سلطنت عثمانیہ کے لوگوں کی کچھ ایسی عادات جنہوں نے ان کو دنیا فتح کرنے میں مدد دی

سلطنت عثمانیہ کو بچانے کے لیے تحریک خلافت چلائی گئی یہ وہ وقت تھا جب کہ مختلف سازشوں کے سبب سلطنت عثمانیہ تنزلی کا شکار تھی- مگر بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے یہ سلطنت مسلم اکائی کا ایک اہم عنصر تھی اس وجہ سے اس کو بچانے کی انہوں نے ہر ممکن کوشش کی-

پاکستان کے شہریوں کی ترکی اور سلطنت عثمانیہ سے یہی محبت تھی جس نے ڈرامہ ارطغرل غازی کو ایسی مقبولیت دی جس نے ہر طرح کے ریکارڈ توڑ دیے اسلام کے نام پر قائم کی جانے والی سلطنت عثمانیہ کی تاریخ ڈرامہ ارطغرل غازی کے سبب آج بچے بچے کی زبان پر ہے۔

مگر حقیقی طور پر اس سلطنت کے عروج کے کچھ ایسے اسباب بھی تھے جو کہ عام انسان کی نظر سے آج بھی پوشیدہ ہیں انہی کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے-

مہمان کی مدارت کا طریقہ
جب ترکوں کے پاس کوئی مہمان آتا تو وہ اس کے سامنے قہوہ اور پانی دونوں چیزیں پیش کرتے تھے اگر مہمان پانی اٹھاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ مہمان نے کھانا نہیں کھایا ہوا ہے- اس وجہ سے اس کو کھانا پیش کیا جاتا اور اگر وہ قہوہ اٹھاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ شکم سیر ہے اس کو مزيد کھانے کی حاجت نہیں ہے- اس طرح میزبان بغیر کچھ کہے سمجھ جاتا کہ اس کے مہمان کی خواہش کیا ہے-

گھر میں لڑکی جوان ہے
لڑکی کے ماں باپ اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے خود سے بولتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ہیں مگر ہر ماں باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بچی کی شادی اچھی عمر میں ہو جائے- اس وجہ سے عثمانی حکومت کے دور میں جس گھر میں جوان لڑکی ہوتی وہ اپنے گھر کے باہر سرخ پھول لگا لیا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس گھر میں رشتہ بھیجا جا سکتا ہے-

گھر میں مریض ہے
اگر کسی کے گھر میں کوئی فرد بیمار ہوتا تو اس کے آرام کا خیال رکھنا صرف گھر والوں کی ذمہ داری نہ ہوتی بلکہ اردگرد کے لوگوں کی بھی یہ ذمہ داری ہوتی کہ وہ مریض کے آرام کا خیال رکھیں اور گھر کے باہر شور شرابہ نہ کریں- اس وجہ سےگھر والے گھر کے باہر پیلے پھول لگا لیتے جس کا مطلب ہوتا کہ گھر میں کوئی بیمار موجود ہے-

گھر کے باہر دو ہتھوڑے
سلطنت عثمانیہ اسلامی حکومت تھی جس میں پردے کے اہتمام کا خصوصی خیال رکھا جاتا اس وجہ سے گھر کے باہر دو ہتھوڑے رکھ دیے جاتے تھے- اگر بڑے ہتھوڑے سے گھر کا درازے پر دستک دی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ مہمان مرد ہے اور گھر کا دروازہ مرد کو کھولنا چاہیے اور اسی طرح اگر چھوٹے ہتھوڑے سے دروازہ بجایا جاتا تو دروازے پر خاتون آکر مہمان خاتون کو خوش آمدید کہتی تھیں-

صدقہ دینے کا انوکھا انداز
اسلامی شعائر کے مطابق کسی غریب کی مدد کے لیے ایسا اہتمام کیا جاتا کہ اس کی عزت نفس مجروح نہ ہو اس وجہ سے مالدار افراد سبزی فروشوں اور دکانداروں کے پاس اپنے نام سے کھاتا کھلوا لیا کرتے تھے- جس میں وہ ہر مہینے پیسے جمع کروا دیا کرتے تھے جب کہ ضرورت مند اس دکاندار سے بغیر پیسے ادا کیے خریداری کرلیتا تھا اور پیسوں کی ادائیگی ان پیسوں سے ہو جاتی تھی-

نبی پاک نبی پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا عجیب مظاہرہ
اگر کسی عثمانی ترک کی عمر اس زمانے میں 63 سال سے بڑھ جاتی تو وہ کسی کو یہ نہ کہتا تھا کہ میری عمر 63 سال ہوگئی ہے بلکہ نبی پاک صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی عمر کی نسبت سے کیوں کہ ہمارے نبی کا وصال 63 سال کی عمر میں ہو گیا تھا- وہ آدمی انتہائی ادب سے کہتا کہ ہم حد سے بڑھ گئے ہیں جس سے سننے والا سمجھ جاتا تھا کہ ان کی عمر 63 سال سے زيادہ ہو گئی ہے-

شرافت اور نجابت کی یہی وہ خصوصیات تھیں جن کے باعث سلطنت عثمانیہ نہ صرف آدھی دنیا تک پھیلی بلکہ آج بھی اس کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں انتہائی عزت سے کیا جاتا ہے-