سنہ 2025ء امریکا اور چین کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے: امریکی جنرل

116

ایک امریکی جنرل نے سنہ2025ء میں چین کے ساتھ جنگ کے بڑھتے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ امریکی فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر تائیوان کی وجہ سے چین کے ساتھ جنگ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ اس سال سے شروع ہونے والی ممکنہ لڑائی کے لیے تیار رہیں۔

ایئر فورس کے جنرل مائیکل منی ہین نے ایک داخلی میمو میں لکھا کہ جس کی تصدیق پینٹاگان نے جمعہ کو ’اے ایف پی‘ کو کی "مجھے امید ہے کہ میں غلط ہوں، میرا دل مجھے بتاتا ہے کہ ہم 2025 میں چین سے لڑیں گے۔”انہوں نے فوج سے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے پاس 2025 میں "ایک ہی وقت میں ایک ٹیم، ایک مہم اور ایک موقع ہے”۔ 2024 کے تائیوان کے انتخابات چینی رہ نما کوحرکت میں آنے کی "ایک وجہ” دیں گے۔

ایئر موبیلٹی کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیک منی ہین نے چونکا دینے والی داخلی یادداشت جس پر ان کے دستخط ہیں اور پینٹاگان دستاویز کے اصلی ہونے کی تصدیق کی ہے، میں کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد چین کو ’اور اگر ضرورت پڑے تو شکست دینا‘ ہونا چاہیے۔

وہ یادداشت جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، سب سے پہلے این بی سی نیوز نے اس کے بارے میں بتایا تھا۔ اس پر رواں سال کی یکم فروری کی تاریخ درج ہے۔ دستاویز میں کئی اشارے درج ہیں جن میں ’حتمی نتیجہ‘ اور ’خطرہ ‘ کے عنوان سے درج اشارے بھی شامل ہیں اور اس سال فروری سے اپریل تک کے اہداف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

’مجھے امید ہے کہ میں غلط ہو سکتا ہوں لیکن میرا ذہن کہتا ہے کہ ہم 2025 میں جنگ کریں گے۔‘جنرل منی ہین نے میمورنڈم میں کہا اور ممکنہ جنگ کی پیشگوئی کے لیے اپنی دلیل دی۔

انہوں نے کہا کہ چین اگلے سال تائیوان کے صدارتی انتخاب پر نظر رکھے گا کیوں کہ یہ الیکشن چینی صدر شی جن پنگ کو خطے میں فوجی جارحیت میں اضافے کا جواز پیش کرے گا۔ اسی سال امریکی صدارتی انتخاب کی وجہ سے چینی صدر کو ایسا ’امریکا ملے گا جس کی توجہ کہیں اور مرکوز ہو گی۔‘جنرل منی ہین کا کہنا تھا کہ ’شی کی ٹیم، وجہ اور موقع تمام باتیں 2025 کے لیے مربوط ہیں۔‘

’حتمی نتیجے‘ کے اشارے کے تحت جنرل نے ’جزیرے کی پہلی زنجیر کے اندر لڑنے اور جیتنے‘ کے لیے ’ایک مضبوط، تیار، مربوط اور فعال جوائنٹ فورس مینوور ٹیم‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہ واضح نہیں ہے کہ جنرل منی ہین کس جزیرے کی زنجیر کا حوالہ دے رہے ہیں۔ امریکا اس کے علاقائی اتحادی اور چین متنازع جنوبی بحیرہ چین کے علاقے میں مسلسل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔میمورنڈم میں ایئر موبیلٹی کمانڈ (اے ایم سی) کے تمام ایئر ونگ کمانڈروں اور ایئر فورس کے دیگر آپریشنل کمانڈروں کو مخاطب کیا گیا ہے۔

یادداشت میں فروری کے لیے تمام کمانڈروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ چین کے خلاف جنگ کی تمام بڑی تیاریوں کے بارے میں اسی ماہ کی 28 تاریخ تک جنرل کو رپورٹ کریں۔جنرل کے فروری کے ہدف کے تحت اے ایم سی کے تمام عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پورے فہم کے ساتھ کہ کسی افسوس کے بغیر سات میٹر دور ہدف پر گولیاں چلائیں۔ ’سر کا نشانہ لیا جائے۔‘

رپورٹ کے مطابق تمام عملے سے کہا گیا ہے کہ اپنا ریکارڈ اور ہنگامی صورت حال کے فون نمبر اپ ڈیٹ کریں۔ مارچ کے لیے جنرل نے اے ایم سی کے اہلکاروں سے کہا ہے کہ ’وہ اپنے ذاتی معاملات کا جائزہ لیں اور آیا یہ کہ بیس کے لیگل آفس کا دورہ طے کیا جانا چاہیے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ قانونی لحاظ سے تیار ہوں۔‘