سفری پابندیوں میں نرمی کا اعلان ہوتے ہی چین میں ٹریول ویب سائٹس پر لوگوں کا ہجوم

91

بیجنگ(بی بی سی نیوز)بیجنگ کی جانب سے اگلے ماہ ملک کی سرحدیں کھولنے کے اعلان کے بعد چینی افراد فوری طور پر بین الاقوامی سفر کی بکنگز کروا رہے ہیں۔ بین الاقوامی سفر کے خواہشمند چینی آٹھ جنوری سے پاسپورٹ کی درخواست دے سکیں گے۔ اس سے قبل پیر کو چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی شرط ختم کر رہا ہے۔ چین کے اس اعلان کے بعد ٹریول ویب سائٹس پر بے انتہا ٹریفک دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مگر چینی مسافر ہر ملک میں بلا روک ٹوک نہیں آ جا سکیں گے۔ چینیوں کے سب سے پسندیدہ سیاحتی ملک جاپان نے اعلان کیا ہے کہ چین سے آنے والے تمام مسافروں کو وہاں جانے پر کووڈ کا منفی ٹیسٹ دکھانا ہو گا یا پھر سات روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا کیونکہ چین میں کووڈ کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

انڈیا نے بھی کہا ہے کہ چین (اور چند دیگر ممالک) سے آنے والے مسافروں کو یہاں آمد پر کووڈ کا منفی ٹیسٹ دکھانا ہو گا تاہم یہ اعلان بیجنگ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی سے پہلے کیا گیا تھا۔ مارکیٹنگ کمپنی ڈریگن ٹیلز انٹرنیشنل کے مطابق منگل کے روز ہونے والے اس اعلان سے پہلے لوگوں کو بین الاقوامی سفر کرنے سے روکا جا رہا تھا اور گروپ اور ٹریول پیکج کی فروخت پر پابندی تھی۔

ضوابط میں نرمی کے اعلان کے آدھے گھنٹے بعد ٹرپ ڈاٹ کام پر مشہور سیاحتی مقامات کے حوالے سے سرچز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔اس کے علاوہ چائنہ ڈیلی کے مطابق چینی ٹریول ایجنسی قونار کی ویب سائٹ پر اس اعلان کے 15 منٹ کے اندر فلائٹس کے متعلق معلومات سرچ کرنے میں سات گنا اضافہ ہوا۔ عالمی وبا سے قبل چین سے 2019 میں 15 کروڑ 50 لاکھ افراد غیر ملکی سفر پر گئے تھے مگر 2020 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف دو کروڑ تک رہ گئی۔

’چین کے ہسپتالوں میں گنجائش ختم‘
چین کی جانب سے سفری پابندیوں میں نرمی کا یہ اعلان ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب چین پابندیوں کے خاتمے کے بعد سے وائرس کے تیز پھیلاؤ سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق وہاں ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو چکی ہے کیونکہ عمر رسیدہ افراد تیزی سے کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو رہے ہیں۔اس وقت ملک میں نئے کیسز اور اموات کے درست اعداد و شمار نامعلوم ہیں کیونکہ سرکاری سطح پر کووڈ کے اعداد و شمار شائع نہیں کیے جا رہے۔