سعودی عرب میں تبلیغی جماعت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ سعودی وزارت اسلامی امور نے کہا کہ اس کام کی ابتداء انڈیا اور پاکستان سے شروع ہوئی اور اب ہر ملک میں پھیل گئی، یہ اسلام کی غلط تشریح کر رہے ہیں یہ ایک بدعت ہے جو تفرقات پیدا کر رہے ہیں جس کی یہاں ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سعودی وزیر برائے اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف ال الشیخ نے کہا کہ مساجدکے مبلغین اور نماز جمعہ کا عارضی اہتمام کرنے والی مساجد اگلے جمعہ کا خطبہ (تبلیغی اور دعوتی گروپ) کے خلاف خبردار کرنے کیلئے مختص کرنے کی ہدایت کی۔خطبہ میں درج ذیل موضوعات شامل ہوں، پہلا نمبر پر اس گروہ کی گمراہی، انحراف اور خطرے کا اعلان اور یہ کہ یہ دہشت گردی کے دروازوں میں سے ایک ہے، خواہ وہ کوئی اور دعویٰ کرے۔ دوسری ان کی نمایاں ترین غلطیوں کا ذکر کریں۔ تیسری معاشرے کے لیے ان کے خطرے کا ذکر کریں۔ چوتھے اور آخری نمبر پر ملک میں متعصب گروہوں بشمول (تبلیغی اور دعوتی گروپ) سے وابستگی ممنوع ہے۔

سعودی وزارت اسلامی امور نے تبلیغی جماعت کو ‘معاشرے کے لیے خطرہ’ اور ‘دہشت گردی کے دروازوں میں سے ایک’ قرار دیتے ہوئے مبلغین سے کہا ہے کہ وہ لوگوں کو اس گروہ کے خلاف خبردار کریں۔

ایک ٹویٹ میں، وزارت نے کہا کہ مساجد میں مبلغین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو تبلیغی جماعت کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے اگلے جمعہ کا خطبہ مختص کریں۔

"اس گروہ کی گمراہی، انحراف اور خطرے کا اعلان، اور یہ کہ یہ دہشت گردی کے دروازوں میں سے ایک ہے، چاہے وہ دوسری صورت میں دعویٰ کرے۔ ان کی سب سے نمایاں غلطیوں کا تذکرہ کریں،” اسلامی امور کی وزارت نے کہا۔

اس نے مزید کہا، "معاشرے کے لیے ان کے خطرے کا ذکر کریں؛ یہ بیان کہ متعصب گروہوں بشمول (تبلیغی اور دعوتی گروپ) کے ساتھ الحاق سعودی عرب میں ممنوع ہے۔

تبلیغی جماعت (سوسائٹی فار اسپریڈنگ فیتھ)، جس کی ابتدا 1926 میں ہندوستان میں ہوئی، ایک سنی اسلامی مشنری تحریک ہے جو مسلمانوں پر زور دیتی ہے کہ وہ سنی اسلام کی خالص شکل کی طرف لوٹیں اور مذہبی طور پر پابند رہیں، خاص طور پر لباس، ذاتی برتاؤ اور رسومات کے حوالے سے۔ . اسے 20ویں صدی میں سب سے زیادہ بااثر مذہبی تحریکوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

دنیا بھر میں تقریباً 350 سے 400 ملین جماعت کے ارکان ہیں، جو اجتماعی طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی توجہ صرف اسلام پر ہے اور وہ سیاسی سرگرمیوں اور مباحثوں سے سختی سے گریز کرتے ہیں۔

اس گروپ کو ایک "اسلامی احیا پسند تنظیم” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس نے نوٹ کیا کہ تبلیغی جماعت "دہشت گردی کی متعدد تحقیقات کے کنارے پر نمودار ہوئی ہے، جس سے کچھ لوگ یہ قیاس کرتے ہیں کہ اس کا غیر سیاسی موقف محض ‘دہشت گردی کی افزائش کے لیے زرخیز زمین’ کو چھپا دیتا ہے۔ جیسے برطانیہ، فرانس اور امریکہ۔

دریں اثنا، تبلیغی جماعت کو بھارت میں 2020 میں لاک ڈاؤن کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر کووِڈ وبائی مرض کی پہلی لہر کے دوران دہلی کے نظام الدین علاقے میں ایک بڑے اجتماع کے انعقاد پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، جماعت مغربی یورپ، افریقہ اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے تقریباً 150 ممالک میں کام کرتی ہے۔

تبلیغی جماعت کی جنوبی ایشیائی ممالک بالخصوص انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، پاکستان اور تھائی لینڈ میں بہت زیادہ پیروکار ہیں۔

سعودی عرب میں سلمان خان کا شو

دراصل فلم اسٹار سلمان خان اور دی بنگ ٹیم سعودی عرب پہنچی ہے جہاں وہ سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ریاض سیزن میں پرفارم کریں گے۔ سلمان خان جمعہ دس دسمبر کو ریاض سیزن میں پرفارم کریں گے۔ ریاض سیزن میں 7500 پروگرام ہو رہے ہیں۔ ان میں 70عرب کنسٹرٹ 6 انٹنیشنل کنٹسرٹ انٹرنیشنل شوز اور 350 تھیٹر شامل ہیں

سپرا سٹار نے کہا کہ ’ہم اپنی طرف سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم یہاں بار بار آئیں گے، ہم آپ کی تفریح کے لیے پوری کوشش کریں گے، ہم یہاں اپنی فلمیں لائیں گے، ہم یہاں اپنے کنسرٹ کریں گے، ہم آپ کو معیاری، اچھی، صاف ستھری اور لطف اندوز ہونے والی تفریح فراہم کریں گے۔

‘ سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سلمان خان نے کہاکہ ’میں چند ماہ قبل دمام آیا تھا، میں نے اس وقت تبدیلی دیکھی تھی اور میں ان چند مہینوں میں ایک بار پھر زبردست تبدیلی دیکھ رہا ہوں۔ حقیقت میں تبدیلی یہ ہے کہ ہم پہلی بار یہاں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میں تمام چہروں پر تبدیلی دیکھ رہا ہوں، میں آپ کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھ رہا ہوں اور آپ کے چہرے پر مسکراہٹ سے بہتر کیا ہو سکتا ہے۔

تبلیغی جماعت پر پابندی کی حقیقت کیا ہے ؟

اس حوالے سے سعودیہ میں مقیم ایک عالم دین نے بتایا کہ سعودیہ عرب کے قوانین کے مطابق آج سے 43 برس قبل سے سعودیہ کی ہر مسجد میں علمائے کرام سرکار کی جانب سے دیا گیا خطبہ ہی پڑھنے کے پابند ہیں، اپنی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی خطبہ سعودی علمائے کرام نہیں دے سکتے، جب یہاں کے اپنے علمائے کرام حکومت کی مرضی کے بغیر خطبہ نہیں دے سکتے تو باہر کی تبلیغی سرگرمیوں کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب میں کسی بھی طرز کے تبلیغی کام پر 43 برس قبل پابندی عائد کی گئی تھی، دستور کے مطابق ہر سال جمعہ کے لئے خطبا کو بیانات کے عنوان دیئے جاتے ہیں، جس کے باعث یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے اور نہ قابل پریشانی امر ہے۔ اندرون خانہ تبلیغ کا کام جاری ہے، بس مجمع لگا کر کام کی ترتیب نہیں ہے۔ سعودی گزٹ کی ٹویٹ کو دیکھ کر لوگ پریشان ہیں، جبکہ سعودیہ میں اس پر تشویش نہیں پائی جاتی۔اس سے قبل سعودی حکومت نے 18اپریل 2020کو ابھی ایک نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس میں وزارت اسلامی امور نے ملک کی تمام مساجد کے علماء کرام کو ہدایات دی تھیں کہ وہ نماز جمعہ کے خطبہ میں بھی عوام کو نصیحت کریں کہ وہ تبلیغی نصاب اور تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں سے دوررہیں۔ادھر سوشل میڈیا پر صارفین نے سعودی عرب کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایک شہر آباد کرنے کے لئے معاہدہ ہو چکا ہے اور دوسری جانب تبلیغی جماعت پر پابندی کا حکم دے رہا ہے جس پر حیرانگی نہیں ہے، ایک اور صارف نے کہا ہے کہ اب پاکستان کی مذہبی جماعتیں اپنا نصاب کہاں سے لائیں گی؟،بعض صارفین کا کہنا تھا کہ سعودیہ اب خواتین کو لبرلز بنا رہا ہے ایسے میں تبلغ پر پابندی تو لگائیں گے۔واضح رہے کہ تبلیغی جماعت عالمی سطح پر کام کرنے والی مولانا محمد الیاس کاندھلوی ؒ کی قائم کردہ ایک اسلامی،اصلاحی جماعت ہے۔ یہ جماعت بنیادی طور پر فقہ حنفی کے دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔تبلیغی جماعت کی ابتداء سنہ 1926میں ہندوستان(میوات) سے ہوئی تھی۔

تبلیغی جماعت کا نیٹ ورک پوری دنیا میں موجود ہے، جو بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں دنیا کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرتی ہے جہاں بلا شبہ لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔عالمی رپورٹس کے مطابق تبلیغی جماعت سے 350 سے 400 ملین افراد وابستہ ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔