نئی دہلی ۔ سپریم کورٹ نے آج عام آدمی پارٹی لیڈر و رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ کو نفرت انگیز تقریر کے مقدمہ میں راحت دی اور ان کی گرفتاری پر حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ یہ مقدمات اترپردیش میں درج کئے گئے ہیں۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اترپردیش کی پولیس سنجے سنگھ کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے صدر نشین راجیہ سبھا سے اجازت طلب کرسکتی ہے ۔ عدالت نے اترپردیش حکومت کو سنجے سنگھ کی درخواست پر نوٹس جاری کی ہے ۔ سنجے سنگھ نے اپنی درخواست میں ان کے خلاف درج تمام ایف آئی آر کو ایک جگہ کرنے اور انہیں کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے ۔ سنجے سنگھ پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ سال 12 اگسٹ کو ایک پریس کانفرنس کرکے ریاستی حکومت کو ایک مخصوص فرقہ کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ عدالت میں آج سماعت کے دوران بنچ نے سنجے سنگھ کے وکیل سے کہا کہ رکن پارلیمنٹ ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم نہیں کرسکتے ۔ عدالت نے کہا کہ اترپردیش پولیس سنجے سنگھ کے خلاف مقدمہ کی اجازت کیلئے صدر نشین راجیہ سبھا سے رجوع ہوسکتی ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں