سقوط حیدرآباد تاریخ کے آئینے میں پروگرام

384

سقوط حیدرآباد تاریخ کے آئینے میں پروگرام
ظلم و ستم کے باب جو کسی قوم کے خون سے لکھے گئے ہوں، اسے بار بار پڑھنا اور دہرانا صرف درد میں اضافے کا باعث ہوا کرتی ہے،لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس قوم کو نقصان پہنچانے والے یا ظلم و ستم کرنے والی مخالف قوم دنیا سے رخصت ہو چکی ہو یا کیفر کردار تک پہنچ چکی ہو

۔بر خلاف اس کے دشمن قوم یا حکومت کو اگر محسن مان لیا جائے،اور ہمارے اجتماعی قتل کی برسی پر جشن منانے والوں کے ساتھ ہم خود شامل ہوجائیں تو سمجھیے کے اپنی شکست کے نتیجے میں بدترین غلامی کی زندگی کو اس قوم نے قبول کرلیا ہے،ایسا ہی کچھ ہندوستانی مسلمان بطور خاص کرناٹک و مہاراشٹر کے مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے،سقوط حیدرآباد کی درد ناک داستان جس میں قریب ۳ لاکھ مسلمانوں کو قتل کیا گیا ،ہزاروں مسلم خواتین کی عزتوں کو تاراج کیا گیا،مسلمانوں کی املاک و جائداد اور اثاثوں پر بے دریغ قبضے کیے گئے،پولس ایکشن کے نام پر فوج اور زعفرانی غنڈوں کا استعمال کرکے مسلمانوں کی

نسل کشی کو الگ الگ ، مکتی سنگرام، لبریشن ڈے اور جئے ہند کے ناموں سے سیلبریٹ کیا جاتا ہے۔اور اس جشن میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو سقوط حیدرآباد کی تاریخ سے نا واقف ہیں، سوال یہ ہیکہ جس وقت  نظام عثمان علی خان نے ہندوستان میں انظمام نہ کرتے ہوئے آزاد ریاست کا فیصلہ کیا اسی وقت جونا گڑھ کے راجہ اور کشمیر کی عوام نے بھی یہی فیصلہ لیا،جس کے بعد ان دو ریاستوں پر بھی فوج کشی کی گئی ،لیکن موخر الذکر دونوں ریاستوں کے سقوط پر یہ تعصب نہیں برتا جاتا جو 17ستمبر 1948 کے سقوط حیدرآباد کے واقعے پر برتا جاتا ہے اگرچہ کہ جونا گڑھ اور کشمیر میں بھی قتل عام مسلمانوں کا ہی ہوا تھا لیکن مراٹھواڑہ اور کرناٹک میں گویا مسلمانوں کے زخموں پر نمک لگانے کے لیے اس دن جشن اور سرکاری تعطیل کا اہتمام کیا جاتا ہے، مسلمانوں کو اپنی درد ناک تاریخ کے بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کی خاطر تاکہ وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کو محسن نہ سمجھ بیٹھے ،اور اپنے حقوق ونا  انصافی کے خلاف آواز بلند کرے مسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کی جانب سے "سقوط حیدرآباد تاریخ کے آئینے،، میں پروگرام منعقد کیا گیا،اور ساتھ ہی اس جلسے کے پیغام کو عام کرنے کے لیے اردو اور مراٹھی صحافیوں کے لیے دو

پریس کانفرنس بھی لی گئی جلسے میں تاریخی حقائق کو بتانے کے لیے حیدرآباد کے مشہور مورخ لینگالا پانڈو رنگا ریڈی اور تعمیر ملت کے قومی صدر جناب ضیاء الدین نیر صاحب کو مدعو کیا گیا تھا،اس پروگرام کی خاص بات یہ رہی کہ 17ستمبر کے دلخراش سانحات کے متاثرین کو بھی مدعو کیا گیا، اس جلسے کو کامیاب کرنے،اور سقوط حیدرآباد کی تاریخ سے عوام کو واقف کرانے کے لیے مسلم نمائندہ کونسل ناندیڑ کے سبھی اہم ممبران و ذمہ داران کی کاوشیں اور کافی محنتیں شامل ہیں۔ جس پر یہ حضرات اور دیگر معاونین قابل مبارکباد ہیں،بطور خاص کونسل کے صدر سید عابد علی اور کونسل کے اہم رکن و ذمہ دار جناب عبدلناصر خطیب صاحب جن کی بھاگ دوڑ کا میں خود شاہد ہوں، کوئی کام چاہے وہ ملکی سطح پر ہو یا ایک شہر کی سطح پر اسے کامیاب کرنے اور مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اس سے جڑے افراد کے جذبے اور عزائم ہی اہمیت رکھتے ہ