• 425
    Shares

ریاض : سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ان کا ملک اقوام متحدہ کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور وہ اس عالمی ادارے کے مقاصد اوراصولوں پر کاربند ہے،جن کا مقصد بین الاقوامی امن وسلامتی کو برقرار رکھنا ہے،وہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے، وہ ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا حامی ہے اور ان کی خودمختاری اورآزادی کا احترام کرتاہے۔وہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نفرت اوراخراج پر مبنی انتہا پسندانہ نظریے ،دہشت گرد گروہوں اور فرقہ وار ملیشیاؤں کی کارروائیوں کا مقابلہ کررہا ہے۔یہ انتہاپسند دہشت گرد گروہ لوگوں اور قوموں کو تباہ کرتے ہیں۔شاہ سلمان نے کہا کہ’’ایران ایک ہمسایہ ملک ہے اور سعودی عرب کوامید ہے کہ اس کے ساتھ ابتدائی مذاکرات سے اعتماد کی فضا پیداکرنے کے لیے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے اور بین الاقوامی قانونی اصولوں اور قراردادوں کی پاسداری کی بنیاد پردونوں ممالک کی عوام کی امنگوں کے مطابق دوطرفہ تعاون اور تعلقات کی راہ ہموارہوگی۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ’’ ایران دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے گااور دہشت گرد گروہوں اور فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی حمایت سے دستبردار ہوجائے گا۔شاہ سلمان نے مزید کہا کہ مملکت مشرق اوسط کے خطے کو بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک بنانے کی اہمیت پرزوردیتی ہے۔وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیارکرنے سے روکنے کے مقصد سے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتی ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے اقدامات پراپنی گہری تشویش کا اظہارکرتی ہے کیونکہ یہ اس کے عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے منافی ہیں اوراس کے ہمیشہ سے اعلان کردہ موقف کے بھی منافی ہیں کہ اس کا جوہری پروگرام تو پرامن مقاصد کے لیے ہے۔سعودی فرمانروا نے مزید کہا کہ مملکت کی خارجہ پالیسی امن واستحکام کی پائیداری، مکالمیاور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہیاور ایسے حالات فراہم کرنے کو بہت اہمیت دیتی ہے جو مشرق اوسط اور دنیا بھرمیں بہترکل اور ترقی کی ضمانت دیتے ہوں اور لوگوں کی خواہشات کے حصول میں معاون ہوں۔انھوں نے مصر اورسوڈان کے درمیان نشاۃ ثانیہ ڈیم کے تنازعہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس مسئلہ کے ایسے حل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے آبی حقوق کا تحفظ ہو۔انھوں نے اقوام متحدہ کے زیراہتمام لیبیا اور شام میں جاری بحرانوں کے پرامن حل اور افغانستان میں امن واستحکام کے حصول کی تمام کوششیں بروئے کارلانے کی ضرورت پر زوردیا۔

ایران کا نیوکلیئر پروگرام روکیں گے : شاہ سلمان
ریاض : سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا ہیکہ سعودی عرب ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ریکارڈ شدہ تقریر میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ سعودی عرب ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا جو ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے لیے ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے اور اسی بنیاد پر ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔سعودی فرماں روا کا کہنا تھا کہ ایران پڑوسی ملک ہے اور ہم امید کرتے ہیںکہ ہماری ابتدائی بات چیت میں وہ خودمختاری کا احترام اور اندرونی معاملات میں مداخل نہ کرنے کی بنیاد پر مضبوط اعتماد قائم کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب شدت پسندانہ سوچ کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہیکہ سعودی فرماں روا کی جانب سے اقوام متحدہ میں یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب عالمی رہنما 2015 کے جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت پر زور دے رہے ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں