وارانسی: اترپردیش کے ضلع وارانسی میں قائم گیان واپی مسجد وکاشی وشو ناتھ متنازع اراضی ملکیت معاملے میں جمعرات کو اس وقت نیا موڑ آگیا جب 31سال پرانے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے فاسٹ ٹریک کورٹ کے سینئر جج نے گیان واپی احاطے کے آثار قدیمہ سروے کا حکم دے دیا۔اس ضمن میں سنی وقف بورڈ نے عدالت کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ وقف بورڈ کے وکیل ابھے ناتھ یادو نے کہا کہ عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر جاکر حکم دیا ہے ۔اس مقدمے کی سماعت کے دائر اختیار کے سلسلے میں سنی وقف بورڈ اور انجم انتظامیہ مسجد کمیٹی نے سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کی کورٹ نے چیلنج کیا تھا۔ گذشتہ سال 25فروری کو سول جج سینئر ڈویژن نے چیلنج کا خارج کردیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف سنی سنٹرل وقف بورڈ اور انجمن انتظامیہ مجسد کمیٹی نے ضلع جج کے یہاں نگرانی عرضی داخل کی تھی۔اس پر آئندہ 12اپریل کو سماعت ہونی ہے ۔ اسی مقدمے کی ویلیڈیٹی کے سلسلے میں ہائی کورٹ میں بھی سماعت چل رہی ہے ۔ اس معاملے میں دونوں فریقین کی جانب سے بچث پوری ہوچکی ہے اور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔گیان ویاپی احاطے کے متانزع مقام کا رڈار تکنیک اور کھدائی کے ذریعہ آثارقدیمہ کا سروے کیا جائے گا۔ اس کے لئے ہندوستان آثار قدیمہ کے ڈائرکٹر جنرل پانچ رکنی ٹیم کی تشکیل کریں گے ۔ یہ حکم سول جج(سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک کورٹ)آشوتوش تیواری کی عدالت نے جمعرات کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سنایا۔عرضی پر آئندہ سماعت 31مئی کوہوگئی۔ گیان واپی میں نئی مندر کی تعمیر اور ہندووں کو پوجا پاٹھ کرنے کا حق دینے وغیرہ کے سلسلے میں سال 1991 میں پراچین مورتی سوینبھو جیوترلنگ بھگوان وشیشور ناتھ کی جانب سے پانڈت سومناتھ ویاس اور ہریہر پانڈے وغیرہ نے مقدمہ دائر کیا تھا۔اس وقت سے یہ معاملے عدالت میں التواکا شکار ہے ۔ٹھنڈے بستے میں پڑے اس معاملے کے سلسلے میں بابری مسجد۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں فیصلہ آنے کے بعد بھگوان وشیشور ناتھ کے دوست وجے سنگھ رستوگی نے 10دسمبر 2019 کو عدالت میں دوبارہ عرضی داخل کر کے دعوی کیا تھا کہ گیان ویاپی احاطے میں جیوتلرنگ وشوشیوکا مندر ہے ۔مخالف فریق کا دعوی ہے کہ سال 1669 میں مغل بادشار اورنگ زیب نے مندر کو توڑوا دیا تھا اس کے بعد وہاں مسجد کی تعمیر کرا کے نماز کا سلسلہ شروع کرایا تھا۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ملک کی آزادی کے دن گیان ویاپی کا مذہبی اسٹیٹس مندر کا ہی تھا۔آج بھی متانزع ڈھانچے کے نیچے 100فٹ کا جیوترلنگ موجود ہے ۔ساتھ ہی دیگر دیوی دیوتاوں کے مندر بھی موجود ہیں۔ایسے میں رڈار تکنیک سے اور کھدائی کروا کرہندوستانی آثارقدیمہ کی ٹیم سے سروے کرا کر مذہبی اسٹیٹس کو واضح کرایا جائے ۔اس دعوی والی عرضی پر انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی اور سنٹرل سنی وقف بورد نے اعتراض کر تے ہوئے کہا تھا کہ گیان ویاپی میں مندر نہیں تھااور ہمیشہ سے وہاں مسجدہی رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک جگہ دو جیوتر لنگ کیسے ہوسکتے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں