبا نے موت کی قربت کا احساس بھی بڑھایا ہے اور شاید موت کے تعلق سے بے حسی بھی بڑھادی ہے۔ رحلت کی خبریں معمول بن گئی ہیں اور تعزیتی کلمات کی ادائیگی ایک مشینی عمل بن گیا ہے۔ اس کے باوجود فیروز خان غازی صاحب کی رحلت کے بعد سے کیفیت یہ ہے کہ چار روز ہوگئے لیکن نہ کسی سے فون پر بات کرنے کے لئے طبیعت آمادہ ہے اور نہ تعزیتی کلمات لکھنے کے لئے قلم ساتھ دے رہا ہے۔

ان کی بیماری کی شدید کیفیت کی اطلاع دو دن پہلے ہی مل چکی تھی۔ اس کے بعد دن میں کئی بار ان کی تیزی سے بگڑتی صحت کی صورت حال کی اطلاعات ملتی رہیں۔ اس لیے یہ خبر غیر متوقع نہیں تھی۔ رات میں جب زبیر خان کے فون کی گھنٹی بجی تو فون ریسیو کرنے سے پہلے ہی جسم لرز اٹھا۔ اس کے بعد سے مسلسل یہ کیفیت ہے کہ

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا؟

مرحوم فیروز خان تحریک اسلامی کے ان زمینی کارکنوں سے تھے جن کے نام کہیں نمایاں نہیں ہوتے لیکن تحریک کو اپنی جدوجہد کے ہر موڑ پر اُن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اجتماعات کا نظم و انتظام ہو یا کسی کارکن کا کوئی ذاتی مسئلہ حل طلب ہو، حکام سے کوئی منظوری لینی ہو یا کسی بااثر آدمی سے کوئی کام کرانا ہو، تحریک کوکسی مالی مسئلہ کا سامنا ہو یا کوئی سیاسی و سماجی مہم درپیش ہو، وہ ہر جگہ الہ دین کا چراغ بن کر حاضر رہتے۔ یہی رول انہوں نے ہمارے ساتھ ایس آئی او میں ادا کیا۔ ایس آئی او کے زمانے میں کئی یادگار مہمات اور بڑے بڑے معرکے، ان کے تعاون سے سر ہوئے۔ ایس آئی او سے فارغ ہوتے ہی جماعت کے رکن بن گئے۔ پھر تحریک نے جس محاذ پر لگایا، اور جو کام سونپا اس کو پوری وارفتگی، اور تن من دھن کی پوری یکسوئی کے ساتھ انجام دیتے رہے۔

وہ ایک سادہ تاجر تھے۔پان ڈبے سے لے کر رئیل اسٹیٹ تک، زندگی کے مختلف ادوار میں ٘مختلف تجارتیں کیں۔ایک زمانے میں روزنامہ اخبار بھی چلایا۔ایس آئی او میں میرے آنے کے فوری بعد ان سے تعلق قائم ہوگیا۔ ہمارے درمیان رابطے کی کڑی ہمارے محسن، مرحوم حامد حسین صاحبؒ تھے (جن سے جدائی کا زخم بھی ابھی تازہ ہے)۔ اُس وقت بظاہر مرحوم فیروز خان کے شخصی احوال میں اور میرے احوال میں کوئی مناسبت نہیں تھی۔ میں اس وقت سائنس کالج کا طالب علم تھا جو شہر کا ایک معیاری ادارہ مانا جانا تھا اور بہت کم مسلم طلبہ یہاں داخلہ لیتے تھے۔ رہائش سرکاری افسروں کی فصیل بند کالونی میں تھی۔ مزاج میں خلوت پسندی تھی اور واحد مشغلہ کتب بینی تھا جبکہ خان صاحب مرحوم ایک تاجر اور شہر کی پسماندہ بستیوں میں سرگرم عملی کارکن تھے۔

لیکن اس کے باوجود بہت جلد دوستی ہوگئی اور وہ ہمارے انتہائی قریبی احباب میں شامل ہوگئے۔ ہفتے میں کچھ وقت ضرور ان کی دکان پر گذرتا جہاں کبھی دیگر ہم خیال احباب کے ساتھ مجلسیں منعقد ہوتین اور کبھی ہم دونوں ہی مختلف مسائل پر دیر تک بات چیت کرتے۔ انتہائی پریکٹیکل آدمی تھے۔ جن دوستوں کی صحبت نے عملی مسائل کا شعور اور زمینی حقائق کے ادراک کی صلاحیت پیدا کی، ان میں ایک نمایاں نام مرحوم خان صاحب کا تھا۔ ہم کتابیں اور اخبارات پڑھ کر جاتے اورخان صاحب کی سادہ باتوں اور عملی تجربات اور واقعات کے تجزیوں سے، اس کتابی علم و فہم کا عملی حقائق سے تعلق قائم ہوتا۔

رابطہ عامہ مرحوم کا اہم کام تھا۔ رابطہ عامہ کے لئے گفتگو میں مصنوعی شیرینی و لطافت اور آداب اور رکھ رکھاو میں تکلفات کو ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن اپنی فطری سادگی، صاف گوئی بلکہ لہجہ کی یک گونہ تندی و درشتی کے ساتھ اور اس کے باوجود انہوں نے سماج کی اہم ترین شخصیات کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا اور ان سے کام لیتے رہے۔

مرحوم ایک حاضر جواب اور بذلہ سنج انسان تھے۔ یہ ان کی شخصیت کی کشش کا ایک اہم سبب تھا۔ ذو معنی الفاظ کے برمحل استعمال اور عام فہم زبان میں نت نئے دلچسپ و معنی خیز الفاظ و اصطلاحات کی تخلیق پر انہیں غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ برجستہ لیکن پر مزاح فقروں سے محفل کو زعفران زار کرنے کا فن جانتے تھے۔برجستگی و حس مزاح اور صاف گوئی و تندی و تیزی، ان دونوں خصوصیات کے امتزاج کے نتیجے میں ان کی شخصیت کا ایک نہایت پر کشش لیکن سادہ اور فطرت سے قریب شاکلہ وجود میں آگیا تھا۔ کبھی ان کے دلچسپ فقروں سے کسی کو ناراضگی بھی ہوجاتی لیکن لوگوں کو ان کے مزاج کی سادگی اور خلوص کا احساس تھا اور لوگ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ایک درد مند دل کے مالک ہیں،اس لئے ایسی تلخیاں کبھی دیر تک باقی نہیں رہتیں۔
ان کی خود اعتمادی غضب کی تھی۔ شہر کے معروف ترین اہل علم، اخبارات کے مدیران، سیاسی و سماجی قائدین، کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران، ان سب سے ان کے روابط تھے۔ سادہ زبان اور سادہ عادات و اطوار کے باوجود ان پر اثر انداز ہوتے۔

اکثر ان بڑی شخصیتوں سے ملنے کے لئے بھی اُسی آٹو رکشا میں جاتے جس کو وہ خود چلاتے ہوئے اپنا تجارتی سامان دکانوں کو سپلائی کرتے تھے۔ مجھے بھی متعدد بار اس آٹو رکشا میں ان کے ساتھ ڈرائیور کی سیٹ کے بازو بیٹھ کر سفر کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔بڑے سے بڑے افسر سے بات کرتے ہوئے بھی کبھی ان کے لہجہ میں نرمی یا اپنے فطری انداز پر کسی قسم کی مصالحت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ مختصر،دو ٹوک ، صاف صاف اور کھری کھری بات کرتے۔ لہجہ بھی کھرا کھرا ہوتا۔ نہ بڑی سے بڑی شخصیت کو خاطر میں لاتے اور نہ بڑے سے بڑے مسئلے کو۔ جس کام کے بارے میں یہ تصور ہوتا کہ یہ انتہائی مشکل کام ہے، وہ ان کے ساتھ چند لمحے بیٹھنے کے بعد آسان ترین کام لگنے لگتا۔ محض ان کا ساتھ بڑی مہمات اور دشوار راستوں کو آسان کردیتا۔ایس آئی او کے پورے دور میں وہ ہمارے لئے قوت، حوصلہ، اعتماد، اورتیزی و چستی کا سرچشمہ بنے رہے۔ اندازہ یہ ہے کہ بعد میں جماعت کے ذمےد اروں کے لئے بھی وہ یہی کردار ادا کرتے رہے۔

تحریکی کارکنوں کے ذاتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ لوگ ان سے طرح طرح کے مسائل کو لے کر رجوع ہوتے اوروہ ان کے ساتھ گھنٹوں صرف کرکے، در بدر کی ٹھوکریں کھاکر اور شہر کی خاک چھان کر، ان کے مسائل کو حل کرتے۔ کبھی اشاروں کنایوں میں بھی ان مسائل کے حل میں اپنا رول، قریب ترین لوگوں پر بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ایسے متعدد واقعات اس وقت یاد آرہے ہیں کہ ہم جیسے قریب ترین لوگوں کو بھی برسوں بعد کسی انڈائرکٹ ذریعے سے معلوم ہوا کہ فلاں کے فلاں مسئلے کے حل میں خان صاحب نے یہ رول ادا کیا تھا، یا یہ ذاتی جوکھم اٹھایا تھا یا یہ پیسہ خرچ کیا تھا۔ان کی شخصی کشش کا ایک بڑا سبب ان کا یہ اخلاص اور بے لوثی بھی ہے۔

وہ ناندیڑ کے قدیم رفقا کے اُس چھوٹے سے گروپ کا حصہ تھے جو میرے تحریکی سفر میں، ہر قدم پر میرے لئے قوت و حوصلہ کا سرچشمہ بنے رہے۔ حیدرآباد قیام کے پندرہ برسوں میں ، یہ احباب، ایک دو گھنٹے کی ملاقات کے لئے ناندیڑ سے سفر کرکے حیدرآباد تشریف لاتے ہیں اورکچھ دیر بات کرکے لوٹ جاتے ہیں۔ ملاقات کے بعد دیر ہوجائے تو مضطرب ہوجاتے ہیں۔ان مخلص دوستوں میں سے دو لوگ (حامد حسین صاحب اور اب فیروز خان صاحب) یکے بعد دیگرے رخصت ہوگئے۔ چند دن پہلے ہی بات ہوئی تھی کہ اب وبا کے حالات میں، حیدرآباد یا دلی آکر ملنا مشکل ہے۔ کم ازکم زوم ہی پر ان دوستوں کی نشست ہوجائے۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ اب باقی دوستوں سے اس زوم ملاقات کی ہمت میں کب جٹا پاوں گا۔

اس بات پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا کہ یہ دلچسپ ، ہم درد اور مخلص انسان اور تحریک کا نہایت وفادار اور محنتی و جفاکش کارکن اب ہماری محفل میں نہیں رہا اورمحض پچپن چھپن سال کی عمر میں آخرت کے سفر پر روانہ ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی زوجہ محترمہ جو خود بھی جماعت کی رکن ہین اور ان کے فرزندان جو ایس آئی او کے نہایت فعال کارکن ہیں اور ان کی ذہین و ہونہار دختران، ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ ان کی سعادت مند اولاد کو دیکھ کر ان کے تمام رفقا رشک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے نیک اعمال کو ان کے مرحوم والد کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔