سولہ سالوں سے جیل میں قید مسلم شخص کی ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی

جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی کوشش کامیاب

491

ممبئی15/ ستمبر۔دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ سولہ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ایک مسلم شخص کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم کیا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس جے کے مہیشور ی نے عرض گذار اسلام منڈل کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔

یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں عرض گذار کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے کہا کہ عرض گذار اسلام منڈل کا تعلق مغربی بنگال سے ہے اور وہ گذشتہ سولہ سالوں سے یو پی کی مختلف جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہا ہے لیکن اب جبکہ سپریم کورٹ نے اس کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت کو منظور کرلیا ہے ملزم کی جیل سے رہائی یقینی ہے۔

گلزار اعظی کے مطابق عرض گذار کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ گورو اگروال نے سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کوبتایا کہ ملزم کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے لیکن گذشتہ دس سالوں سے لکھنؤ ہائی کورٹ میں نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل پر سماعت نہیں ہوسکی ہے جبکہ عرض گذار گذشتہ سولہ سال سے جیل میں مقید ہے۔ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ عرض گذار کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے لکھنؤ ہائی کورٹ نے اپیل پر جلد از جلد سماعت کیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا لیکن دو سال سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود عرض گذار کی اپیل پر ہائی کورٹ میں حتمی سماعت نہیں ہوسکی ہے لہذا عرض گذار کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایاکہ عرض گذار کی گرفتاری کے وقت اس کی لڑکی کی عمر صرف دو ماہ تھی جبکہ عرض گذار کے والدین وفات پاچکے ہیں اور جیل میں رہتے ہوئے عرض گذار کی بینائی بھی تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ سولہ سالوں کا طویل عرصہ جیل میں گذارنے کے بعد عرض گذار کی ضمانت پر رہائی یقینا اس کا آئینی حق ہے کیونکہ ایک جانب جہاں عرض گذار کو جیل میں رہنے پر مجبورکیا جارہا ہے دوسری جانب اس کی اپیل پر سماعت بھی نہیں ہورہی ہے۔دو رکنی بینچ نے ایڈوکیٹ گورواگروال کے دلائل کی سماعت کے بعد عرض گذار کو مشروط ضمانت پر رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا حالانکہ اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے ضمانت پر رہائی کی مخالفت کی ور عدالت سے درخواست کی کہ بجائے ضمانت دینے کے عدالت ہائی کورٹ کو اپیل پر حتمی سماعت جلداز جلد کیئے جانے کا حکم جاری کرے۔

دوران بحث عدالت میں ایڈوکیٹ گورو اگروال کے ہمراہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چاند قریشی، ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد، ایڈوکیٹ فرقان خان پٹھان اور دیگر موجود تھے۔واضح رہے کہ یو پی کے اناؤ شہر کی سیشن عدالت نے ملزم نور اسلام اور دیگر ملزمین کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور دھماکہ خیز مادہ رکھنے کے الزامات کے تحت قصور وار ٹہراتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ملزمین کو دھماکہ خیز مادہ کے قانون کی دفعات 4(b)/5(b) اور غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام والے قانون (یو اے پی اے) کی دفعہ 16(b)کے تحت عمر قید کی سزا ہوئی تھی جس کے خلاف لکھنؤ ہائی کورٹ میں 2012میں اپیل داخل کی گئی ہے جو التواء کا شکار ہے۔