اقوام متحدہ۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس نے سعودی عربیہ او ریمن میں شہری سہولتوں کو نشانہ بناکر کئے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔ایک بیان میں سکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن داوجریک نے کہاکہ ”مذکورہ سکریٹری جنرل یمنی آبادی کو ایک حساس لائف لائن فراہم کرنے والے ہودیدہ بندرگاہ اور ہدویدہ شہر پر جاری فضائی حملوں کے خبروں کے متعلق تشویش کا اظہار کیاہے“۔

مذکورہ یواین دفتر برائے ہیومنٹریشن کوارڈنیشن (او سی ایچ اے) نے کہاتھا کہ 23ملین سے زائد یمن بھوک مرے‘ امراض اور دیگر جان کو خطرے والے حالات سے دوچار ہیں کیونکہ ملک میں بنیادی خدمات اور معیشت دونوں بری طرح تباہ ہوگئے ہیں۔

زنہو نیوز ایجنسی کی جانب سے دے گئی خبروں کے مطابق یمن میں حوثی دستے جو انصار اللہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں نے سعودی عربیہ کی سیول اور توانائی سہولتوں پر جمعہ کے روز حملہ کیاتھا جس میں جدہ میں تیل کا ذخیرہ بھی شامل ہے جس کی وجہہ سے بڑے پیمانے پر آگ لگی اورآسمان پر سیاہ بادل چھا گئے تھے۔

سعودی کی حمایت والی نو ممالک کی اتحادی فوج جس یمن کی سرکاری حکومت کی مدد کررہی ہے کہ حوثیوں کے ساتھ لڑائی کے جواب میں تین اتحادیوں کے ساحلی بندرگاہیں‘ ہودیدہ‘ سالیف اور صناء کو نشانہ بنایاجس میں اٹھ شہری مارے گئے مرنے والوں میں پانچ بچے اوردو عورتیں شامل تھیں اور یہ واقعہ ہفتہ کے روز پیش آیاہے۔

دوجاریک نے مزیدکہاکہ ”صنا ء میں یواین اسٹاف رہائشی کمپاؤنڈ بھی ان فضائی حملوں میں تباہ ہوا ہے۔ مذکورہ ترجمان نے اپنی بات کوجاری رکھتے ہوئے کہاکہ یو این چیف منسٹر نے ’جوابدہی کو یقینی بنانے کے لئے ان واقعات میں شفاف اور تیزایک تحقیقات“ کی بات کہی ہے۔

اب جبکہ کشیدگی اٹھ ویں سال میں داخل ہوگئی ہے‘ مذکورہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے تمام فریقین سے بشمول امتیاز‘ تناسب او راحتیاطی اصولوں کے ”زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے‘ فوری طور پر کشیدگی کو کم کرنے‘ دشمنی بند کرنے‘ بین الاقوامی اور انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنے کی اپیل کی ہے“۔