ناندیڑ:8اپریل(ورق تازہ نیوز) نوجوانوں کو اب سوشل میڈیا پر بندوقوں، تلواروں اور چاقوو¿ں کے ساتھ فوٹو، ویڈیو پوسٹ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ تعزیرات ہند کی دفعہ 302، 307 لکھ کر کوئی پیغام نہ بھیجیں۔ کیونکہ پولیس اب ایسے نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔ اپنے مستقبل سے کھیل کرا سے تاریک نہ بنائیں۔ اس وقت نوجوانوں میں بہت سے قسم کے جنون پیدا ہو رہے ہیں۔ اس شوق کے ذریعے نوجوان ہاتھوں میں بندوقیں، تلواریں اور چاقو لے کر مختلف انداز کی تصاویر لے رہے ہیں۔ اس پر مختلف فلمی الفاظ لکھے رہے ہیں ۔ ویڈیو میں فلمی مکالمے شامل کررہے ہیں۔ اور ایسی تمام ویڈیوز پر انڈین پینل کوڈ نمبر 302، 307 لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہ الفاظ جوو خبروں میں نہیں لکھے جا سکتے، وہ اب سوشل میڈیا پر پوری طاقت کے ساتھ پھیلا رہے ہیں۔ اس میٹھی غلط فہمی کو آج پولیس نے غلط ثابت کر دیا۔

انیرودھ کاکڑے، جو ایک بار پھر ایئرپورٹ کے نئے پولیس انسپکٹر بن گئے ہیں، نے چار نوجوانوں کے خلاف انڈین آرمس ایکٹ کے تحت الزامات درج کیے ہیں اور گرفتار کر لیا ہے۔ 8 اپریل کی نصف شب تقریباً 12 بجے ایئرپورٹ انسپکٹر انیرودھ کاکڑے، ان کے اسسٹنٹ اسسٹنٹ انسپکٹر آف پولس بالو گیتے، پولس ملازمین دارا سنگھ راٹھوڑ، بالاجی کیندر، بندو قلندر اور دیگر شیو نیری نگر ناندیڑ میں گشت کر رہے تھے جب کہ سدرشن بالاجی سرپتے (19سال) اور سمیت دگمبر (22سال) کوحراست میں لیاگیا۔ ان کے قبضے سے جعلی پستول برآمد ہوئے۔ وہ لوگوں کو یہ باور کروارہے تھ کہ انکے پاس اصلی پستول ہے ۔۔ دارا سنگھ راٹھور کی شکایت پر دونوں نوجوانوں کے خلاف انڈین آرمس ایکٹ کی دفعہ 6/25 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 34 کے تحت مقدمہ نمبر 121 درج کیا گیا ہے۔

بھارت نگر سنگوی کے مناسنگھ عرف اکھل صاحب راٹھوڑ (27سال) اور رام نگر سانگوی کے آدتیہ پرکاش بال شنکر (19سال) کے خلاف اسی رات ایک اور واقعہ میں انڈین ویپن ایکٹ کی دفعہ 4/25 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آئی پی سی جرم نمبر 122/2022 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ دونوں معاملات کو سب انسپکٹر ریڈیکر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔اسلئے اب نوجوان اس قسم کے ہتھیار کے ساتھ فوٹو نہ کھینچیں، ہتھیار اپنے ساتھ نہ رکھیں، قاتل کے ساتھ ویڈیو نہ بنائیں اور اسے کسی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کریں۔ کیونکہ اب پولیس نے ایسی حرکتوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔