ریاض۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں 30 سال سے چلنے والے ایک پکوان سنٹر کو سیل کر دیا ہے جہاں سموسے بیت الخلا (واش روم) میں تیار کیے جا رہے تھے۔ سعودی عرب کے عربی اخبار ’عکاز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جس پکوان سنٹر کو حکام نے سیل کیا ہے وہاں سموسوں کے علاوہ دیگر کھانے کی اشیا بھی بنائی جاتی تھیں۔ جدہ کی بلدیہ کے حکام نے سیل کیے گئے پکوان سینٹر کے خلاف ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کی تھی۔ حکام نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جو کہ مقامی میڈیا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر زیرِ گردش ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سموسے جس مقام پر بنائے جا رہے ہیں وہاں بیت الخلا بھی ہے اور کھانے پینے کی اشیا کے پاس لال بیگ گھوم رہے ہیں۔ جدہ کی بلدیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ پکوان سینٹر ایک رہائشی عمارت میں بنایا گیا تھا جب کہ اس میں کام کرنے والے مزدوروں میں سے کسی کے پاس بھی حکومت کا جاری کردی ہیلتھ کارڈ دستیاب نہیں تھا۔ حکام نے مزید بتایا کہ رہائشی عمارت میں پکوان سینٹر 30 برس سے کام کر رہا تھا جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔