سعودی عرب میں مکہ مکرمہ میں المسجدالحرام کے ساتھ ساتھ مملکت بھر کی تمام مساجد میں پیر کوعلی الصباح عیدالفطر کی نمازکرونا وائرس کی وبا کے بعد پہلی مرتبہ مکمل گنجائش کے ساتھ ادا کی گئی ہے۔کعبۃ اللہ میں تین سال کے بعد پہلی مرتبہ لاکھوں فرزندان توحید نے نمازِعید ادا کی ہے۔

سعودی حکومت نے گذشتہ سال اکتوبر کے وسط میں مساجد کو مکمل طور پر کھول دیا تھا اور وہاں دوبارہ پوری صلاحیت کے ساتھ عبادت گزاروں کو داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔تب مملکت نے کووِڈ-19 کوپھیلنے سے روکنے کے لیے نافذالعمل اقدامات میں نرمی کی تھی کیونکہ اس کے یومیہ کیسوں میں مسلسل کمی آنا شروع ہوگئی تھی اور بیشترسعودی آبادی کوپہلے ہی کروناویکسین کی دوخوراکیں لگائی جاچکی تھیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مسجدحرام میں نماز عید ادا کی ہے۔ان کے ساتھ شاہی خاندان کی کئی ایک شخصیات اور اعلیٰ عہدے داروں نے بھی نمازِعید ادا کی ہے۔نمازعید کے بعد خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے معززمہمانوں اور عہدے داروں کواستقبالیہ دیا گیا جہاں انھوں نے شیوخ اوراعلیٰ عہدے داروں کو عید کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے خوش آمدید کہا۔

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ اور دوسری مساجد میں بھی مسلمانوں نے کروناوائرس کی وَبا کے بعد پہلی مرتبہ لاکھوں کی تعداد میں نمازعید ادا کی ہے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ماہ مقدس کے اختتام پر اتوار کی شب ایک نشری خطاب میں تمام اہلِ اسلام کو عید کی مبارک باد دی تھی۔انھوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سب کو مبارک عید کے مقاصد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔اللہ نے عید کو اخلاقیات، ہم آہنگی، بھائی چارے، رواداری اور معافی کی حد بندی کا موقع بنایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اللہ کے فضل سے مملکت نے (کرونا وائرس کی وَبا کے بعد)مسجدِحرام اور مسجدِنبوی ﷺ کو پوری صلاحیت کے ساتھ استعمال کی دوبارہ اجازت دے دی ہےاور ہمیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بڑی تعداد میں عمرہ کرنے والوں، عبادت گزاروں اور دو مقدس مساجد میں آنے والے زائرین کی مدد پربے پایاں خوشی ہوئی ہے۔ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں اس وبا کا سامنا کرنے اور اس کے اثرات کو کم کرنے میں ذمہ داری، سنجیدگی اور اختراع کی اعلیٰ سطح پر کام کرنے کے قابل بنایا‘‘۔

سعودی عرب کے علاوہ بہت سے عرب ممالک میں بھی سوموار کو عید الفطرمذہبی عقیدت واحترام اور روایتی جوش وخروش سے منائی گئی ہے۔عیدالفطر کی یہ تقریبات تین روز تک جاری رہیں گی۔

ہرسال دنیا بھر کے مسلمان رمضان المبارک میں انتیس یا تیس روزے رکھتے ہیں،رات کو نمازتراویح کا اہتمام کرتے ہیں اور یکم شوال المکرم کوعیدالفطرمناتے ہیں۔بڑے شہروں ، قصبوں اور دیہات کی جامع مساجد یا عیدگاہوں میں نمازعید کی ادائی کے بعد خاندان کے افراداوردوست جشن منانے اور تحائف دینے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔بڑے افراد چھوٹے بچّوں کونقدی کی شکل میں عیدی دیتے ہیں۔ وہ کھلونے،نئے کپڑے اور دیگر تحائف بھی دیتے ہیں۔اس کے بعدلذیذ کھانوں کی روایتی دعوتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

عیدالفطرمسلمانوں کا ایک اجتماعی تیوہار ہے اور اس کی خوشیوں میں معاشی طور پرپسماندہ طبقات کو بھی شریک کیا جاتا ہے۔صاحب حیثیت حضرات صدقہ فطرکی صورت میں ان کی مالی اعانت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بیشتر حضرات رمضان ہی میں ضرورت مندوں کو فرض زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں۔