ناندیڑ:28جنوری۔ (ورق تازہ نیوز)سماجوادی پارٹی مہاراشٹر کے کارگزار صدر جناب سید معین نے آج ناندیڑ میں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا کہ سماجوادی پارٹی ناندیڑحلقہ لوک سبھا انتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ کانگرس پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لئے بات چیت جاری ہے لیکن کانگریس اپنا موقف واضح نہیں کررہا ہے اس لئے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر عالی جناب ابوعاصم اعظمی (رکن اسمبلی )کی ہدایت پر مہاراشٹر کے اہم حلقوں جہاں پرپارٹی کاتنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہے وہاں سماجوادی پارٹی لوک سبھا چناو¿ میں اپنے امیدوار کھڑاکرے گی جس میں ناندیڑ بھی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ ممبئی کے چار ‘ناسک ‘بیڑ ‘اکولہ وغیرہ بھی شامل ہیں ۔سید معین نے کہا کہ یوپی میں بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان انتخابی مفاہمت ہوئی ہے اور کانگریس پارٹی کو دو نشستیں دینے کااعلان بھی کیاگیا ہے اسکے باوجود کانگریس نے وہاں پر تمام حلقوں پرامیدوارکھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں پر کانگریس کی پوزشن کافی کمزور ہے ۔ مہاراشٹرمیں بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہاں پر ریاستی و مقامی قائدین سے بات چیت چل رہی ہے ۔کانگریس سے اتحاد کے بارے میں کہا کہ ابتداءمیںبات چیت ہوئی تھی لیکن بعد میں کانگریس نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اسی لئے سماج وادی پارٹی کے قائدین نے مہاراشٹرمیں لوک سبھا حلقہ انتخابات میں حصہ لینے کااعلان کردیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں سید معین نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ”رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا“۔مہاراشٹرمیں ایم آئی ایم ۔بھاریپ بہوجن مہاسنگھ کی ونچت اگھاڑی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر سید معین نے کہا کہ یہ اگھاڑی مہاراشٹرمیں ناکام ہوگی جسے ونچت نہیں بلکہ وَچتر اگھاڑی کہاجاناچاہئے ۔ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی اور اشوک راو¿ چوہان کے درمیان معاہدہ ہوچکا ہے۔ اس لئے ایم آئی ایم نے ونچت اگھاڑی سے ساتھ چھوڑنے کافیصلہ کرلیا ہے ۔اس پریس کانفرنس میں سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر الطاف سر‘راشد صدیقی ‘محسن سنار ‘سید نظیرکے علاوہ دیگر عہدیداران موجود تھے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں