• 425
    Shares

سائنس دانوں نے سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے اُم جرسان میں انسانوں اور جانوروں کی ہزاروں سال قدیم ہڈیاں دریافت کی ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ حرات کیبار لاوا فیلڈ میں واقع ڈیڑھ کلومیٹر لمبی سرنگ میں دریافت ہونے والی ہڈیوں کو دھاری دار لگڑ بھگے گذشتہ سات ہزار سال کے دوران جمع کرتے رہے ہیں۔

جریدے آرکیالوجیکل اینڈ اینتھروپولوجیکل سائینس (Archaeological and Anthropological Sciences) میں گذشتہ ہفتے چھپنے والی ریسرچ کے مطابق ہڈیاں ’بہت خوبصورتی سے محفوظ‘ حالت میں ہیں اور ان میں انسانوں سمیت مویشیوں، گھوڑوں، اونٹوں اور چوہوں کی بھی ہڈیاں شامل ہیں۔میکس پلینک انسٹی ٹیوٹ فار دا سٹڈی آف ہیومن ہسٹری کے سائنسدان میتھیو سٹیورٹ نے اس دریافت کے بارے میں ایک ٹوئٹر تھریڈ میں لکھا: ’ہزاروں سال کے دوران ہڈیوں کے جمع ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاوا ٹیوب ہڈیوں کے تحفظ کے لیے بہترین ماحول مہیا کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق: ’ایک ایسے خطے میں جہاں ہڈیوں کا تحفظ بہت ہی ناقص ہے، اُم جرسان جیسی جگہیں تحقیق کے لیے ایک نیا دلچسپ ذریعہ اور موضوع پیش کرتی ہیں۔ ‘
سائنس دان اس تحقیق میں دریافت شدہ باقیات اور ہڈیوں کی اقسام، ان کی تعدد اور مقامات کے مطالعے کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انہیں گوشت خور لگڑ بھگوں نے یہاں منتقل کیا تھا۔

سٹیورٹ نے لکھا: ’یہ جانور ہڈیوں کو جمع کرنے کا شوقین ہوتا ہے۔ وہ انہیں دوردراز جگہوں سے لاکر غاروں میں جمع کرتا رہتا ہے تاکہ انہیں بعد میں استعمال میں لاسکے اور نوعمر لگڑبھگوں کو خوراک کے طور پر دے سکے یا انہیں ذخیرہ کرسکے۔‘سائنس دانوں نے اس تحقیق میں اصل تو لگڑبھگے کی عادات وخصائل پر توجہ مرکوز کی ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے شائع شدہ مضمون میں یہ نتیجہ بھی نکالا ہے کہ’گدھے ہزاروں سال سے اس خطے میں ایک اہم پالتو جانور کے طور پر موجودہیں۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔