جاریہ سال 60 ہزار عازمین حج کرسکیں گے ،مسلسل دوسرے سال بھی بیرونی عازمین کو مایوسی
ریاض :سعودی عرب نے کورونا وبا کے باعث مسلسل دوسرے سال حج کو مملکت کے شہریوں اور سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزرائے صحت اور حج نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال مجموعی طور پر 60 ہزار شہریوں اور رہائش پذیر افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔بیان میں زور دیا گیا کہ حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مند شخص کا کسی بھی لاعلاج مرض میں مبتلا نہ ہونا، عمر 18 سے 65 سال کے درمیان ہونا اور سعودی عرب کے ویکسی نیشن اقدامات کے مطابق ویکسینیٹڈ ہونا ضروری ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘یہ فیصلہ سلطنت کی جانب سے حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کی بنیاد پر کیا گیا ہے جبکہ انسانی صحت اور حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے’۔واضح رہے کہ 23 مئی کو سعودی عرب نے سال 2021 کے حج کے لیے کورونا وبا کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اور شرائط کا اعلان کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ 18 سال سے زائد عمر کے 60 ہزار ملکی اور غیر ملکی عازمین حج کی سعادت حاصل کر سکیں گے۔سعودی وزارت صحت کی جانب سے 9 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی گئی تھیں جن میں حج کے حوالے سے مختلف شرائط کا ذکر کیا گیا تھا۔قبل ازیں سعودی عرب نے حج کے سلسلے میں غیر ملکی زائرین کی آمد پر پابندی عائد کرنے پر غور شروع کردیا تھا۔خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث سعودی حکومت نے گزشتہ برس بھی حج کو محدود رکھا تھا اور اس میں صرف 10 ہزار عازمین ہی شریک ہوئے تھے جو مملکت میں مقیم تھے۔اس وبا سے قبل سالانہ 25 لاکھ افراد حج کے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ کرتے تھے جبکہ پورا سال عمرے کی ادائیگی بھی جاری رہتی تھی جس کی بدولت سعودی کی معیشت کو سالانہ 12 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا تھا۔ سعودی حکام کے اس فیصلہ سے بیرونی عازمین حج کو مایوسی ہوئی ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ’تمام برادر اسلامی ملکوں نے سعودی عرب کے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اسے سراہا ہے‘۔ وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کی کم سے کم ایک خوراک حج کی ادائیگی کی شرط ہے۔میڈیا کے مطابق حج کے ضوابط کی وضاحت کے لئے ریاض میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’محفوظ حج کے لئے کوشش کریں گے‘۔’سعودی عرب کو وباؤں سے نمٹنے کا طویل تجربہ ہے جس سے حج کے دوران فائدہ اٹھایا جائے گا‘۔


اپنی رائے یہاں لکھیں