!-- Auto Size ads-1 -->

ریاض، 15 دسمبر (یو این آئی)سعودی عرب سال 2002 کے عرب امن اقدام کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کو تیار ہے۔یہ دعوی ترکی میڈیا نے کیا ہے۔ترک نشریاتی ادارے اناطولو کی رپورٹ کے مطابق مملکت کے اقوامِ متحدہ کے لیے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے روزنامہ عرب نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ریاض عرب اقدام برائے امن کے حوالے سے پُرعزم ہے۔

یہ اقدام 1967 میں قبضہ کیے گئے تمام علاقوں سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا کہتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب کی سرکاری اور حالیہ پوزیشن یہ ہے کہ اسرائیل جتنی جلدی 2002 میں پیش کردہ سعودی امن اقدام کے عناصر پر عملدرآمد کرے ہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو تیار ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب اسرائیل اس اقدام پر عملدرآمد کرلے گا اسے نہ صرف سعودی عرب بلکہ اسلامی تعاون تنظیم کے تمام 57 ممالک اور پوری مسلم دنیا تسلیم کرلے گی۔مندوب نے کہا ہے کہ ’وقت درست یا غلط کو تبدیل نہیں کرتا، اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیر قانونی ہے چاہے وہ کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو‘۔