Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک

  • اسد علی بی بی سی اردو، لندن

وہ دو اکتوبر 1187 کی تاریخ اور جمعے کا دن تھا جب دنیا کے ‘مذہبی دارالحکومت’ اور سب سے ‘متنازع’ سمجھے جانے والے شہر یروشلم میں تقریباً نو دہائیوں کے وقفے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں ایک بار پھر مسلمانوں کی حکمرانی کا دور شروع ہوا تھا۔شہر کی فصیلوں پر ایوبی پرچم لہرایا گیا تھا اور مذہبی مقامات سے مسیحیت کی علامات ہٹانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔ ٹھیک 833 برس قبل دو اکتوبر کی وہ رات شب معراج کی رات بھی تھی۔
یروشلم جنگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک محاصرے کے بعد شہر کے مسیحی منتظمین اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں مسلمانوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ شہر کا ہر باسی معاہدے میں طے کی گئی رقم ادا کر کے آزادی سے کسی دوسرے مسیحی علاقے میں جا سکتا تھا۔ جو لوگ پہلے ہونے والے ممکنہ ظلم کا سوچ کر پریشان تھے اب اس فکر میں تھے کہ اپنی آزادی خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں۔
دو اکتوبر کے دن اور آنے والے کئی ہفتوں تک شہر سے لوگ رقم ادا کر کے جاتے رہے۔ جو نہیں ادا کر سکتے تھے وہ مدد مانگتے رہے اور ان میں سے ہزاروں کی مدد خود سلطان صلاح الدین ایوبی اور ان کے بھائی سیف الدین نے ذاتی طور پر ان کا تاوان ادا کر کے کی اور بہت سے غربا کو شہر کے سابق مسیحی حکمرانوں کی درخواست پر بغیر تاوان ادا کیے جانے دیا گیا۔

مؤرخ جانتھن فلپس نے سلطان صلاح الدین کی زندگی پر اپنی کتاب ‘دی لائف اینڈ لیجنڈ آف سلطان سلاڈن (صلاح الدین)’ میں لکھا ہے کہ ‘یروشلم کے مسیحی شہریوں کو کچھ ایسا دیکھنے کو نہیں ملا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ مسلمانوں کے محاصرے کے دوران یروشلم کی خواتین نے اپنے بال کٹوا دیے تھے کہ وہ فاتح فوج کے سپاہیوں کی نظروں میں نہ آئیں لیکن فلپس لکھتے ہیں کہ فتح اور یروشلم پر قبضے مکمل کرنے کا مرحلہ طے کرنے کے بعد سلطان صلاح الدین نے خاص طور پر عورتوں کے معاملے میں رحم دلی کا مظاہرہ کیا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔۔۔سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ ان کا یہ جذبہ سچا تھا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی تھا۔ وہ ان کو فروخت کر سکتے تھے یا اپنے فوجیوں کے حوالے کر سکتے تھے۔’
یروشلم کی فتح کے موقع پر سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہر اس اندازے کو غلط ثابت کیا جو شاید ماضی میں اس شہر میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اسی یورپ میں جہاں انھیں اپنے زمانے میں’خون کا پیاسا’ اور ‘شیطان کی اولاد!’ کہا گیا تھا، وہاں 20 ویں اور 21 ویں صدی میں ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا۔
یہ وہی یروشلم تھا جس کی سنہ 1099 میں فتح کے بعد صلیبیوں کی یروشلم میں داخلے کے موقع پر یہاں ہر طرف لاشیں تھیں اور مرد، عورتیں اور بچے کوئی فاتحین کی تلواروں سے محفوظ نہیں تھا۔ مصنف جسٹن ماروزی نے اپنی کتاب ‘اسلامی سلطنتیں: 15 شہر جو ایک تہذیب کو بیان کرتے ہیں’ میں یروشلم کے بارے میں باب میں مسیحی ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے صلیبیوں کی فتح کے بعد شہر کے مناظر بیان کیے ہیں۔ انھوں نے صلیبیوں کے رویے کی مثال کے طور پر ان کے ایک عہدیدار کا بیان نقل کیا ‘زبردست مناظر تھے۔ ہمارے فوجیوں نے دشمنوں کے سر قلم کر دیے۔۔۔۔۔۔ کچھ کو زیادہ تکلیف دینے کے لیے آگ میں جھونکا گیا۔ گلیوں میں سروں، کٹے ہوئے پیروں اور ہاتھوں کے ڈھیر تھے۔’
سلطان صلاح الدین ایوبی کا چیلنج یروشلم کی فتح پر ختم نہیں ہوا بلکہ انھیں اندازہ تھا کہ اب مسیحی دنیا جس پر یروشلم جیسے مقدس شہر کے ہاتھ سے نکلنے کی خبر بجلی بن کر گری ہو گی اس کو واپس حاصل کر نے کی کوشش کرے گی۔
سنہ 1187 میں یروشلم کی فتح سے تیسری صلیبی جنگ میں اس کے کامیاب دفاع کا باب تقریباً پانچ برسوں پر محیط ہے، وہ صلیبی جنگ جس میں مغربی یورپ کے بڑے بڑے بادشاہ خود شریک ہوئے اور یورپ بھر سے لوگوں کو جنگ میں شرکت پر مائل کرنے کے لیے سلطان کی بدترین سے بدترین شبیہ پیش کی گئی لیکن جنگ کے لیے آنے والے نہ صرف یروشلم حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ سلطان کی ایک مختلف تصویر لے کر واپس گئے جو تمام تر پراپیگنڈے کے باوجود آج تک قائم ہے۔مثال کے طور پر اس اکتوبر ہی میں ناروے میں ‘سیلاڈن ڈے’ (یوم صلاح الدین) منایا جائے گا۔ بی بی سی اردو سروس نے ناروے کے ایک ادارے ہاؤس آف لٹریچر سے رابطہ کیا جو سنہ 2009 سے ‘بین الاقوامی سیلاڈن ڈے’ منا رہا ہے، اور ان سے پوچھا کہ ناروے میں کسی کو صلاح الدین ڈے منانے کا خیال کیسے آیا؟

اس ادارے کی رکن اور صلاح الدین ڈے کی کیوریٹر اشلد لاپےگارد لاہن نے بتایا کہ اس خیال کا پہلی بار اظہار سنہ 2008 میں ناروے کے ایک قومی شاعر ہینریک ویرگے لیند کی 200 سالہ تقریبات کے دوران کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہینریک ویرگے لیند وہ شاعر تھے جنھوں نے ناروے کے آئین میں اس ترمیم کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے بعد یہودیوں کو اس ملک میں آنے کی اجازت ملی تھی۔ وہ مذہبی رواداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔اشلد لاہن نے بتایا کہ سنہ 2008 میں اس تقریب کے دوران ناروے کے ایک مصنف تھوروالد سٹین نے تجویز پیش کی کہ ویرگے لیند کی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں صلاح الدین کی یاد میں بھی ایک دن منانا چاہیے کیونکہ انھوں نے یروشلم کی فتح کے موقع پر جس کردار کا مظاہرہ کیا تھا وہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے مل کر رہنے کے بارے میں ایک سبق ہے۔
اشلد لاہن نے بتایا کہ ‘ناروے کی طرح شاید یورپ میں بھی بہت کم لوگ صلاح الدین کے بارے میں جانتے ہیں اور جو جانتے بھی ہیں، ان کی نظر میں وہ ان کا موازنہ (صلیبی جنگوں کے یورپ میں ہیرو) رچرڈ شیردل سے کرتے ہیں اور ان کے خیال میں صلاح الدین ایک وِلن ہیں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ‘صلاح الدین ڈے’ کے ذریعے ہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں۔’
بات صرف ناروے کی نہیں برطانیہ کی شاہی بحریہ نے پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک جنگی جہاز کو ‘ایچ ایم ایس سیلاڈن’ کا نام دیا اور پھر سنہ 1959 اور 1994 کے درمیان برطانوی فوج نے ‘سیلاڈن’ کے نام سے ایک بکتر بند گاڑی بھی بنائی۔ یہ وہی برطانیہ ہے جہاں سے انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل نے تیسری صلیبی جنگ میں مسیحی فوج کی قیادت کی تھی۔جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ ‘میں کہوں گا کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔’
یروشلم کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے یورپ سے پہنچنے والی فوج اور سلطان صلاح الدین کے درمیان تقریباً تین برس پر پھیلے ٹکراؤ (تیسری صلیبی جنگ) کی تفصیلات کے ذکر سے پہلے بات کریں گے صلاح الدین اور ان کے خاندان کے ماضی کی اور جہاد کے اس ماحول کی جس میں مشرق وسطیٰ کے لوگوں کی یروشلم کی بحالی کی توقعات ان سے وابستہ ہو گئی تھیں۔ ‘
تاہم اس شخص کو جس نے 800 سال پہلے مغرب کو شکست دے کر یروشلم کو فتح کیا تھا ایک مثالی کردار کے طور پر یاد کیا گیا۔ برطانیہ کی رائل نیوی نے پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک جنگی جہاز کو ’ایچ ایم ایس سیلاڈن‘ کا نام دیا اور پھر سنہ 1959 اور 1994 کے درمیان برطانوی فوج نے ’سیلاڈن‘ کے نام سے ایک بکتر بند گاڑی بھی بنائی۔ یہ وہی برطانیہ ہے جہاں سے انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل نے تیسری صلیبی جنگ میں مسیحی فوج کی قیادت کی تھی۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں انگلینڈ کی فوجی بکتر بند گاڑی ملک کے نورفوک ٹینک میوزیم میں رکھی ہے۔ میوزیم سے رابطے پر انھوں نے تصدیق کی اس بکتر بند گاڑی کا نام ’سیلاڈن‘ سلطان صلاح الدین کے نام پر ہی رکھا گیا ہے۔
جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ ’میں کہوں گا کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔‘
سلطان صلاح الدین ایوبی کا سنی اسلامی دنیا کے روحانی رہنما بغداد کے خلیفہ اور مصر کے اسماعیلی شیعہ فاطمی خلیفہ کے ساتھ تعلق خاص اہمیت کا حامل ہے اور آخر میں ان کا ذکر ایک اور مسلمان سلطان نور الدین زنگی کے ذکر بغیر نامکمل ہے۔ ایوبی اور زنگی خاندانوں کے عروج کی کہانی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہے اور اس میں ایوبی خاندان زنگی خاندان کے تابع تھا۔
فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین کی سلطنت کے شمالی افریقہ سے شروع ہو کر مقدس مقامات اور شام کو اپنے اندر سموتے ہوئے آج کے عراق میں دریائے دجلہ تک اپنی سرحدیں پھیلانے کے عمل میں حیران کن حد تک مختلف مذہبی، نسلی اور سیاسی پس منظر کے لوگ شامل تھے۔ ان کی کہانی خونی جنگوں سے بھری ہے لیکن یہ جنگیں ہمیشہ سیدھا سیدھا ایک مذہب کی دوسرے مذہب سے لڑائی نہیں تھی۔’
’اس کہانی میں مسیحی مسیحیوں سے اور مسلمان مسلمانوں سے لڑتے ہوئے ملیں گے۔ اس میں مسلمان اور مسیحی مل کر دوسرے مسلمانوں اور مسیحیوں سے لڑتے ہوئے ملیں گے۔‘ اس کہانی میں لوگوں نے پارٹیاں بھی بدلیں اور لڑائی نئے روپ میں اب بھی جاری رہی۔‘
’اس وقت بھی آج کی طرح کسی بھی معاملے میں زمینی صورتحال اس تصویر سے بہت مختلف اور الجھی ہوئی تھی جو کہ دور سے نظر آتی ہے۔ نسلی، سیاسی، اقتصادی اور ذاتی مفادات کی کھچڑی تھی جو صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں کھڑی تھی۔‘
ایوبی اور زنگی بزرگوں کی ملاقات: احسان کا بدلہ احسان
اس کہانی کی بنیاد سنہ 1132 میں صلاح الدین ایوبی کی پیدائش سے بہت پہلے رکھی گئی تھی جب ان کے والد نجم الدین ایوب عراق کے شہر تِکریت کے گورنر تھے۔ فلپس کے مطابق ایک روز زنگی نامی ایک طاقتور ترک جنگجو سردار دشمنوں سے بچتے ہوئے دریائے دجلہ کے کنارے ان کے شہر کے دروازے پر آئے۔ ایوب نے انھیں پناہ دی اور ان کا یہی فعل بعد میں تاریخی ثابت ہوا۔
کئی برس بعد سنہ 1137-38 میں نجم الدین ایوب کے بھائی شیرکوہ نے ایک عورت کی توہین کرنے پر ایک مقامی فوجی کمانڈر کو ہلاک کر دیا اور اس کی پاداش میں نہ صرف ایوب سے عہدہ چھن گیا بلکہ پورے خاندان کو علاقہ بھی چھوڑنا پڑا۔ اس وقت ترک سردار زنگی نے پرانے احسان کے بدلے اس کرد خاندان کو موصل میں بسایا اور انھیں زمینیں بھی الاٹ کر دیں۔
فلپس لکھتے ہیں کہ انھی دنوں میں نجم الدین ایوب اور ان کے خاندان کے تکریت چھوڑنے سے کچھ ہی عرصہ پہلے صلاح الدین کی پیدائش ہوئی تھی۔
سردار زنگی کے علاقے کے مسلمان حکمرانوں سے تو جھگڑے تھے ہی لیکن ان کے عزائم نے انھیں فرنجیوں (الفرنجہ/فرینکس) کے سامنے بھی لا کھڑا کیا۔ یہ وہ مسیحی تھے جنھوں نے سنہ 1099 کی پہلی صلیبی جنگ کے بعد یورپ سے آ کر اس علاقے میں آزاد ریاستیں قائم کی تھیں۔ ان مسیحیوں کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے جہاد کا پہلو اہم ہو گیا۔
فلپس لکھتے ہیں کہ سنہ 1105 دمشق میں ایک عالم السلیمی نے جہاد کی تبلیغ کی تھی اور مسلمان اشرافیہ کو اسلام کے اس پہلو کو نظر انداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا پیغام آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا اور پھر 1140 کی دہائی میں دمشق کے ایک مدرسے کی دیوار پر زنگی کے لیے مجاہد اور سرحدوں کے محافظ کے الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے سنہ 1144 میں الرُّهَا‎ شہر بھی فرینکس کے قبضے سے چھین لیا جس پر انھوں نے پہلی صلیبی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اس کامیابی پر انھیں بغداد میں خلیفہ کی طرف سے سند بھی ملی۔
نور الدین زنگی اور جہاد
سنہ 1146 میں سردار زنگی کے اچانک انتقال کے بعد ان کی جگہ ان کے چھوٹے بیٹے نور الدین زنگی نے لی جو آئندہ 30 برسوں تک بہت بڑی صلیبی مخالف قوت بن کر ابھرے۔ صلاح الدین کی زندگی پر ان کا بہت اثر تھا۔ نورالدین نے خطے میں جہاد کی ایسی بنیاد ڈالی جسے پھر صلاح الدین ایوبی آگے لے کر چلے۔ جہاد کے جذبے میں شدت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں دوبارہ فتح کی خواہش بھی پیدا ہو گئی۔
سنہ 1160 کی دہائی کے دوران صلاح الدین اپنے بھائی تران شاہ کی جگہ دمشق کے پولیس چیف بنے اور اس طرح انھیں انتظامیہ کا کچھ تجربہ حاصل ہوا۔ اس دوران وہ اپنے چچا شیرکوہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے نورالدین زنگی کے قریبی حلقوں کا حصہ بن چکے تھے اور حکمرانی کے طور طریقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
فلپس لکھتے ہیں کہ ‘نور الدین عظیم حکمران تھے اور ہوشیار کرد نوجوان کے لیے بہترین مثال۔’
فرینکس، زنگی اور مصر کی کشش
تقریباً دو صدیوں سے اسماعیلی شیعہ فاطمی خلافت کے زیرِ کنٹرول مصر خطے کا دولت مند علاقہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فرینکس اور دمشق کے حکمران نورالدین زنگی کو احساس ہو گیا کہ فاطمی خلافت کمزور ہو رہی ہے اور جو اس پر قبضہ کرے گا وہ دوسرے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
’جو بھی مصر حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا وہ اس دولت کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ مشرقی بحیرۂ روم کو بھی کنٹرول کرتا۔‘
اس چیز کا سب سے زیادہ احساس شیرکوہ کو تھا جنھوں نے نورالدین زنگی کو مصر فوج بھیجنے پر آمادہ کر لیا۔ فرینکس بھی خاموش نہیں رہ سکتے تھے اور دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔
فلپس لکھتے ہیں کہ یہ پہلا موقع ہے جب صلاح الدین کسی میدان جنگ میں قائدانہ کردار میں سامنے آتے ہیں۔ شیرکوہ نے انھیں مرکزی دستوں کا کمانڈر بنایا جسے فرنگیوں کے زوردار گھڑسوار دستوں کا سامنا کرنا تھا۔ انھیں حکم تھا کہ حملہ ہوتے ہی وہ درمیان سے جگہ چھوڑ دیں گے اور جب مسیحی گھڑسواروں کی تنظیم خراب ہو گی تو شیرکوہ اپنے گھڑسواروں کے ساتھ دوسری جانب سے حملہ کر دیں گے۔
منصوبہ کامیاب رہا اور مسیحیوں کے کمانڈر قیدی بنا لیے گئے۔
ایوبی خاندان کی ترقی
دریں اثنا ایوبی خاندان ترقی کرتا رہا اور سنہ 1137-38 میں زنگی سے پناہ حاصل کرنے والے 1157 میں نورالدین زنگی کے سب سے قابل اعتبار ساتھیوں میں شامل تھے۔
مصر میں وزارتِ عظمیٰ کی لڑائی نے نورالدین زنگی کو مصر کی سیاست میں مداخلت کا موقع دے دیا۔ وزارت عظمیٰ کی لڑائی میں بڑی تعداد میں اہم لوگ متحارب دھڑوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے اور یہ فاطمی سلطنت کے لیے آگے چل کر بہت نقصان دہ ثابت ہوا۔
انھوں نے لکھا ہے کہ ’یہ وہ زمانہ تھا جب ہم صلاح الدین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کہ ان کی مصروفیات کیا تھیں۔‘ عام خیال ہے کہ ان کا زیادہ وقت دمشق میں پولو کھیلتے اور شکار کرتے گزرتا ہوگا اور یقیناً انھوں نے کچھ فوجی مہمات میں بھی اپنے چچا شیرکوہ کے ساتھ حصہ لیا ہوگا۔ انھوں نے دمشق میں شدت اختیار کرتا جہادی ماحول بھی دیکھا ہوگا۔
صلاح الدین شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر
تاریخ بتاتی ہے کہ دو سال میں دو بار شیرکوہ کی قیادت میں فوج نے مصر کو مسیحی فوج کے حملے سے بچایا۔ فاطمی خلیفہ العاضد نے 1169 میں شیرکوہ سے ملاقات کے بعد نہ صرف انھیں اپنا وزیر بنا لیا بلکہ فوج کی کمان بھی انھیں سونپ دی۔ غیرملکی اور غیر شیعہ اس سے پہلے بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے تھے لیکن ایک فاتح فوج کے سپہ سالار کو یہ عہدہ دیا جانا نئی بات تھی۔
نورالدین کے لیے یہ ایک نئی صورتحال تھی۔ وہ مصر کو مسیحیوں کے ہاتھوں میں جاتا تو نہیں دیکھ سکتے تھے لیکن اب ان کے شیرکوہ کے ساتھ تعلق پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ ’نورالدین نے شیرکوہ اور صلاح الدین کی شام میں جاگیریں ختم کر دیں لیکن شیرکوہ اس کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہے اور بیماریوں کا شکار ہو کر اسی سال 1169 میں انتقال کر گئے۔‘
اس بار فاطمی خلیفہ نے صلاح الدین کو منتخب کیا ’کیونکہ ان میں شاہانہ صفات کے ساتھ ساتھ فقیر کی عاجزی بھی تھی۔‘ ایک اور رائے یہ بھی ہے کہ فاطمی خلیفہ نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جسے وہ سیاسی طور پر کمزور سمجھتے تھے اور جسے اُن کا خیال تھا وہ اپنے زیر اثر رکھ سکیں گے۔ اگر واقعی انھوں نے ایسا سوچا تھا تو تاریخ نے انھیں غلط ثابت کیا۔
مصر میں صلاح الدین کا دور ان کی آنے والی کامیابیوں کے لیے بہت اہم ثابت ہوا۔ بحیثیت وزیر ان کے دور کی پہچان ان کی سخاوت، خوش قسمتی، قوت ارادی اور دیگر بڑے حکمرانوں کی طرح ایک بڑا منصوبہ تھا۔ برسوں بعد اس دور کے مؤرخ بہاؤالدین نے لکھا کہ وزیر بننے پر انھوں نے شراب اور ’وقت ضائع کرنے والے مشاغل چھوڑ دیے تھے۔‘
صلاح الدین اور سنی اسلام
صلاح الدین کو جلد ہی خزانے پر بھی اختیار مل چکا تھا۔ انھوں نے سنی انتظامیہ کے فروغ کے لیے کافی کام کیا۔ انھوں نے شافعی مدرسے بنوائے۔ جب قاہرہ کے شیعہ قاضی تبدیل ہوئے تو ان کی جگہ بھی ایک سنی قاضی نے لی۔ قاہرہ میں ایک نئی اشرافیہ جگہ بنا رہی تھی۔ صلاح الدین کا حلقہ وسیع ہو رہا تھا۔
تاہم مصر پر فرنگی، آرمینیائی اور نوبیا کے فاطمی مخالفین کے حملے کا خطرہ بدستور موجود تھا۔ صلاح الدین نے قاہرہ کی تقریباً سو سال پرانی دیواروں کی مرمت کروائی۔ ایوبی قاہرہ کا مذہبی اور سیاسی منظرنامہ ہی تبدیل نہیں کر رہے تھے بلکہ اس کی شکل صورت بھی بدل رہے تھے۔
تاہم اسی زمانے میں خلیفہ بیمار پڑ گئے۔ اس وقت تک ایوبی خاندان نے مصر میں بہت کچھ تبدیل کر دیا تھا، خلیفہ کی عملاً گرفت کمزور ہو چکی تھی لیکن ان کے مذہبی منصب سے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس ماحول میں ایران سے مصر آنے والے ایک عالم نے منبر سے تین ستبر سنہ 1171 کو بغداد کے خلیفہ کے لیے دعا کروا دی۔ اس پر کوئی رد عمل نہ دیکھ کر صلاح الدین کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی اور انھوں نے آئندہ جمعے سے قاہرہ اور فسطاط کی تمام مساجد سے ایسا ہی کرنے کا حکم دے دیا۔
صلاح الدین اور ان کے ساتھیوں کی توقعات کے برعکس اس بار پھر کوئی ردعمل نھیں تھا اتنی بڑی تبدیلی پر یہ خاموشی بظاہر حیران کن لگتی ہے۔ لیکن اس زمانے میں فرقہ وارانہ تقسیم اتنی شدید نھیں تھی۔ اس وقت بغداد میں رہنے والے ایک شیعہ عالم ابو تراب نے صلاح الدین کو برا بھلا ضرور کہا تھا لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ انھی دنوں میں صلاح الدین کی سوانح لکھنے والے ابن ابی طیب شیعہ تھے اور ان کے مداح تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت مصر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ سنی تھا۔ اسکندریہ میں دہائیوں سے سنی مدرسے قائم تھے۔
فسطاط اکثریتی طور پر سنی شہر تھا جہاں یہودی، قبط، مغربی، سوڈانی اور غیرملکی تاجر بھی رہتے تھے۔ قاہرہ میں آرمینیائی، ترک غلام دستے موجود تھے اور فاطمی خود کئی بار شمالی افریقی بربروں کا سہارا لے چکے تھے۔ ان حقیقتوں کی روشنی میں فاطمی اسماعیلی خلیفہ اہلِ تشیع اور اہلِ تسنن کے درمیان حدود کو مبہم کر چکے تھے۔
فاطمی خلیفہ العاضد کی صحت اتنی خراب تھی کہ کسی نے انھیں خطبے کی تبدیلی سے آگاہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ جلد ہی ان کا بغیر یہ جانے انتقال ہو گیا کہ ان کے دارالحکومت میں کسی اور کے نام کا خطبہ پڑھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فاطمی خلافت ختم ہو گئی۔
مصر میں اب اصل طاقت صلاح الدین تھے۔ وہ خلیفہ العاضد کو اچھا اور سخی انسان سمجھتے تھے۔
مصر کے وزیر صلاح الدین نے خلیفہ کے بیٹے سے ملاقات کی اور انھیں کہا کہ ’خلافت کے معاملے میں آپ کے والد کا ایجنٹ ہوں اور انھوں نے آپ کی وراثت کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی‘۔ اس طرح وہ اپنے والد کے بعد خلیفہ نہیں بن سکے۔
مصر میں اب سکوں پر بغداد کے خلیفہ اور نورالدین زنگی کا نام نظر آنے لگا۔ بغداد سے نورالدین اور صلاح الدین ایوبی کے لیے خلعتیں روانہ کی گئیں۔ شعراء نے دونوں کی شان میں قصیدے لکھے۔ یہ صلاح الدین کے لیے نیا میدان تھا۔
صلاح الدین کا بیٹا اور جرمنی کے بادشاہ کی بیٹی
تاریخ بتاتی ہے کہ صلاح الدین کے بڑھتے ہوئے رتبے کا مغرب میں بھی نوٹس لیا گیا۔ جرمنی کے بادشاہ فریڈرک بارباروسا نے سنہ 1172 میں انھیں قاہرہ میں تحائف بھیجے۔ سلطان صلاح الدین کی طرف سے بھی 1173 کی خزاں میں جرمنی میں شاہی دربار میں تحائف پیش کیے گئے۔ فلپس لکھتے ہیں کہ ان دنوں صلاح الدین کے ایک بیٹے اور فریڈرک کی بیٹی کی شادی کا بھی ذکر ہوا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمن بادشاہ نے صلاح الدین سے نورالدین کا ذکر کیے بغیر خود مختار حکمران کے طور پر رابطہ کیا۔
مؤرخ جانتھن فلپس کہتے ہیں کہ صلاح الدین اور بادشاہ فریڈرک کے درمیان رابطے صلیبی جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان انتہائی کشیدہ تعلقات کے تصور کی نفی کرتے ہیں۔ انھوں نے لکھا یہ سچ ہے کہ دونوں فریق وسیع تناظر میں ان رابطوں کے ذریعے اپنے لیے بہتر پوزیشن بنانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود یہ رابطے اہم تھے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ انھی دنوں میں سٹراسبورگ سے ایک جرمن پادری نے بھی مصر اور شام کا دورہ کیا اور مذہبی مقامات پر گئے جن میں سے کئی ایسے تھے جنھیں مسلمانوں اور مسیحی دونوں مقدس سمجھتے تھے۔ انھوں نے مصری قبطیوں، شامی مسیحیوں اور ان کے مسلمان حکمرانوں کے درمیان اچھے تعلقات کا ذکر کیا۔
اس کا نتیجہ جرمنی کے بادشاہ کا صلاح الدین کے ساتھ سمجھوتے کی صورت میں سامنے آیا جو سنہ 1188 تک قائم رہا جب فریڈرک نے تیسری صلیبی جنگ کا عزم کیا۔ فریڈرک نے اس موقع پر تعلقات کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
نور الدین کے ساتھ رشتے میں پہلی دراڑ
ان کا سب سے اہم سیاسی رشتہ نورالدین کے ساتھ تھا، جس میں پہلی بڑی دراڑ سنہ 1171 میں اس وقت آئی جب نورالدین نے ایک محاذ پر جاتے ہوئے انھیں بھی ساتھ طلب کیا مگر صلاح الدین اُن کے ساتھ نہیں گئے۔ صلاح الدین نے مصر میں رکنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ممکنہ اسماعیلی بغاوت کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔
نورالدین زنگی اب ایک مخمصے کا شکار تھے۔ ان کا ایک سابق کمانڈر اب ایسے علاقوں پر قابض تھا جو ان کے اپنے علاقوں سے مالدار تھے۔ دوسری طرف صلاح الدین اور ان کے خاندان نے اسماعیلی خلافت کے خاتمے میں اور بغداد کے سنی خلیفہ کے رتبے میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہ بھی درست ہے کہ اس پیشرفت میں نورالدین کا بھی کچھ ہاتھ تھا۔
مؤرخ ابن الاثیر لکھتے ہیں کہ ’نورالدین کی رائے صلاح الدین کے بارے میں بدل گئی اور انھوں نے مصر جا کر ان کو بے دخل کرنے کا عہد کر لیا تھا۔‘ ان کے اختلافات منظر عام پر بھی آ گئے۔ لیکن وہ شدید بیمار ہو گئے اور 15 مئی 1174 کو 60 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔
فلپس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گی کہ جہاد کے نقطہ نظر سے نورالدین زنگی نے وہ بنیاد فراہم کی جس کے بغیر صلاح الدین کا منظر پر آنا مشکل ہوتا۔ انھوں نے وہ ماحول پیدا کیا جس میں صلاح الدین اور ایوبی خاندان نے پیشرفت کی۔
صلاح الدین ایوبی کے اگلے کچھ سال شام میں اپنا اختیار قائم کرنے میں لگ گئے۔ نورالدین کی موت سے مصر اور شام کے درمیان خانہ جنگی کا خطرہ بھی ٹل گیا تھا لیکن نورالدین زنگی کے اہل خانہ کو صلاح الدین پر اعتماد نہیں تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ نورالدین کی وراثت صلاح الدین کے پاس جائے۔ یہ صورتحال اگلے سال اپریل تک چلی جب نورالدین زنگی کے بیٹے الصالح حلب کے علاوہ شام کے تمام علاقوں پر صلاح الدین کا حق تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
فلپس بتاتے ہیں کہ اپریل کے آخر میں صلاح الدین نے اہم پیشرفت میں الصالح کے نام کے سکے بند کروا دیے اور اپنے علاقوں میں جمعہ کے خطبوں میں بھی ان کا نام رکوا دیا۔
سنہ 1175 کے موسم گرما میں سلطان نے فرینکس سے بھی وقتی صلح کر لی۔ وہ بظاہر جنگی مہمات کے طویل سلسلے کے بعد کچھ دیر کے لیے رکنا چاہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ خطے میں قحط نے بھی صورتحال مشکل کر دی تھی۔
خلیفہ کی طرف سے صلاح الدین کو ’یروشلم فتح کرنے کی تیاری کا پیغام‘
دریں اثنا بغداد سے صلاح الدین کو شام کا حکمران تسلیم کرنے کی درخواست کا بھی جواب آ گیا۔ فلپس بتاتے ہیں کہ خط کے ساتھ عباسی خلافت کا سیاہ پرچم، ان کے لیے خصوصی لباس اور انھیں مصر، یمن اور شام کے اُن علاقوں کا حکمران تسلیم کرنے والی سند بھیجی گئی جو اُس وقت اُن کے قبضے میں تھے۔
مگر صلاح الدین کے لیے مایوسی کی بات یہ تھی کہ اسی طرح کی سند حلب میں الصالح کے لیے بھی جاری کی گئی تھی۔
مؤرخ فلپس کے مطابق یہ خلیفہ کی طرف سے سلطان کے لیے پیغام تھا کہ نورالدین زنگی کے وارثوں اور حلب کے لوگوں کی رائے کا احترام کیا جائے اور وہ خود اب یروشلم کو دوبارہ فتح کرنے کی تیاری کریں۔
سنہ 1187 تک سلطان صلاح الدین کو یروشلم آزاد کروانے کے عزم کا اعادہ کرتے ایک دہائی گزر چکی تھی۔ اب ان کے پاس شام اور مصر اور ’جزیرہ‘ کے علاقے کے وسائل کے ساتھ ایک وسیع سفارتی نیٹ ورک بھی تھا کہ وہ پوری توجہ اس مشن پر لگا سکیں۔
فلپس لکھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں اور سرداروں سے نمٹنے میں صلاح الدین کا اتنا وقت لگ گیا کہ لوگ کہنے لگے کہ وہ اپنا مقصد بھول کر مسلمانوں سے ہی لڑتے رہتے ہیں۔ ’سالوں کے پروپیگنڈے کے بعد اب سلطان کے لیے فیصلہ کن وار کرنا ضروری ہو گیا تھا۔‘
اسی سال ایک مقامی مسیحی نواب رینلڈ نے ایک تجارتی کارواں پر حملہ کر کے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اور پھر قیدیوں کو واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔
اب سلطان کے پاس حملہ کرنے کا جواز تھا اور انھوں نے اپنے اقتدار کی سب سے بڑی فوج جمع کی۔ ’ہر طرف ایوبی خاندان کے زرد پرچم لہرا رہے تھے۔‘ فلپس نے سلطان کے قریبی مؤرخ عماد الدین کے حوالے سے لکھا کہ ایسے لگتا تھا جیسے زمین نے نے نیا لباس پہن لیا ہو۔ صلاح الدین نے کہا کہ یہی وہ دن ہے جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔
دو جولائی کو سلطان کے فوجیوں نے طبریا (ٹائبیریاس) نامی ایک شہر کا گھیراؤ کر لیا جس کا حکمران لارڈ ریمنڈ مرکزی مسیحی فوج کے ساتھ تھا اور شہر کا انتظام ان کے اہلیہ کے ہاتھ میں تھا۔ لارڈ ریمنڈ کی بیوی نے شہر پر سلطان کے قبضے کے وقت ایک قلعے میں پناہ لے لی۔ ایک لارڈ کی بیوی کو تحفظ فراہم کرنا علاقے کے مسیحی اشرافیہ کے لیے عزت کا مسئلہ بنا دیا گیا۔
فلپس نے مسلمان مؤرخ ابن الاثیر کا حوالہ دیا ہے کہ ’سلطان کے طبریا پر حملے کا صرف ایک مقصد تھا کہ مسیحی فوج کو اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور کیا جائے‘ اور اس میں وہ کامیاب ہو گئے تھے۔ اس جنگ کو معرکہ حطین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
معرکہ حطین کی اہمیت اور عکا شہر پر قبضہ
فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین کی معرکہ حطین میں کامیابی اور اس میں فرینکس کی فوج کی تباہی نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا۔ لیکن یروشلم حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ’اگلے سات ہفتے انھوں نے سلطنت یروشلم میں کئی زبردست مہمات کیں جن میں سے کئی کی قیادت انھوں نے خود کی۔‘
عکا کا شہر 8 جولائی کو فتح ہوا اور کئی دہائیوں میں پہلی بار وہاں 10 جولائی سنہ 1187 کو جمعے کی نماز ادا کی گئی۔ اس کے بعد بیروت فتح ہونے میں بھی زیادہ دن نھیں لگے۔
اشکیلون کو فتح کرنے میں دو ہفتے لگے۔ یہاں بھی صلاح الدین نے شہر والوں کے ساتھ سختی نہیں کی۔ ’وہ قتل عام کا سلسلہ نہیں چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ کہیں پر ان کے خلاف زیادہ مزاحمت نہ ہو اور ان شہروں کے قریب مسلمانوں کی بھی آبادیاں تھیں۔‘
اشکیلون کے باسیوں کو یروشلم جانے کا موقع دیا گیا جہاں وہ پناہ گزینوں کی اس بڑی تعداد کا حصہ بن گئے جو مذہبی جذبے سے یروشلم کے دفاع میں حصہ ڈالنے کے لیے وہاں پہنچ رہے تھے۔
سلطان صلاح الدین کی یروشلم آمد
صلاح الدین 20 ستمبر 1187 کو یروشلم پہنچے۔ شہر پر تیروں کی بارش تھی۔ ہر طرف نقاروں، ڈھول اور شدید نعروں کا شور گونج رہا تھا۔ شہر میں تیروں سے اتنا نقصان ہوا کہ اس وقت لاطینی مسیحی دنیا کے سب سے بڑے ہسپتال سینٹ جان ہسپتال کو بھی زخمیوں سے نمٹنے میں مشکلات پیش آنے لگیں۔
سلطان نے کہا کہ معرکہ حطین میں کامیابی اور یروشلم کی دیواروں کے باہر ان کی موجودگی خدا کی نصرت کا ثبوت ہیں۔ سلطان نے اپنی تقریر کا اختتام اس عزم پر کیا کہ ’وہ یروشلم سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک ڈوم آف دی راک یا قبۃ الصخرہ پر ان کا قبضہ نہیں ہو جاتا۔‘
معرکہ حطین میں شکست کے بعد کسی مسیحی امدادی فوج کی آمد کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ یروشلم کے بادشاہ تو معرکہ حطین میں قیدی بن گئے تھے اور ان کی جگہ شہر کے منتظم بالیان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کھیل ختم ہو گیا ہے اور ہتھیار ڈالنے کے مذاکرات شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
شہر پر قبضے کے لیے خونی ٹکراؤ سے بچنے کے فوائد، مسلمان قیدیوں کی زندگی اور مقدس مقامات کی سلامتی کی صورت میں واضح تھے۔ اس کے علاوہ اس صورت میں مسیحی قیدیوں کے لیے ملنے والے ممکنہ تاوان کی شکل میں مالی فائدے کا بھی امکان تھا۔
ہتھیار ڈالنے کی تاریخ دو اکتوبر طے کی گئی جو جمعے کا دن تھا اور سنہ 1187 کی یہ رات معراج کی رات بھی تھی۔ اس تاریخ کی وجہ سے یروشلم کی فتح کا منظر دیکھنے کے لیے صوفیوں، درویشوں اور علما کو بھی وہاں پہنچنے کا وقت مل گیا۔
یروشلم اور عورتیں
ذرائع کے مطابق شہر میں بچوں اور عورتوں کے علاوہ 60 ہزار مرد تھے۔ شہر کے مسیحی حکمران بالیان نے مختلف طبقات کی مدد سے 18 ہزار غریب افراد کے لیے 30 ہزار دینار کا بندوبست کیا۔ ’اگلے کچھ ہفتوں تک شہر میں لوگ اپنا سامان بیچ کر اپنی آزادی کے لیے پیسوں کا بندوبست کرتے رہے۔‘
فلپس نے لکھا ہے کہ سب کے لیے دس دینار قیمت طے کرنے پر صلاح الدین تنقید کا نشانہ بھی بنے کیونکہ امیر لوگ با آسانی یہ پیسے دے کر اپنے قیمتی سامان کے ساتھ یروشلم سے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ لوگوں نے ایسے ایک امیر مسیحی عہدیدار کا قیمتی سامان ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن صلاح الدین نے جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے بلکہ انھوں نے اُن لوگوں کو اُن کی منزل تک سکیورٹی بھی فراہم کی۔
مؤرخ لکھتے ہیں اس کے باوجود ’16 ہزار غریب لوگ شام اور مصر کی غلاموں کی منڈیوں میں بکے۔‘
پہلا جمعہ اور ’اسلام کے نئے ہیرو‘
مسیحی قبضے میں تقریباً نو دہائیوں میں تمام مقدس مقامات پر مسیحیت کی چھاپ لگ چکی تھی۔ سلطان نے ہر جگہ کو اسلامی تقاضوں کے مطابق بحال کرنے کا حکم دیا۔ مسلمانوں کی حکمرانی میں یروشلم میں نو اکتوبر پہلا جمعہ تھا۔
جمعہ کی نماز کی امامت کے لیے سلطان کا فیصلہ دمشق کے قاضی اور شاعر محی الدین کے حق میں تھا جنھوں نے چار سال قبل سنہ 1183 میں حلب کی فتح کے موقع پر یروشلم کی فتح کی پیشینگوئی کی تھی۔ جمعہ کا خطبہ مسجد الاقصی میں دیا گیا۔ قاضی محی الدین نے سنہ 1187 کی یروشلم کی فتح کا موازنہ تقریباً ساڑھے پانچ سو سال قبل سنہ 638 میں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے دور میں اس شہر کی فتح سے کیا۔
انھوں نے سلطان صلاح الدین کو اسلام کا نیا ہیرو قرار دیا۔ ادھر سلطان صلاح الدین کو احساس تھا کہ اب انھیں ایک اور صلیبی جنگ کا سامنا کرنا ہوگا جو یروشلم کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے لڑی جائے گی۔ انھیں معلوم تھا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے انھیں مزید فرنگی علاقوں پر قبضہ کرنا ہوگا۔
سلطان اور بغداد کے خلیفہ
فلپ لکھتے ہیں کہ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ بغداد سے خلیفہ کا ایک پیغام آیا۔ سلطان اپنی فتح کے پیغام کے بعد مبارکباد کی توقع کر رہے تھے لیکن ہوا اس کے برعکس۔ دراصل سلطان نے فتح کی اطلاع ایک نوجوان اور ناتجربہ کار ایلچی کے ہاتھوں بھیجا تھی جس کو بغداد میں پسند نھیں کیا گیا۔ بظاہر اس بات کو خلیفہ کو نیچا دکھانے کی کوشش سمجھا گیا۔‘
سلطان نے جواب میں مصر، یمن اور یروشلم میں اپنی کامیابیاں گنوائیں۔ ’کیا میں نے یروشلم کو حاصل کر کے مکہ سے نھیں جوڑا۔۔۔۔کیا میں نے اپنی کارروائیوں سے مغرب کو مرعوب نھیں کیا۔‘
فلپس لکھتے ہیں کہ ایک اور صلیبی جنگ آتے دیکھ کر وہ سنی اسلامی دنیا کے روحانی پیشوا کو ناراض نہیں کر سکتے تھے۔
صلیبی جنگ کی تیاری اور سلطان کی صحت
ستمبر کے مہینے تک صلاح الدین ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر چکے تھے۔ فلپس سلطان کے حلقے میں شامل مؤرخوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس وقت تک مسلمان فوجیں تھک چکی تھیں اور انھیں آرام کی ضرورت تھی۔ سپاہیوں کے ساتھ ساتھ سلطان کو خود بھی آرام کی ضرورت تھی۔
ان کے سیکرٹری کے مطابق سلطان کی جہاد کے لیے تیاری کا یہ عالم تھا کہ وہ رمضان کے مہینے میں بھی آرام نھیں کرتے تھے۔ ’یہ جتنا بھی قابل تعریف تھا حقیقت یہ ہے کہ جیسا آگے چل کر ہوا اس چیز نے ان اور ان کے قریبی ساتھیوں کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔‘
یورپ میں صلیبی جنگ کی تیاری
ادھر یورپ میں تیسری صلیبی جنگ کی تیاری زوروں پر تھی اور گرمیوں کے آغاز میں پہلے صلیبی دستے کی آمد متوقع تھی۔
فلپس لکھتے ہیں کہ پادریوں اور مسیحی امرا نے مغربی یورپ کے دورے کیے اور لوگوں سے کہا کہ مشرق میں مسلمانوں کے ہاتھوں بہت مسیحی خون بہا ہے اور مقدس مقامات کی توہین معمول بن گیا ہے۔ سلطان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مسیحیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
’یروشلم کی شکست لاطینی مسیحی دنیا کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا جس کی اس سے پہلے لاطینی دنیا میں مثال نھیں تھی اور واقعے کا موجب اور مرکزی کردار کے طور پر سلطان صلاح الدین سے برا شخص کوئی نھیں ہو سکتا تھا۔‘
یورپ میں فرانس کے بادشاہ فلپ آگستس، انگلینڈ کے بادشاہ ہنری دوم، جرمنی کے بادشاہ فریڈرک بارباروسا اور کئی دیگر حکمران صلیب تھام چکے تھے۔ اب صلیبی جنگ کی تبلیغ، فوجیوں کی بھرتی اور مقدس مقامات تک پہنچنے کے لیے ایک سال کا وقت درکار تھا۔ کچھ چھوٹی مہمات پہلے ہی روانہ ہو چکی تھیں۔ ان کی پہلی منزل صور کا شہر تھا۔ جرمنی کے بادشاہ مئی 1189 میں روانہ ہوئے۔
عکا کا طویل محاصرہ اور محاذ پر جوش و خروش
مسیحی فوج نے عکا شہر کی طرف پیش قدمی کی۔ انھوں نے اگست کے آخری ہفتے میں عکا کے سامنے ایسی جگہ پڑاؤ ڈالا کہ انھیں ساحل سے امداد حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اب بیچ میں عکا شہر تھا اس کے گرد مسیحی فوج جو خود صلاح الدین کے فوجیوں کے گھیرے میں تھی۔
فلپس لکھتے ہیں کہ عکا شہر کے لیے یہ لڑائی قرون وسطی کے طویل ترین محاصرے پر مشتمل تھی جو تقریباً دو سال تک جاری رہا۔ سب کو معلوم تھا کہ جو بھی یہاں کامیاب ہو گا اسے یروشلم پر قبضے کے لیے ہونے والی لڑائی میں واضح برتری حاصل ہو گی۔
دونوں طرف اتنا جوش و خروش تھا کہ سمندر پار مغربی یورپ سے اور اسلامی دنیا سے ہزاروں مرد اور عورتوں اس محاذ پر جمع ہو رہے تھے۔ ایک طرف انگلینڈ، فرانس، ویلز، ڈنمارک، فلینڈرز ، ہالینڈ، بیلجیم اور جرمن سلطنت بشمول شمالی اٹلی، پولینڈ، ہنگری، جنوبی اٹلی، سسلی، جنووا، وینس اور پیسا سے مسیحی صلیبی جنگ میں حصہ لینے کے لیے آئے تھے اور ان کے مقابلے کے لیے مصر، شام، یمن، ایشیائے کوچک، آذربائیجان اور خراسان سے آنے والوں کے علاوہ ترک، کرد، عرب، نوبی، آرمینیائی اور بدو مسلمان بھی وہاں موجود تھے۔
مسلمان اور مسیحی فوجیوں کی گپ شپ اور ناچ گانا
عکا کے طویل محاصرے کے سب سے یادگار واقعات سنہ 1191 کے گرمیوں کے موسم میں فرانس کے بادشاہ فلپ آگستس اور انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل کے وہاں پہنچنے کے بعد پیش آئے۔ ان کی آمد سے پہلے کے 20 ماہ تیزی سے بیان ہوتے طویل جنگ نامے کے منظر کی طرح تھے۔
فلپس لکتھے ہیں کہ کسی بھی جنگ کے کچھ ادوار اس کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن اتنی طویل جنگ میں پورا سال ہر روز لڑا نھیں جا سکتا۔ اس میں سفارتکاری کے باب آتے ہیں، تھکی ہوئی فوجیں آرام کرنے کے لیے رکتی ہیں، ہفتوں تک خراب موسم جنگ نھیں ہونے دیتا اور جنگوں کے دوران بوریت سے سب واقف ہیں۔
مؤرخ بہاؤالدین لکھتے ہیں کہ کئی بار بوریت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دونوں طرف کے فوجی لڑائی بھول کر ایک دوسرے سے بات چیت میں لگ جاتے اور بات مل کر گانے اور ناچنے تک بھی پہنچ جاتی۔
فوجی کیمپوں میں گرم پانی کے ٹب میں لیٹنے کی قیمت ایک درھم
مؤرخ لکھتے ہیں کہ حیران کن طور پر دونوں کیمپوں کے درمیان خوراک کی خرید و فروخت بھی جاری تھی۔ محاصرے کا ایک سال ہورا ہوا تو لوگ اس کی حقیقتوں سے سمجھوتہ کر چکے تھے۔ فلپس لکھتے ہیں کہ جنگ کی تھکان اتارنے کے خواہشمندوں کو صرف مغربی تاجروں کے پاس جانے کی ضرورت تھی جن کے گرم پانی کے ٹب میں لیٹنے کی قیمت ایک درہم تھی۔‘
مسیحی اور مسلمان فوجی کیمپوں میں بیماری
بیماری بھی دونوں کیمپوں کے لیے ایک مسئلہ تھا جس سے کئی اہم رہنما بھی متاثر ہوئے اور کئی جان کی بازی ہار گئے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ’تیروں، تلواروں اور آگ برساتے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ جانیں بیماری کے ہاتھوں ضائع ہوئی تھیں اور دونوں طرف کی اعلی قیادت کے بہت سے فیصلے افواج کی صورتحال سے متاثر ہو کر کیے گئے تھے۔‘
صلیبیوں کا بیماری سے خاص طور پر زیادہ نقصان ہوا کیونکہ انھیں خطے کے ماحول، بیماریوں اور موسم کی عادت نھیں تھی۔ ان میں تین اہم لوگ جو ہلاک ہوئے تھے ان میں یروشلم کی سلطنت کی ملکہ سبیلا اور ان کی دو بیٹیاں بھی شامل تھیں۔
سردیوں میں مسلم ذرائع بتاتے ہیں صلیبی فوج میں روزانہ 100 فوجی ہلاک ہو رہے تھے۔ مغربی ذرائع لکھتے ہیں ہر کوئی کھانس رہا تھا، لوگوں کی ٹانگیں اور منہ سوجے ہوئے تھے اور ان کے دانت گر رہے تھے۔ مکئی اور انڈے حد سے مہنگے ہو چکے تھے اور مرا ہوا گھوڑا زندہ گھوڑے سے مہنگا تھا۔ تاہم ان تکالیف کے باوجود صلیبی پر امید تھے۔ انھیں یقین تھا کہ مزید کمک آرہی ہے۔
وسطی ستمبر تک عکا شہر میں خوراک کی شدید قلت بھی پیدا ہو گئی۔ شہر کے منتظمین نے سلطان تک یہ خبر پہنچائی تو انھوں نے مکمل رازداری کا حکم دیا۔ انھیں معلوم تھا کہ مصر سے تین بحری جہاز خوراک کا بڑا ذخیرہ لے کر عکا آ رہے ہیں۔ اتنا وقت نھیں تھا کہ ان جہازوں کو رازداری سے شہر کی طرف لایا جائے اور انھوں نے سیدھا بندرگاہ کا رخ کیا۔ سلطان اس دوران بے چینی سے ساحل پر انتظار کر رہے تھے۔ ’وہ ایک گھبرائی ہوئی ماں کی طرح خدا سے فتح مانگ رہے تھے۔‘
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سلطان کی فوج میں زیادہ تر تنخواہ دار سپاہی تھے۔ سنہ 1187 اور 1188 کی کامیابیاں سب کے لیے فائدہ مند تھیں لیکن عکا کے طویل ہوتے محاصرے کی کشش کم ہو رہی تھی۔
سلطان کا خلیفہ کی بھیجی ہوئی مدد لینے سے انکار
انتظار کا یہ کھیل یقیناً ’سلطان کے لیے بہت تھکا دینے والا تھا جنھیں معلوم تھا کہ اس وقت مغربی یورپ کے بادشاہ ان خلاف بہت بڑی فوج کھڑی کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ سلطان کے طرف سے ہر طرف مسلم طاقتوں سے رابطہ کیا گیا۔ عماد الدین نے بغداد میں خلیفہ کو بھی مدد کے لیے پیغام بھیجا۔
مارچ 1190 کے آخر تک سلطان کو شام کے شہروں حمص اور حما سے امداد پہنچ چکی تھی۔ ان کے بھائی سیف الدین بھی مصر سے فوج کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔
لیکن اس دوران بغداد میں خلیفہ کی خاموشی سلطان کے لیے پریشان کن تھی۔ ان کی طرف سے ’آتش یونانی‘ کچھ مقدار میں، محاصرے کی جنگ کے ماہر کچھ انجنیئر اور 20 ہزار دینار بھیجے گئے جو سلطان نے انتہائی ادب کے ساتھ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ ’مسئلہ امداد کی مقدار سے زیادہ ان کی طرف سے سلطان کی مشرق قریب کو جہاد کے لیے اکٹھا کرنے کی کوششوں کو مکمل اخلاقی حمایت نہ ملنا تھا۔‘
فلپس لکھتے ہیں مسلمان حکمران جنھوں نے ان کا ساتھ نھیں دیا یا ان کی مدد نھیں کر سکے یہ فعل ان میں مذہبی جذبے کی کمی کی بجائے علاقائی مجبوریوں کا عکاس ہے، جیسا کہ بہت سے سلجوق سرداروں کے ساتھ ہوا۔ اس کے علاوہ کچھ حکمران خاندان شاید ایوبی خاندان کو فائدہ بھی نھیں پہنچانا چاہتے تھے۔
مسیحیوں کا پانچ منزلہ چلتا ہوا ٹاور اور نوجوان مسلمان تانبہ گر کا جوابی وار
سردیوں کے موسم میں بارش اور کیچڑ نے کیمپوں میں زندگی مشکل کر دی لیکن اس دوران مسیحیوں نے محاصرہ توڑنے کے لیے تین دیو ہیکل ٹاور تعمیر کر لیے۔ ہر ٹاور پانچ منزل اونچا تھا۔ لکڑی کی قیمت بہت زیادہ تھی اور ان کو کسی حملے سے بچانے کے لیے مٹی اور سرکہ لگے چمڑے سے لپیٹا گیا تھا۔ اس کا سب سے اونچا پلیٹ فارم اتنا بڑا تھا کہ اس پر منجنیق رکھی جا سکتی تھی۔
آتش گیر مادہ فائر کر کے ان کو جلانے کی کوشش کی گئی لیکن بے سود۔ صلاح الدین کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے عملے میں ایک تانبہ گر کا بیٹا موجود تھا جو ’آتش یونانی‘ کے ساتھ تجربے کر کے اس کی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے سلطان کو منا لیا کہ اسے کسی بھی طرح شہر کے اندر داخل کروایا جائے۔
اس نوجوان نے اپنے تجربات کی روشنی میں کیمیائی مادہ تیار کیا جسے برتنوں میں بھر کر ایک ٹاور کی طرف داغا گیا لیکن ٹاور کو کوئی فرق نھیں پڑا۔ فلپس لکھتے ہیں کہ وہ لڑکا مایوس نھیں ہوا۔ شہر کی دیوار سے ٹاور تک فاصلے کا اندازہ تو اسے ہو چکا تھا۔ دوسری بار اس نے برتن میں مقدار بڑھا کر فائر کروایا اور اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب ٹاور میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد دوسرا اور تیسرا ٹاور بھی اسی طرح تباہ کر دیا گیا۔ اس لڑکے کو اب شہر سے باہر سمگل کر کے صلاح الدین کے سامنے پیش کیا گیا جنھوں نے اسے زمین اور پیسہ انعام میں دیا لیکن اس نے یہ کہتے ہوئے وہ سب لینے سے انکار کر دیا کہ اس نے جو کیا خدا کی رضا کے لیے کیا۔
نومبر میں جنگ کا سیزن ختم ہونے سے پہلے دو بڑے معرکے ہوئے۔ سلطان ایک بار پھر بیماری کی وجہ سے دور سے ہی معرکے کی کارروائی دیکھنے پر مجبور تھے۔
سلطان صلاح الدین نے جب قیدی صلیبی کمانڈر کو اپنا کوٹ دے دیا
23 نومبر کو مسلمانوں نے حملہ کر کے تقریباً 200 صلیبی نائٹس کو سامنے آنے ہر مجبور کر دیا اور ان میں سے بہت سوں کو قیدی بنا لیا۔ ان میں ایک کمانڈر بھی تھا۔ انھیں سلطان کے سامنے پیش کیا گیا اور سلطان ان افسران سے باقاعدہ عزت کے ساتھ ملے۔
انھیں سردیوں کے لیے کھالوں سے بنے کوٹ دیے گئے بلکہ کمانڈر کو تو سلطان نے اپنا کوٹ دے دیا۔ انھیں کھانا دیا گیا اور سلطان کے ساتھ والے خیمے میں ٹھہرایا گیا۔ کمانڈر کو کھانے کے لیے سلطان کے ساتھ جگہ ملی۔
فلپس لکھتے ہیں کہ ’بے شک اس کا مقصد صلیبیوں کے منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بھی تھا لیکن سلطان کے لیے اس طرح کا رویہ نئی بات نھیں تھی۔‘
محاصرے کی مشکلات اور سلطان کی رحم دلی
سردیاں ختم ہوئیں تو صلیبیوں کو فرانس اور انگلینڈ کے بادشاہوں کی آمد قریب نظر آنے لگی۔ دوسری طرف سلطان خلیفہ کی سرد مہری سے پریشان تھے۔ ’اسلام آپ سے مدد مانگ رہا ہے جیسے ڈوبتا ہوا آدمی سہارا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تمام ذاتی آمدن جہاد پر لگا رہے ہیں اور خلیفہ کو چاہیے کہ وہ ان کی ہر طرح مدد کرے۔
محاصرے کی ان تمام مشکلات میں سلطان کی رحم دلی اور سخاوت کی کہانیاں مسلسل سننے کو ملتی رہیں۔ ایک بار صلیبی کیمپ سے ایک عورت کا نوزائیدہ بچہ کوئی اٹھا کر لے گیا اور پھر اسے بیچ دیا۔ معاملہ سلطان تک پہنچا۔ مؤرخ بہاؤالدین موقع پر موجود تھے۔ سلطان نے بچہ برآمد کروایا اور اس کے خریدار کو قیمت ادا کر کے بچے کو ماں کے حوالے کر دیا۔
فرانس کے بادشاہ فلپ آگستس اور انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل کی آمد
20 اپریل کو فرانس کے بادشاہ فلپ فوجیوں، گھوڑوں اور اسلحے کے ساتھ چھ جہازوں پر پہنچ گئے۔ مئی کے آخر تک انھوں نے سات نئی منجنیقیں تعمیر کروائیں جو شہر کی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا رہی تھیں۔ دوسری طرف سلطان مسلسل اہنے بیٹوں اور افسروں کے ذریعے صلیبیوں پر حملے کرواتے رہے لیکن اتنے مہینوں میں ان کی دفاعی پوزیشنیں مضبوط ہو چکی تھیں۔
آٹھ جون 1191 کو انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل بھی عکا پہنچ گئے۔ بہاؤالدین بتاتے ہیں کہ وہ 25 بحری جہازوں میں پہنچے۔ مغربی یورپ میں طویل جنگی مہمات کے تجربے، انتہائی باریکی سے پلاننگ کی مہارت ہونے کے ساتھ وہ زبردست جنگجو تھے۔ ان کے ساتھ 17000 فوجیوں کی آمد نے صلیبی فوج کے حوصلے بہت بلند کر دیے۔ سلطان نے ایک بار پھر مشرق قریب میں پیغام بھیجا کہ ’عکا شہر شدید خطرے میں ہے۔۔۔اگر اب امداد نہ آئی تو کب آئے گی۔‘
رچرڈ کی سلطان سے ملنے کی خواہش اور سلطان کا انکار؟
20 جون کو بادشاہ رچرڈ کا ایلچی سلطان کے سامنے پیش ہوا اور انگریز بادشاہ کی طرف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ سلطان نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ بادشاہوں میں ملاقات کسی معاہدے کے بعد ہوتی ہے کیونکہ ملاقات اور ایک میز پر کھانا کھانے کے بعد آپس میں جنگ نھیں لڑی جاتی۔ یاد رہے کہ تیسری صلیبی جنگ کا سب سے اہم پہلو سفارتکاری تھا۔
دریں اثنا سنجار، موصل اور موصل سے امداد کیمپ میں پہنچی لیکن بقول بہاؤالدین کہ شہر کے گرد شکنجا کسا جا چکا تھا۔
فرانسیسی اور انگریز صلیبی اتنے زیادہ تھے کہ وہ شفٹوں میں کام کر سکتے تھے اور شہر کا دفاع کرنے والوں کو بالکل آرام نھیں مل رہا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ شہر کے باہر اپنے کیمپوں کے گرد خندقیں بنا چکے تھے جس سے سلطان کا ان پر حملہ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
صلاح الدین ’بےچین ماں کی طرح گھوڑے پر ایک ڈویژن سے دوسری ڈویژن تک جاتےاور لوگوں کو جہاد میں اہنا فرض ادا کرنے کی تلقین کرتے۔‘ ’ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انھوں نے ان دونوں میں کوئی کھانا نھیں کھایا اور ان پر تھکان اور غم طاری تھا۔‘
شہر سے پیغام آیا کہ اگر ان کی مدد نہ کی گئی تو وہ صلیبیوں سے صلح کا معاہدہ کر لیں گے۔
سلطان سے پوچھے بغیر عکا شہر کا ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ
تاریخ کے ذرائع بتاتے ہیں کہ شہر میں مایوسی پھیل رہی تھی۔ شہر کا حصار کمزور پڑتا جا رہا تھا اور ان کی طرف سے سخت مزاحمت کے باوجود صلیبوں کی فتح یقینی ہوتی جا رہی تھی۔ 12 جولائی کو شہر سے تیراک نے سلطان کو آکر شہر کی طرف سے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈالنے اور معاہدے کی خبر دی۔ فلپس بتاتے ہیں کہ انھوں نے قتل عام سے بچنے کے لیے ایسا کیا۔ معاہدے کے تحت انھیں ’اصل صلیب‘ 1500 قیدی چھوڑنے کے علاوہ صلیبیوں کو دو لاکھ دینار بھی دینے تھے۔‘
صلاح الدین نے یہ معاہدہ نہیں کیا تھا لیکن اس پر دستخط انھیں کے ہونے تھے
معاہدے میں سلطان کے لیے سب سے مشکل سوال دو لاکھ دینار کا تھا۔ اس جنگ میں بہت زیادہ وسائل استعمال ہو چکے تھے اور سلطان کو بار بار مالی مدد کی درخواست کرنی پڑی تھی۔ ان کی دریا دلی بہت سے اتحادیوں کو اکٹھا رکھنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی تھی اور اب جب ان کے پاس ذاتی وسائل ختم ہو رہے تھے یہ مطالبہ مشکل تھا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سلطان نے آدھی رقم ادا کر دی اور ان کی طرف سے طے شدہ تعداد سے آدھے قیدی آزاد کرنے کی پیشکش قبول کر لی گئی۔
مسلمان قیدیوں کا قتل عام
تاریخ بتاتی ہے کہ سلطان کا اصرار تھا کہ مسلمان قیدیوں میں اہم عہدیدار بھی شامل ہونے چاہیں اور یہ صرف عام قیدی نہ ہوں۔ اس معاملے نے اتنا طول پکڑا کہ قیدیوں کے تبادلے میں تاخیر ہونے لگی۔ رچرڈ نے ان کی تحویل میں مسلمان قیدیوں کو جن کی تعداد 2600 تھی ایک جگہ اکٹھے کر کے ہلاک کر دیا۔ جب تک مسلمانوں کو اس کی خبر پہنچی بہت دیر ہو چکی تھی۔
فلپس لکھتے ہیں کہ ان کا مقصد سلطان صلاح الدین کو بدنام کرنا تھا کہ وہ تو اپنے لوگوں کی حفاظت بھی نھیں کر سکتے۔ بہاؤالدین نے لکھا رچرڈ تیزی سے یروشلم کی طرف بڑھنا چاہتے تھے اور ان قیدیوں کے لیے اپنے کچھ سپاہی پیچھے چھوڑنے پڑنے تھے۔ سلطان نے بھی ماضی میں قیدی ہلاک کیے تھے لیکن انھوں نے ایسا جنگوں کے بعد کیا تھا نہ کہ کبھی کسی معاہدے پر بات چیت شروع ہونے کے بعد۔
عکا شہر سے یروشلم تک
یروشلم کی طرف بڑھتے ہوئے صلیبی فوج کے ایک طرف ساحل تھا جہاں سے انھیں سمندر کے ذریعے امداد ملتی رہی۔ رچرڈ نے اس کا خصوصی بندوبست کیا تھا اور عکا کی لڑائی میں مسلمان بحریہ کو نقصان کی وجہ سے وہ اس کے خلاف کچھ نھیں کر سکتے تھے۔
عکا سے روانہ ہوتے ہی مسلمان تیر اندازوں نے صلیبیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ سلطان کے بیٹے الافضل نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ ان دنوں جو صلیبی قیدی بنتا اس کے ساتھ سخت سلوک کیا جاتا اور اس میں عہدے اور رتبے کی کوئی تفریق نھیں کی گئی۔
رچرڈ کی صلیبی فوجیوں کو سلطان کے تیروں سے بچانے کی حکمت عملی
ستمبر کے مہینے میں درجہ 30 سنٹی گریڈ سے زیادہ تھا اور دونوں طرف کی تحریریں بتاتی ہیں گرم کی موسم کی وجہ سے بھی کافی جانی نقصان ہوا۔ صلاح الدین اور رچرڈ اپنے دستوں کا حوصلہ بڑھاتے گھوڑے پر آگے اور پیچھے جاتے دیکھے جا سکتے تھے۔
سلطان کی فوج سے مارچ کے دوران روایتی انداز میں ڈھول اور بگل بجائے جا رہے تھے۔ صلیبی فوج میں دور سے بادشاہ رچرڈ کا پرچم دیکھا جا سکتا تھا جو ایک اونچے پول سے لہرا رہا تھا۔ ان کی انفنٹری تیروں کی بارش سے بچنے کے لیے سر سے پاؤں تک زرہ بکتر میں ملبوس تھی اور گھڑسواروں کے باہر کی طرف مارچ کر رہی تھی تاکہ قیمتی گھوڑوں کو سلطان کی فوج سے برسائے جانے والے تیروں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
فلپس لکھتے ہیں کہ کون سے سپاہی ساحل والی طرف مارچ کریں گے اور کون سے باہر کی طرف اس میں بھی باریاں لگی تھیں تاکہ سب کو سلطان کی فوج حملوں سے بچ کے چلنے کا موقع ملے۔
سلطان اور رچرڈ شیردل کی خراب صحت
اس دوران سلطان کی صحت کے مسائل جاری تھے۔ وہ کئی بار گھڑسواری بھی نھیں کر پا رہے تھے اور گرمی سے بچنے کے لیے رات کو فوج کا معائنہ کرتے تھے۔
اس دوران انھوں نے تیزی سے شہر میں خوراک اور دیگر ضروری اشیا کے معائنے کے لیے یروشلم کا ایک ہنگامی دورہ بھی کیا اور واپس آ کر اپنے امرا سے صورتحال پر مشاورت کی۔
انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ کی بھی صحت اچھی نھیں تھی جس کی وجہ سے انھیں ایک بار واپس عکا بھی جانا پڑا۔ اس کے علاوہ عکا کی کامیابی کے بعد ان کے سپاہی وہاں شراب اور لڑکیوں کی کشش میں بھی وقت ضائع کر رہے تھے۔ رچرڈ کو خود جا کر انھیں صلیبی جنگ کے فرائض یاد کروانے پڑے۔
اس دوران صلیبی کچھ دیر کے جافا کی تعمیر نو کے لیے بھی رکے کیونکہ انھیں یروشلم تک راستے کو محفوظ کرنا تھا۔ پیسوں کی کمی بھی ہونا شروع ہو گئی تھی اور رچرڈ نے مغربی یورپ امداد کے لیے پیغامات بھیجے۔
تیسری صلی جنگ کا سب سے اہم پہلو سفارتکاری
تیسری صلیبی جنگ کا سب سے اہم پہلو اس کے دوران ہونے والی سفارتی ملاقاتوں کی تعداد تھی۔ اہم واقعات کے ساتھ صلیبیوں کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری تھے خاص طور پر ان کے ایک اہم رہنما کونراڈ کے ساتھ جو اپنے آپ کو مستقبل میں یروشلم کا بادشاہ دیکھ رہے تھے۔
ستمبر 1191 کے آخر سے اکتوبر کے وسط تک رچرڈ اور سلطان کے بھائی سیف الدین کے درمیان بھی رابطے جاری رہے جن میں دونوں طرف سے نفاست اور درباری آداب سے ایک دوسرے کو مرعوب کرنے کی پوری کوشش کی جاتی رہی۔
مذہبی اور لسانی فرق اپنی جگہ دونوں میں سلطان صلاح الدین میں بہت کچھ مشترک تھا مثلاً گھوڑوں کا شوق۔ ملاقاتوں کے ان ادوار میں رچرڈ اور سیف الدین کے تعلقات ابتدائی تکلفات سے آگے بڑھ چکے تھے۔ لیکن اس سب سے یروشلم کے مستقبل کا سوال اپنی جگہ موجود تھا۔
رچرڈ نے کیا پیغام بھیجا
سیف الدین کی عدم موجودگی میں رچرڈ کی جافا کے قریب ایک اہم ملاقات ان کے سیکرٹری الثانیہ سے ہوئی۔ بہاؤ الدین کے مطابق رچرڈ نے لکھا ’مسلمانوں اورفرینکس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ دونوں کے ہاتھوں زمین تباہ ہو چکی ہے، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ دونوں طرف جائدادیں اور املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ اب ہماری عبادت کا مرکز یروشلم بچا جسے ہم کبھی نھیں چھوڑ سکتے۔۔۔۔۔ان شرائط پر صلح ہو سکتی ہے جس کے بعد ہمیں اس مشکل صورتحال سے نجات مل سکتی ہے۔”
سلطان نے اپنے امرا سے مشاورت کے بعد جواب دیا ’یروشلم جتنا آپ کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے، بلکہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہاں سے ہمارے پیغمبر معراج پر گئے تھے۔ بادشاہ کو یہ بلکل خیال نھیں آنا چاہیے کہ ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے بیچ میں اس طرح کا ایک لفظ بھی نھیں نکال سکتے۔ جہان تک زمین کا تعلق ہے یہ شروع سے ہماری تھی۔ آپ لوگوں کے ہاتھوں اس کی فتح ایک غیر متوقع حادثہ تھا جو مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے پیش آیا۔۔۔۔‘
صلیبی اور مسلمان کیمپوں میں نرمی اور سلطان کے بھائی اور رچرڈ کی بہن کی شادی کی تجویز
فلپس لکھتے ہیں کہ یروشلم کے بارے میں دونوں طرف کے جذبات کی روشنی میں کسی کے لیے بھی پیچھے ہٹنا آسان نھیں تھا۔ لیکن اگلے ایک سال میں دونوں کی پوزیشن میں کافی نرمی آ چکی تھی۔
کچھ روز تک دونوں طرف سے پیغام آتے رہے جس کے بعد سلطان کے بھائی سیف الدین نے اپنے خاص امرا کی میٹنگ بلا کر رچرڈ کی صلح کے لیے بنیادی تجویز ان کے سامنے رکھی جس کے مطابق سیف الدین رچرڈ کی بہن جو این سے شادی کریں گے جو حال ہی میں بیوہ ہوئی تھیں اور صلاح الدین انھیں ساحلی علاقوں کا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ یروشلم ان کا دارالحکومت ہو گا اور دیہات مسیحی فوجی گروپوں کے زیر انتظام چلیں گے اور قلعے نو بیاہتا جوڑے کی ملکیت ہوں گے۔ تمام قیدی رہا کر دیے جائیں گے اور مقدس صلیب مسیحیوں کے حوالے کر دی جائے گی اور بادشاہ رچرڈ واپس یورپ چلے جائیں گے۔
جب صلاح الدین نے تجویز سنی پہلے تو انھیں اس کے سچ ہونے پر یقین نہ آیا لیکن انھوں نے اشارہ دیا کہ وہ اصولاً اس پر راضی ہو سکتے ہیں۔
تاہم بعد میں رچرڈ کی بہن کی شادی کا معاملہ دیگر صلیبیوں کی طرف سے اعتراض کے بعد پاپائے روم کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پاپائے روم نے منع کر دیا تو اہنی نوجوان بھتیجی کی شادی سیف الدین سے کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ان کو کسی کی اجازت کی ضرورت نھیں۔
صلیبی یروشلم پر حملے کے لیے تیار اور رچرڈ اور سیف الدین کی ملاقات
خبر آنے پر کہ صلیبی یروشلم پر حملے کے لیے تیار ہیں مسلمان بھی جنگی حالت میں آ گئے۔ سیف الدین ہراول دستے کے انچارج تھے۔ رچرڈ شہر سے چھبیس کلومیٹر دور تھے۔ شہر کی طرف جانے والے راستے پر سفر آسان نھیں تھا۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس دوران بھی ایسے سیاسی اور نجی واقعات جاری تھے جن کا قیادت پر بوجھ پڑ سکتا تھا۔
سلطان کے ایک کزن کا دمشق میں انتقال ہو گیا اور بہاؤالدین لکھتے ہیں سلطان کو اس کا بہت غم تھا۔ اس کے بعد نومبر کے آغاز میں جب دونوں فوجیں رام اللہ میں آمنے سامنے تھیں اور کشیدگی بڑھ چکی تھی سلطان کو ایک خط موصول ہوا جسے پڑھ کر وہ رونے لگے اور انھیں اس حالت میں دیکھ کر ان کے کئی ساتھیوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ بالآخر سلطان نے مخصوص لوگوں کے سامنے اپنے بھتیجے تقی الدین کی شمال میں ایک مہم میں موت کا اعلان کر کے سب کی تشویش ختم کی۔ لیکن انھوں نے اس خبر کی تشہیر سے سب کو منع کر دیا۔
لیکن اس دوران بھی سفارتی ملاقاتیں جاری تھیں۔ سیف الدین اور رچرڈ کی نومبر میں دوستانہ ماحول میں ایک ملاقات ہوئی۔ دونوں طرف سے بڑے بڑے خیمے نصب کیے گئے اور تحائف اور خاص طور پر تیار کیے گئے پکوانوں کے تبادلے ہوئے۔ سیف الدین کی طرف سے سات قیمتی اونٹ اور ایک خیمہ تحفے میں دیا گیا۔
رچرڈ نے مسلمانوں کی موسیقی سننے کی خواہش کا اظہار کیا تو سیف الدین نے خاتون کو طلب کیا جس نے ہارپ بجایا جسے بہت پسند کیا گیا۔ دونوں بظاہر ایک دوسرے سے مل کرخوش تھے لیکن دونوں طرف کے کاتب ان دونوں رہنماؤں کی نیت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے رہے۔
رچرڈ کی طرف سے ایک بار پھر صلاح الدین سے ملنے کی خواہش کا اظہار اور سلطان کا انکار
بادشاہ رچرڈ نے سیف الدین کے سامنے ایک بار صلاح الدین سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور جب صلاح الدین تک یہ دعوت نامہ پہنچا تو انھوں نے پھر یہ کہہ کر منع کر دیا کہ بادشاہ بغیر کسی معاہدے کے نھیں ملتے۔
فلپس لکھتے ہیں کہ ’ایوبی خوش مزاجی ایک بار مسیحی کیمپ میں خوف کا باعث بن رہی تھی۔‘ سفارتی گنجل میں ایک اور الجھاؤ کا اضافہ اسی رات رچرڈ کی طرف سے نئی تجاویز کی آمد تھی۔
رچرڈ شیر دل کی نئی تجویز میں سلطان کے بارے میں کیا لکھا تھا؟
مؤرخین کے مطابق رچرڈ نے لکھا کہ اگر سیف الدین ساحلی علاقے لے لیتے ہیں تو ان کے اور رچرڈ کے درمیان کسی تنازعے کی صورت میں سلطان صلاح الدین منصف کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ’یہ ضروری ہے کہ یروشلم میں ہمارا بھی کچھ کنٹرول ہو۔ میرا مقصد ہے کہ آپ اس طرح علاقے تقسیم کریں کہ سیف الدین پر مسلمانوں اور مجھ پر فرنگیوں کی طرف سے کوئی تنقید کی گنجائش نہ نکلے۔‘
نومبر کا وسط آ چکا تھا اور رچرڈ کی طرف سے سردیوں میں یروشلم کے محاصرے کا امکان بہت کم تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی طے تھا کہ اس صورت میں وہ سنہ 1192 تک ادھر ہی موجود رہیں گے۔
سلطان کی مشاورت
سلطان نے اپنے امرا کو مشاورت کے لیے طلب کر لیا اور سب امکانات ان کے سامنے رکھے۔ فلپس کہتے ہیں کہ امرا کے جواب جو تاریخ کے حوالوں میں درج ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر حاضرین کی رائے میں بادشاہ رچرڈ پر اعتبار کیا جا سکتا تھا لیکن ان کے بعد پیچھے رہ جانے والے فرینکس پر نھیں۔ ان کی باتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عکا کی شکست سے کا غصہ اب کم ہو چکا تھا۔
ہمیشہ کی طرح ان ملاقاتوں اور پیغامات کے ساتھ جھڑپیں اور فوجی کارروائیاں جاری تھیں اور ایک بار تو رچرڈ مسلمانوں کے مورچوں کے اتنے قریب آ گئے کہ ان کے وہاں سے بحفاظت واپس جانے کے لیے ان ایک سپاہی کو ان کا روپ اختیار کرنا پڑا۔
رچرڈ شیر دل کی مشکل
مؤرخ لکھتے ہیں کہ رچرڈ کے لیے یہ فیصلہ کی گھڑی تھی۔ کئی سالوں کی مہم، ہزاروں میل کے سفر اور عکا شہر کی فتح کے بعد اب وہ یروشلم سے چند میل دور تھے۔ ان کے رفقا اور فوجی آگے بڑھنے کے لیے بیچین تھے لیکن ان کے لیے یہ آسان فیصلہ نھیں تھا۔
عسکری اعتبار سے ان کی سپلائی لائن بہت لمبی ہو چکی تھی۔ عکا کی کامیابی میں بندرگاہ تک رسائی کا اہم کردار تھا۔ یہاں وہ کسی قسم کی امداد سے 50 کلومیٹر دور تھے۔ قریب کے چھوٹے شہر اور قصبے سلطان صلاح الدین حکمت عملی کے تحت خود ہی تباہ اور خالی کروا چکے تھے۔
فلپس لکھتے ہیں کہ ’مسلمان عکا کی کامیابی کے بعد صلیبیوں کو الجھا دینے میں کامیاب رہے تھے۔ سردی کے موسم میں کسی قسم کا محاصرہ کسی بھی فوج کے لیے مشکل ہونا تھا۔ فلپس لکھتے ہیں کہ مسیح کے شہر کو مسلمانوں سے آزاد کروانے کا خواب پورا کی خواہش لیے وہ اس کے سامنے آ چکے تھے لیکن بحیثیت لیڈر ان پر اپنے ہزاروں لوگوں کی بھاری ذمہداری بھی تھی۔
رچرڈ شیر دل کی یروشلم سے پسپائی
فلپس لکھتے ہیں کہ چھ اور 13 جنوری 1192 نے اپنی فوج کو ساحل سمندر سے 15 کلومیٹر دور رام اللہ کی طرف پسپائی کا حکم دیا۔ سلطان صلاح الدین نے پوری سردیاں اپنی فوج کے ساتھ یروشلم میں گزاریں۔ فوجیوں کو اپنے گھروں کو جانے کا موقع دیا گیا۔
مارچ سنہ 1192 میں انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ نے ایک بار پھر سلطان کے بھائی سیف الدین سے رابطہ کیا اور سفارتکاری کا نیا دور شروع ہو گیا۔
سلطان صلاح الدین کے خاندان میں اختلافات
دریں اثنا سلطان صلاح الدین کو خاندان کے اندر اختلافات کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اب تک ان کی کامیابی یہیں تھی کہ اہم مواقع پر ان کے خاندان نے مل کر فیصلے کیے تھے لیکن اب ان کے بھتیجے تقی الدین کا بیٹا المنصور کچھ ایسے علاقے مانگ رہا تھا جو اس کی کم عمر میں سلطان کے لیے اسے دینا مشکل تھا۔
فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان کو اپنے ویٹے الافضل کو روانہ کرنا پڑا۔ رچرڈ کو اس پیشرفت کا پتہ تھا اور ان کی طرف سے بھی معاملات میں سستی دکھائی جانے لگی۔ معاملات نے اتنا طول پکڑا کہ سلطان کے بھائی سیف الدین کو مسئلے کو حل کرنے کے لیے یروشلم سے جانا پڑا۔ اس دوران سلطان کے اپنے بیٹے الافضل سے بھی اختلافات پیدا ہو گئے۔
صلیبیوں کی یروشلم کی طرف پیشقدمی
دریں اثنا انگلینڈ سے رچرڈ کے بھائی جان کی شکایات آنے لگیں کہ وہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور اب ان پر معاملات کو جلد نمٹانے کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یروشلم کی بادشاہت کے بارے میں مسیحی کیمپ میں پھوٹ پڑ گئی اور رچرڈ کی طرف سے اس عہدے کے نامزد امیدوار کونراڈ قتل ہو گئے۔ تاہم رچرڈ نے حالات پر قابو پا لیا اور مئی میں صلیبی ایک بار یروشلم کی طرف پیشقدمی کے لیے تیار تھے۔ اس بار وہ تیزی سے آگے بڑھے۔
اس دوران سلطان کے بھائی سیف الدین اور کچھ اہم لوگ بھی مخبری کی وجہ سے ان کے قیدی بن گئے۔ لیکن سلطان کے لیے اچھی خبر یہ تھی کہ ان کے بیٹے اختلافات کو بھلا کر دو جولائی یروشلم پہنچ گئے۔ مسلمانوں نے یروشلم کے قریبی کنووں میں زہر ملا دیا اور اس پتھریلی زمین پر نئے کنوییں کھودنا آسان نھیں تھا۔
صلیبی ایک بار پھر پسپائی پر مجبور
تاریخ بتاتی ہے کہ بالکل اس طرح جیسے سلطان کے کیمپ میں شہر کے اندر دفاع کرنے یا باہر نکل کر لڑائی کرنے کے معاملے میں بحث چل رہی تھی اسی طرح صلیبی کیمپ میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان بھی حکمت عملی کے معاملے پر اختلافات سامنے آ چکے تھے اور 4 جولائی کو خبر آئی کہ ایک بار پھر صلیبی یروشلم کا محاصرہ ختم کر کے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین ایک بار پھر سرخرو ہو گئے تھے۔ لیکن مسئلہ ابھی ختم نھیں ہوا تھا۔
معاہدہ، رچرڈ کی واپسی اور صلاح الدین کا انتقال
صلح کی کوششوں کے ساتھ عسکری کارروائیاں جاری رہیں اور اس بار سلطان ضلاح الدین نے یروشلم سے پیش قدمی کی اور حملہ کیا۔ فلپس لکھتے ہیں کہ رچرڈ شیر دل سمجھ چکے تھے کے دو بار پسپائی کے بعد یروشلم پر حملہ ممکن نھیں۔ اس کے علاوہ ان پر انگلینڈ سے گھر واپس آنے کا بھی دباؤ تھا۔ دو ستمبر سنہ 1192 کو صلح کے معاہدے پر دستخط ہو گئے اور 10 اکتوبر 1192 کو رچرڈ واپس روانہ ہو گئے۔
صلح کے اس معاہدے کے پانچ ماہ بعد سلطان صلاح الدین آخری بار 19 فروری 1193 کو دمشق میں ایک عوامی تقریب میں نظر آئے اور چار مارچ 1193 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔