تحریر: آفتاب اظہرؔ صدیقی(صوبائی جنرل سکریٹری مجلس احرار اسلام ہند)
سوشل میڈیا پر قادیانیوں کی سرگرمیاں بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں اور قادیانی خفیہ طور پر مسلمانوں کے سوشل میڈیا گروپوں میں شامل ہورہے ہیں، اس لیے اپنے ہر گروپ کے ایک ایک فرد کی خبر رکھنے کی ضرورت ہے، خاص کر جو لوگ اپنے گروپوں کا لنک شیئر کرتے ہیں،ان کے گروپوں میں زیادہ آسانی سے قادیانی کافر گھس جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ اپنا زہر پھیلانا شروع کرتے ہیں، بھولے بھالے کم پڑھے لکھے لوگوں کو اپنا شکار بناتے ہیں اور ان کے ایمان کو خراب کر دیتے ہیں۔

حالیہ واقعہ:میرے نمبر پر بہت پہلے ایک نئے نمبر سے میسج آیا تھا کہ میں اسے اپنے براڈکاسٹ لسٹ میں شامل کرلوں؛ لہذا میں نے نام معلوم کرنے کے بعد اس نمبر کو براڈکاسٹ لسٹ میں شامل کرلیا، میرے تمام پیغامات اس تک پہنچتے رہے؛ لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا تھا؛ کچھ روز پہلے میں نے ایک گروپ تشکیل دیا اور اس کا لنک براڈکاسٹ کے ذریعے شیئر کیا تو وہ بندہ بھی میرے اس گروپ میں لنک کے ذریعے شامل ہوگیا، شامل ہوتے ہی اس نے اپنے امیر خامس جس کو وہ خلیفۃ المسیح کا خطاب دیتے ہیں مرزا مسرور احمد کے کئی پیغامات ارسال کیے جس کے بعد اسے فوراً گروپ سے نکال دیا گیا اور گروپ والوں کو اس سے آگاہ کردیا گیا؛ میں نے اس کے نمبر پر کئی بار فون کیا تو اس نے فون بھی رسیو نہیں کیا؛ لیکن پھر وہ پرسنل پر اپنے مرزا مسرور قادیانی کافر کے بیانات بھیجنے لگا، جب میں نے اس سے کہا کہ فون پر بات کرو تو خاموشی اختیار کیے رہا، میں نے پھر فون کیا؛ لیکن اس نے رسیو نہیں کیا، اس کے بعد مجھے ایک مذاق بھری تدبیر سوجھی۔

قادیانی لڑکی سے نکاح کی خواہش:میں نے یہ سمجھ کر کہ شاید یہ مجھے پہچانتا نہیں اس سے واٹس ایپ پر ہی تحریر کے ذریعے بات بڑھانی شروع کی اور باتوں ہی باتوں میں میں نے اس سے کہا کہ جناب مجھے شادی کے لیے احمدیہ جماعت کی پڑھی لکھی لڑکی چاہیے ، اگر آپ اس سلسلے میں میرا تعاون کردیں تو بہتر رہے گا، اس نے میرے اس میسج کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر میں نے دوبارہ اس سے رشتے کی بات کی تو وہ انگلش میں لکھنے لگا، ڈو یو نو ہو ایم آئی؟ (کیا تم جانتے ہو، میں کون ہوں؟) میں نے کہا: (ہو آر یو) کون ہو جناب یہی تو ہم جاننا چاہتے ہیں، اس کا جواب آیا (یو آر ٹاکنگ ٹو ڈی آئی جی الطاف) تم ڈی آئی جی الطاف سے بات کر رہے ہو۔ اس نے سمجھا کہ سامنے والا ایسی گیدڑ بھپکیوں سے ڈر جائے گا، میں نے جواب دیا (یو آر آلسو ٹاکنگ ٹو اسٹیٹ جنرل سکریٹری آف مجلس احرار اسلام ہند)آپ بھی مجلس احرار اسلام کے صوبائی جنرل سکریٹری سے محو گفتگو ہیں۔ اس کے بعد وہ خاموش ہوگیا۔ اس لیے کہ مجلس احرار کا نام سن کر قادیانی ایسے ہی بھاگتا ہے جیسے اذان کی آواز سن کر شیطان۔ پھر تھوڑی دیر بعد اس قادیانی نے میری پروفائل تصویر اور میرے پرانے میسجز کا اسکرین شاٹ لے کر مجھے بھیجاکہ دیکھو میں تمہارے ان میسجز کو ٹویٹ کرنے والا ہوں، میں نے کہا شوق سے کرو، میں نے احمدیہ جماعت کی لڑکی کا رشتہ ہی تومانگا ہے، شاید کوئی گھرانہ میری وجہ سے ہدایت پرآجائے۔ اس نے جب دیکھا کہ یہ کسی طرح دبنے والا نہیں ہے تو اس نے جھنجھلاکر مجھے بلاک کردیا۔

ضلع کشن گنج کے ایک گاؤں کا واقعہ:ضلع کشن گنج کے آٹھ گاچھی پنچایت کے دو بھائیوں نے روزگار کی تلاش میں پنجاب کا سفر کیا تھا، پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں دینی تعلیمات سے دور رہنے والے مسلمانوں کو قادیانی اپنا شکار بنانے کی کوشش میں رہتے ہیں؛ لہذا ان دونوں لڑکوں کو بھی کسی قادیانی نے اپنی طرف مائل کرلیا، اپنی عبادت گاہ میں لے کر جانے لگا، اپنے خطیب سے ملاقات کرائی اور پھر اپنے گھر لے گیا، اس قادیانی کا تعلق بھی بہار سے تھا؛ اس نے ان میں سے ایک بھائی کااپنے گھرانے کی کسی لڑکی سے رشتہ کرادیا، دونوں میں بات چیت شروع ہوگئی اور لڑکا قادیانی کے جال میں پھنس کر اپنا ایمان گنوا بیٹھا، لڑکی والوں نے بڑی چالاکی سے لڑکے کے گھر والوں کو اپنے پرانے گھرمونگیر بلاکر دونوں کی شادی کرادی، شادی ہوجانے کے بعد گاؤں کے کچھ لوگوں کو خبر ہوئی کہ لڑکا قادیانی ہوگیا ہے، ہنگامہ ہوا اور ضلع کشن گنج کے ایک بڑے دینی ادارے میں انہیں لے جاکر توبہ تااللہ کرائی گئی، لیکن یہ محض ظاہری توبہ تھی، لڑکا اس کے بعد بھی قادیانی ہی بنارہا؛ لیکن سب کو کہتا تھا کہ میں مسلمان ہوں، میں نے توبہ کرلی ہے، اس کی شادی جس قادیانی لڑکی سے ہوئی تھی وہ قادیانیت مذہب کی عالمہ تھی، اس قادیانی لڑکی نے اب اپنے دیور کے لیے بھی جال بننا شروع کردیا اور اس کو بھی اپنی کسی بہن کے عشق میں ڈال دیا، بات شادی تک پہنچی اور 2020ء؁ میں پھرمونگیر میں ہی چھوٹے بھائی کے نکاح کی تقریب منعقد ہوئی؛ اس تقریب کی ویڈیو کچھ دنوں بعدسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی گاؤں والے پھر آگ بگولہ ہوگئے، پورے گاؤں والوں نے بیٹھک بلائی اور ضلع بھر سے علمائے کرام کو مدعو کیا، اس بیٹھک میں ان دونوں بھائیوں میں سے کوئی حاضر نہیں ہوا، وہ دونوں گاؤں سے فرار تھے؛ لیکن گاؤں والوں کا دعویٰ تھا کہ ان کے گھرانے کے سبھی لوگ قادیانی بن گئے ہیں؛ لہذا سب سے علی الاعلان توبہ تاللہ کرائی گئی، اور ان دونوں بھائیوں پر نظر رکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ،معلوم ہوا کہ قادیانی بننے والے دونوں بھائیوں نے گاؤں میں قادیانیت کی خفیہ تبلیغ بھی شروع کر رکھی تھی، کئی لوگوں کو پیسوں کا لالچ دے کر ان کی ذہن سازی کرتے اور اپنی جماعت کی نشستوں میں جانے کے لیے کہا کرتے تھے، کئی لوگ نکل کر آئے جنہوں نے بتایا کہ وہ دونوں پیسے لے کر ہمارے پاس بھی آئے تھے۔

اس طرح کے واقعات کے ضمن میں کچھ باتیں ذکر کی جاتی ہیں جو ہر سیدھے سادے مسلمان کو چوکنا کرتی ہیں:(۱) قادیانی سوشل میڈیا پر اپنی پہچان چھپاکر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں؛ لہذا کسی بھی انجان نمبر کی تحقیق کرلیا کریں۔(۲) قادیانیوں کا لہجہ شروع میں بہت متواضع اور خلیق ہوتا ہے، جب آپ اس کے اخلاق سے متاثر ہوجائیں گے تو وہ آپ کے لیے جال بچھانا شروع کردیں گے۔(۳) قادیانی اپنے آپ کو قادیانی نہیں کہے گا؛ بلکہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کرے گا کہے گا کہ ہم بھی اہل سنت اور اہل حدیث کی طرح ایک فرقہ ہیں جس کا نام احمدیہ جماعت ہے، جب آپ اسے مسلمان سمجھ کر بات کرنے لگ جائیں گے تو وہ آپ سے آپ کے حالات معلوم کرے گا، اگر آپ بے روزگار ہیں تو وہ آپ کو نوکری دلانے میں رہنمائی کرے گا، ہوسکتا ہے کہ وہ اعتماد حاصل کرنے کے لیے آپ کا مالی تعاون بھی کردے، پھر جب آپ اس کے مطابق کسی جگہ نوکری پر لگ جائیں گے تو وہ آپ کو اپنی عبادت گاہ لے کر جائے گا اور وہاں سبھی لوگ آپکا استقبال کریں گے، آپ کا ایسا اکرام کریں گے کہ آپ متاثر ہوجائیں، پھر کچھ دنوں بعد وہ اپنی جماعت کی ویل ٹرینڈ قادیانی لڑکی سے آپ کا رشتہ کردیں گے اور آپ کو بھی اپنی دوزخی جماعت میں شامل کرلیں گے، آپ آہستہ آہستہ کب مرتد ہوجائیں گے، خودآپ کو خبر نہیں ہوگی، آپ زندگی بھر یہی سمجھتے رہیں گے کہ میں ایک فرقے سے دوسرے فرقے میں آیا ہوں؛ حالانکہ آپ اسلام چھوڑ چکے ہوں گے۔ (۴) اگر آپ ان کے درمیان پہنچنے کے بعد قادیانی بنے بغیر واپس آنا چاہیں گے تو وہ آپ کو کسی بھی معاملے میں پھنساکر بلیک میل کریں گے، مثلاً کہیں گے کہ آپ ہمارے اتنے اتنے لاکھ روپے واپس کردیجیے، یا کسی لڑکی کو آپ پر فریفتہ کرکے اس کی خفیہ ویڈیو بنوا لیں گے اور پھر اسے آپ کے خلاف استعمال کریں گے؛ لہذا ان سبھی حالات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے علمائے کرام سے ربط ضبط رکھیے اور سوشل میڈیا پر اگر کوئی آپ کومذہب کے بارے میں گمراہ کرنا چاہے تو اس کو یہ کہہ کر بلاک کردیجیے کہ آپ عالم نہیں ہیں۔(۵) سوشل میڈیا پر آپ کو کوئی کتنا ہی غصہ دلائے آپ کسی سے بھی گالی گلوج یا دھمکی بھری گفتگو مت کیجیے تاکہ کوئی بعد میں آپ کو بلیک میل نہ کرسکے۔

آخر میں ہم احمدیہ جماعت کے خفیہ ایجنٹوں سے کہنا چاہیں گے کہ تم لوگ کب تک چھپ چھپ کر اسلام کے ماننے والوں کو گمراہ کروگے ، اگر واقعی تم حق کی تلاش میں ہو تو آؤ ہمارے پاس علمائے کرام کی ایک بڑی جماعت ہے ، اپنے امیر خامس سمیت اپنے گروپ کے تمام عالموں کو بلا لاؤ اور کسی جگہ بیٹھ کر تم اپنے دعوؤں پر بات کرلو۔ ان شاء اللہ حق غالب رہے گا اور تمہیں ہدایت کی راہ صاف نظر آنے لگے گی۔