سقوط حیدرآباد’ دکنی اور کشمیری مسلمان

Taqui New.jpgمحمدتقی (موبائل9325610858 )
waraquetazadaily@yahoo.co.in
تقسیم ہندسے قبل ہندوستان میں تقریبا 500 آزاد ریاستیں یا رجواڑے تھے ۔ ان میں جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدر آباد رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست تھی ۔ اسے اتفاق ہی کہئے کہ یہاں مسلمانوں کی تعداد 12.5فیصد اور ہندووں کی آبادی 87.5فیصد تھی ۔اس کے باوجود یہاں مسلم حکمرانوں نے سینکڑوں سال تک حکومت کی ۔ جموں وکشمیربھی ہندوستان کی ایک بڑی آزاد ریاست تھی جہاں تقریبا 90فیصد مسلمان آباد تھے لیکن یہاں کاراجہ ہندو ہوا کرتا تھا ۔ 1947ءمیں تقسیم کے وقت یہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی ۔ حیدرآباد دکن پر (1723تا1947ئ) 224 سال آصف جاہی حکمرانوں نے بڑی شان و شوکت اور دبدے کے ساتھ حکومت کی ۔ریاست حیدر آباد کی بنیاد میر قمرالدین علی خاں آصف جاہ اول نے ڈالی تھی ۔ اور آخری بادشاہ میر عثمان علی خان بہادر آصف جاہ سابع تھے ۔ آصف جاہ سابع کادور اقتدار 15اپریل 1911تا17 ستمبر 1947 پر محیط ہے ۔ ان کے37سالہ دور کو زرین عہد اس لئے کہاجاتا ہے کہ اس عرصہ میںریاست نے تعلیمی معاشی ‘ثقافتی شعبہ میں کافی ترقی کی۔میرعثمان علی خاںبہادر انصاف پسند اور رعایا پرور بادشاہ تھے ۔ انھوں نے مسلمانوں اور ہندوﺅ ں میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا ۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میری ایک آنکھ ہندو ہیں تو دوسری مسلمان ۔ آصف جاہی دور کے 224سالوں میں ریاست میں کبھی بھی فرقہ پرستی کو پنپنے کاموقع نہیں ملا ۔آصف جاہی فرمانبررواں نے مسجدوں ‘درگاہوں ‘عاشور خانوں کے ساتھ ہی مندروں ‘مٹھوں ‘گورودواوںوغیرہ کو زمینات انعام میں دی تھیں اس کے علاوہ امدادی رقومات بھی جاری کی تھیں تاکہ ان مذہبی عبادت گاہوں کے اخراجات کی پابجائی ہوسکے ۔ ہرشخص کواپنے مذہبی طریقے سے عبادت کرنے ‘مذہبی جلسے و جلوس منعقد کرنے ‘ مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی تھی۔ا سلئے سارے ہندوستان میں ریاست حیدر آباد مذہبی رواداری کی وجہ سے مشہور تھی ۔
14اگست 1947 کی نصف شب کو ہندوستان تقسیم ہوگیااوردنیا کے نقشہ پر ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا ۔ 15اگست 1947 کو انگریزوں نے بھارت کو آزاد کردیا ۔

Psi 27 sep 19
سابقیہ ریاست حیدرآباد کا نقشہ
1948ءمیں برٹش پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیاجس کی رو سے ہندوستان کی آزاد ریاستوں کو یہ اختیار دیاگیا کہ وہ چاہیں تو انڈین یونین ( بھارت) یا پھر پاکستان میں شامل ہوسکتی ہیں۔یا اپنی آزادی اور خود مختاری کااعلان کرسکتی ہیں ۔حیدر آباد کے حکمران میر عثمان علی خان چونکہ رضاکاروں کے دباو میں تھے اس لئے انھوں نے اپنی ریاست کی آزادی کااعلان کردیا ۔ اس اعلان کا یہ ردعمل ہوا کہ 13 ستمبر 1947کو انڈین یونین کی 36ہزار فوج نے جو جدید اسلحہ سے لیس تھی حیدرآبادپر چومکھی حملہ کردیا ۔ جبکہ آخری نظام کے پاس جملہ 24ہزار غیر تربیت یافتہ ‘ناتجربہ کار اور کمزورفوجی تھے ۔ انڈین یونین فوج کو ہندو تنظیموں جیسے ہندو مہاسبھا ‘ اور عام ہندووںں کی مدد اور تائید حاصل تھی چنانچہ نظام کی فوج تاب نہ لاسکی اوراس نے 17ستمبر 1947 کو ہتھیار ڈال دئےے ۔اس طرح قدیم مسلم ریاست دنیا کے نقشہ سے ہمیشہ کےلئے مٹ گئی! سقوط حیدر آباد کے ساتھ ہی ساری ریاست میں مسلمانوں کے قتل و غارت گری کاسلسلہ شروع ہوگیا جو کئی مہینوں تک جاری رہا۔مسلمانوں کی زمینات اورجائیدادوں کو زبردستی ہڑپ لیاگیا ۔ان کامال و اسباب لوٹ لیا گیا ۔ مسلم خواتین کی عصمت تارتار ہوئی ۔ یہ خون آشام منظر جب بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ رفتہ رفتہ حالات سازگار ہونے لگے لیکن مسلمان کافی خوف زدہ تھے انھیں کسی بیرونی ملک کی امداد تو کُجا تائید بھی حاصل نہ تھی ۔ چنانچہ مسلمانوں نے بڑی دانشمندی سے کام لیا انھوں نے انڈین یونین حکومت کی مخالفت کاراستہ ترک کرتے ہوئے اس حکومت کے قانون اور دستوری احکامات کو ذہنی طور پر قبول کرنا شروع کردیا ۔ مسلمان‘ بھارت کے اہم قومی دھارے میںشامل ہونے لگے ۔
تقسیم کے فوری بعد ریاست حیدر آباد کی طرح جموں کشمیر کے راجہ ‘مہاراجہ ہری سنگھ نے بھی اپنی ریاست کی آزادی کااعلان کردیاتھ جس کاپاکستان کی جانب سے یوں ردعمل ہوا کہ 22اکتوبر 1947 کوپاکستانی فوج کی مددسے وزیر ستان کے قبائلی جنگجووں نے جموں کشمیر پر حملہ بول دیا ۔اس حملہ کوپسپا کرنے مہاراجہ ہری سنگھ نے وزیراعظم پنڈت نہر وسے فوجی امداد کی درخواست کی۔ بھارتی فوج کشمیر کی لائن آف کنٹرول پراُتری او رقبائلی جنگجووں کوکھدڑدیالیکن تب تک پاکستان ‘جموں وکشمیر کے ایک حصہ پرقابض ہوچکاتھاجو آج پاکستان مقبوضہ کشمیر POK کہلاتا ہے ۔یہ لڑائی 5جنوری 1948 ءتک چلی بالآخر جموں کشمیر کاقضیہ ادارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پہونچا ۔پاکستان چاہتاتھا کہ جموں کشمیر کے مستقبل کافیصلہ وہاں کے عوام کریں ۔ وہ اگر چاہیں توبھارت یاپاکستان کے ساتھ الحاق یا پھر آزاد رہنے کافیصلہ کرسکتے ہیں ۔ اس کامطلب یہ تھا کہ وہاں کے عوام کی مرضی ومنشا کو دیکھاجائے ۔اس لئے پاکستان ہمیشہ جموںوکشمیر میں استصواب عامہ کروانے پربضد رہا۔ اس طرح کی تجویز اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں بھی رکھی گئی لیکن اس تجویز پرآج تک عمل درآمد نہیں ہوا ۔اور یہ ہمیشہ کےلئے سردخانے میں ڈال دی گئی ۔ بہر حال پاکستان کشمیریوں کواُن کاحق خودارادیت دلوانے میںچاہے گفتگو کی میز ہو‘اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس ہوںیا پھر جنگ کا میدان ہرسطح پر ناکام رہا ہے ۔ہم سبھی واقف ہیں پاکستان ۔بھارت کے ساتھ اب تک تین جنگیں کرچکا ہے اورسبھی ہارچکا ہے ۔ اس کے باوجود پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتا رہتا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کوزندہ رکھناپاکستانی حکمرانوں کی سیاسی مجبورہی ہے ۔ اور آج بھی اس مسئلہ کوزندہ رکھنے کی کوشش پاکستانی وزیراعظم عمران خان کررہے ہیں ۔اب ہم اپنے اصل موضوع سقوط حیدر آباد کی طرف لوٹتے ہیں۔
سقوط حیدر آباد کے بعداگر یہاں کے مسلمان باغیانہ رویہ اختیار کرتے جس طرح کے تقسیم ہند کے بعد جموں کشمیر کے مسلمانوں نے اختیار کیا تھا تو وہ آج تعلیمی ‘ معاشی ‘سماجی طو ر پرترقی یافتہ نہیں ہوتے ۔ اور باوقار و آسودہ زندگی نہیں گزارپاتے ۔ باوقار و آسودہ زندگی گزارنے کےلئے ان کے سامنے ایک ہی متبادل option ‘حصول تعلیم تھا ۔چنانچہ آج دکن کے مسلمانوںنے تعلیم ‘معیشت ‘صنعت و حرفت اور تجارت کے شعبہ میںترقی کرلی ہے ۔ وہ اپنے ملک اور قوم کی تعمیر وترقی میںدیگر اقوام سے پیچھے نہیں ہیں۔اس کے برعکس جموں کشمیر کے مسلمان تقریبا ہر شعبہ میں دکن کے مسلمانوں سے پچھڑے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جموں کشمیر کے مسلمانوں کی موجودہ حالت زار کےلئے پاکستان اور خود کشمیری مسلمانوں کی سوچ ذمہ دار ہے ایسا کہاجائے تو بے جانہ ہوگا ۔ کشمیری مسلمانوں کی بڑی تعداد ہمیشہ اس ملک کی طرف اُُمید بھری نظروں سے دیکھتی رہی جو خود اپنے اندرونی سیاسی ‘معاشی اوردہشت گردی جیسے مسائل سے گھرا ہوا ہے ۔ جو ملک اپنے ایک بازومشرقی پاکستان کو نہیں بچا سکا وہ بھارتی کشمیری مسلمانوں کو اُن کا حق خودارادیت کیادلوا سکتا ہے ۔وہ صرف حق خودارایت کاراگ ہی الاپ سکتا ہے اس کوعملی جامہ نہیں پہناسکتا ۔ جس ملک کے صدر اوروزیر اعظم کرپشن اور بدعنوانیوں کے جرم میںسلاخوں کے پیچھے قیدو بند کی زندگی گزاررہے ہوں ۔اس ملک کے حکمرانوں کو اپنے پڑوسی ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی جتانے اور انھیں سپنے دیکھانے کاکوئی حق نہیں ہے ۔ جس طرح سقوط حیدر آباد کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے خو د کو بھارت کے اہم قومی دھارے میںشامل کرلیا تھا اگر اسی طرح کشمیری مسلمان بھی علاحدگی پسندی کا رجحان ترک کرکے ہندوستان کے امن پسند شہری ہونے کاثبوت دیتے توشاید آج بھارت کی بی جے پی حکومت کو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔اور نہ ہی کشمیریوں کواپنے ہزاروں نوجوانوں کی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ۔ غلط سوچ اورفیصلے نے انھیں حیدرآباد دکن کے مسلمانوں سے کئی دہائیاں پیچھے چھوڑدیا ہے ۔
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوںنے خطا کی تھی صدیوں نے سزاپائی
محمدتقی

Coming Soon
Who Will Win Bhokar Assembly Constituency?
Indian National Congress
BJP
Coming Soon
Who Will Win Nanded North MLA Seat
D.P Sawant Congress
Feroz Lala AIMIM
VBA
Shiv Sena
Coming Soon
Who will Win Nanded South MLA Seat
Indian National Congress
ShiveSena
AIMIM
Vanchit Bahujan Aghadi
Dilip Kundkurte Independent

chrome_5UcEeDOjV2
تعلیمی شعور کا فقدان بقلم (ایم۔ایم۔سلیم۔ آکولہ۔)
موبائل ٹاور سے جانداروں کی صحت پر خطر ناک اثرات !

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me