سلمان رشدی پرحملہ کرنے والا شخص کیاسپاہِ پاسداران انقلاب ایران کاحامی اور ہمدردہے؟

255

امریکا کے شہرنیویارک میں توہین رسالت کے مرتکب ناول نگار سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے شخص کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ابتدائی جائزے سے پتا چلتاہے کہ اسے ’’شیعہ انتہا پسندی‘‘اورایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب سے ہمدردی ہے۔75سالہ رشدی کو جمعہ کے روز نیویارک کےمغرب میں واقع شوٹاکواانسٹی ٹیوشن میں فنکارانہ آزادی کے موضوع پر سیکڑوں سامعین سے گفتگو کرنے کے لیے متعارف کرایا جا رہا تھا جب ایک شخص اچانک اسٹیج پر پہنچا اوراس نے رشدی پر چاقو سے پے درپے وار شروع کردیے جس سے وہ زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور نیو جرسی کے علاقے فیئرویو سے تعلق رکھتا ہے۔اس کی عمر 24 سال اور نام ہادی مطر ہے۔اس نے بھی تقریب میں شرکت کا پاس خریدکررکھا تھا۔وہ لبنانی نژاد بتایا جاتا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک عہدہ دار نے کہا کہ ہادی مطر اور پاسداران انقلاب کے درمیان کوئی ’’حتمی روابط‘‘ نہیں ہیں لیکن مطر سے تعلق رکھنے والی سیل فون میسجنگ ایپ میں پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور’’ایرانی حکومت سے ہمدردی رکھنے والے عراقی انتہا پسند‘‘کی تصاویر شامل ہیں۔

یادرہے کہ سلمان رشدی کو طویل عرصے سے 1988 میں شائع ہونے والے اپنے چوتھے ناول ’’دی سیٹینک ورسز‘‘(شیطانی آیات) کی وجہ سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا تھا۔ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف اہانتِ رسول پرمبنی یہ کتاب لکھنے پرقتل کا فتویٰ جاری کیا تھا اور ایران نے اس دریدہ دہن مصنف کے سرکی قیمت مقرر کی تھی۔1989ء میں روح اللہ خمینی نے اس فتویٰ یا مذہبی فرمان میں مسلمانوں سے مطالبہ کیا تھاکہ وہ رشدی اور کتاب کی اشاعت میں شامل کسی بھی شخص کوتوہین رسالت کے الزام میں قتل کردیں۔ایرانی تنظیموں نے،جن میں سے بعض حکومت سے وابستہ ہیں،رشدی کے قتل کے لیے انعامی رقم کے لیے لاکھوں ڈالر اکٹھے کیے تھے۔خمینی کے سپریم لیڈر کے طورپرجانشین علی خامنہ ای نے متعدد مواقع پر اس فتوے کا اعادہ کیا ہے۔انھوں نے 2019 میں آخری مرتبہ اپنے ٹویٹراکاؤنٹ کے ذریعےاس کی توثیق کی تھی۔سپاہِ پاسداران انقلاب ایران سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی اوردیگرخبررساں اداروں نے 2016 میں اس مقصد کے لیے خطیررقم عطیہ کی تھی تاکہ رشدی کے سرکی مقررکردہ انعامی رقم میں 6 لاکھ ڈالر کا اضافہ کیا جا سکے۔ فارس نے رشدی کو مرتد قرار دیا تھا۔