العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔( محمود صلاح الدین)
دولت سے متعلق مطالعات اور اعدادو شمار جاری کرنے والی ‘نیو ورلڈ ویلتھ فاؤنڈیشن’ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات 2021 میں مشرق وسطی میں آبادی میں نجی سطح پر دولت رکھنے والے لوگوں میں سر فہرست ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2021ء میں امارات میں 8 کھرب 70 ارب ڈالر کی رقم نجی شعبے کے پاس ہے۔ مشرق وسطیٰ‌میں نجی دولت کے اعتبار سے دوسرا نمبر اسرائیل کا ہے۔ اسرائیل میں نجی سطح پر دولت کا حجم 7 کھرب 84 ارب ڈالر ہے۔ سعودی عرب کا اس میدان میں 5 کھرب 42 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرا نمبر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں ایک ملین ڈالر یا اس سے زاید دولت رکھنے والے افراد کے اثاثوں کی مالیت 4 کھرب 30 ارب ڈالر ہے۔ ان میں سے 3 لاکھ 90 ہزار دولت مند مشرق وسطیٰ میں ہیں۔ ایک لاکھ 82 ہزار ایسے دولت مند ہیں جن کے کم سے کم اثاثے 10 ملین ڈالر ہیں۔ 100 ملین ڈالر یا اس سے زائد دولت رکھنے والوں‌کی تعداد 100 ملین ڈالر ہے جب کہ 75 ارب پتیوں میں سے ہرایک کی کم سے کم ایک ارب ڈالر اور سے زیادہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والے اعدادود شمار میں‌بتایا گیا ہے کہ اثاثوں میں نقد رقم، بنک بیلنس اور املاک کی شکل میں اثاثے شامل ہیں۔


امارات میں 83 ہزار 400 افراد ایک ملین ڈالر یا اس سے زاید دولت کے مالک ہیں۔ 3600 کروڑ پتیوں کے پاس کم سے کم 10 ملین ڈالرہیں جب کہ ارب پتیوں کی تعداد 13 ہے۔

سعودی عرب میں کروڑ پتی افراد کی تعداد 4 ہزار 700 ہے۔ ان کے پاس کم سے کم ایک ملین ڈالر کے اثاثے ہیں۔1960 کے پاس 10 ملین ڈالر ہیں جب کہ 8 ارب پتی ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مجموعی طور پر کروڑ پتی افراد کی تعداد 123 ہزار 800 ہے اور ان کی مجموعی دولت ایک کھرب 42 ارب ڈالر ہے۔

نجی دولت کے اعتبار سے ترکی 4 کھرب 82 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہےترکی میں 31 ہزار 600 افراد کے پاس کم سے کم ایک ملین ڈالر کے اثاثے ہیں۔1580 کے پاس 10 ملین ڈالر اور 10 ارب پتی ہیں۔ حیران کن طور پر اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنے والے ایران کا نجی دولت میں پانچواں نمبر ہے۔ ایران کویت اور قطر سے بھی آگے ہے۔ کویت میں نجی دولت کا اندازہ 3 کھرب 95 ارب اور قطر میں 2 کھرب 20 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔