لکھنو:سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیانند کو طالبہ سے عصمت دری معاملہ میں کل بڑی راحت مل گئی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے چنمیانند کو عصمت دری معاملہ میں بری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ رنگداری مانگنے کے معاملے میں متاثرہ اور اس کے ساتھی کو بھی بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔ دراصل عصمت دری کا الزام عائد کرنے والی طالبہ اور اس کے ساتھیوں پر چنمیانند سے رنگداری مانگنے کا الزام لگا تھا لیکن سبھی ملزمین کو عدالت نے بے قصور قرار دیا ہے۔میڈیا میں آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ لکھنو کی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ کے خصوصی جج پون کمار رائے نے ثبوتوں کی عدم دستیابی میں سابق مرکزی وزیر سوامی چنمیانند عرف کرشن پال سنگھ کو فحش ویڈیو بنانے سمیت تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔ فیصلہ سناتے وقت عدالت نے کہا کہ فریق استغاثہ ملزم کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کر پایا۔واضح رہے کہ دو سال قبل شاہجہاں پور میں چنمیانند کے ٹرسٹ کی طرف سے چلائے جانے والے کالج لاء کی ایک طالبہ نے ان پر جنسی استحصال کا الزام عائد کیا تھا۔ 27 اگست 2019 کو طالبہ کے والد نے شاہجہاں پور کے تھانہ کوتوالی میں ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ اس کے بعد ستمبر میں چنمیانند کی گرفتاری ہوئی تھی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں